مریم نواز کی سیاست کا پوسٹمارٹم

نوازشریف کی لندن روانگی، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جیل جانے کے بعد مریم نواز کیلئے کھلا میدان ہے۔ مسلم لیگ ن کی باگ دوڑ اب مریم نواز کے ہاتھوں میں آگئی ہے، مریم نواز ہی اب ن لیگ سے متعلق سارے فیصلے کررہی ہیں۔ اسمبلیوں سے استعفے دینے،فوج اور پی ٹی آئی کے خلاف کیسی تقریریں کرنی ہیں، مینارپاکستان جلسہ، ریلیاں ان سب کے فیصلے مریم نواز ہی کررہی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز کیسی سیاست کررہی ہیں؟ کیا وہ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کررہی ہیں ؟ حکومت کو ناکوں چنے چبوارہی ہیں یا حکومت کا ہی فائدہ کررہی ہیں؟ مریم نواز کی سیاست کو سمجھنا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کن لوگوں کے گرد گھری ہیں؟ انکے مشیر کیسےہیں، وہ اپنی تقاریر، ٹویٹس میں کیا باتیں کرتی ہیں ؟کونسی عادات مریم نواز میں ہیں؟ مریم نواز کی سیاست پانچ چیزوں کے گرد گھومتی ہے۔۔ غصہ اورنفرت، جھوٹ ، حد سے زیادہ چالاکی اور خود اعتمادی، غلبہ، ویژن سے عاری، ضرورت سے زیادہ نمائش اور خودپسندی

غلبہ :
مریم نواز کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں پر غلبہ چاہتی ہیں ، چاہے وہ رشتہ دار ہوں، پارٹی رہنما یا کوئی اور۔۔ حمزہ شہباز ، شہباز شریف کے جیل جانے کے بعد مریم نواز اس وقت ن لیگ کی سیاست پر غالب ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ مریم نواز حمزہ شہباز اور شہباز شریف پر بھی غالب آچکی ہیں، وہ جیل میں ہیں تو تمام فیصلے مریم نواز کرتی ہیں۔ جب وہ باہر تھے تب بھی مریم نواز نے ہی کئی فیصلے کئے تھے جیسے جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل جس نے ن لیگ کو فائدہ دینے سے زیادہ نقصان پہنچایا اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ ویڈیو بنانے میں مریم نواز کے اپنے ساتھی ناصر بٹ اور دیگر شامل تھے۔

مریم نواز نہ صرف اپنے چچا اور کزن کو پیچھے کرکے آگے بڑھ چکی ہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف پر بھی سیای طور پر حاوی ہیں اور وہ بھی مریم نواز کےفیصلوں کے پابند ہیں۔ مریم نواز کے کئی فیصلے ن لیگ کیلئے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں جیسے حالیہ مینارپاکستان جلسہ، استعفے دینے کا فیصلہ،منحرف اراکین اسمبلی کو دھمکیاں اور کارکنوں کو انکے گھروں کا گھیراؤ

غصہ اور نفرت :
اقتدار ہاتھ سے جانے، نوازشریف کی نااہلی،سزا اور اپنے جیل جانے کے بعد مریم نواز میں غصہ اور نفرت بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ مریم نواز اپنی تقریروں ، ٹویٹس اور پریس کانفرنسز اپنا غصہ اس وقت عدلیہ، فوج اور وزیراعظم عمران خان پر نکال رہی ہیں، کبھی مریم نواز سپریم کورٹ کےججز پر برہم دکھائی دیتی ہیں، کبھی آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور عاصم باجوہ پر الزام تراشی کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی وزیراعظم عمران خان کو صلواتیں سناتی نظر آتی ہیں۔

غصے کی وجہ سے مریم نواز ہوش کی بجائے جوش سے کام لے رہی ہیں جس کا خمیازہ پوری ن لیگ کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ غصے میں فوج پر الزام تراشی کا فائدہ وزیراعظم عمران خان کو ہوا اور اب فوج اور حکومت میں مثالی تعلقات کی وجہ مریم نواز ہیں کیونکہ مریم نواز نے اس فوج کیلئے ن لیگ سے بات کرنے کا راستہ بند کردیا جو فوج انہیں اقتدار میں لے کر آتی رہی ہے اور مریم نواز کو ڈان لیکس جیسے سکینڈل سے بچاتی رہی ہے۔

مریم نواز کے غصے میں بیان بازی پر عدلیہ کے ایک حصے میں جو نرم گوشہ تھا وہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اسکی ایک مثال نوازشریف کو اشتہاری قراردینا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام قانونی فارمیلٹی پوری کرکے نوازشریف کو اشتہاری قرار دیا ۔

حالیہ دنوں میں معروف کالم نگار اور صحافی ہارون رشید نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مریم نواز کلیجہ چبانے والی خاتون ہیںَ ، اسکا بس نہیں چلتا کہ فوج کو کھاجائے، اسکی سیاست غصہ، انتقام، نفرت سے بھری پڑی ہے۔

غلط فیصلے:

تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کے غلط فیصلے نہ صرف انکی بلکہ انکے والد اور مسلم لیگ ن کی سیاست کو بہت زیادہ ڈیمیج کررہے ہیں۔ مریم نواز کا استعفوں کا فیصلہ انتہائی غلط ثابت ہوا ، ن لیگی اراکین اسمبلی میں یہ چہ میگوئیاں ہونےلگیں کہ اگر ہم استعفے دیدیتے ہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اگر ضمنی الیکشن ہی لڑنے ہیں تو استعفے دینے کا کیا فائدہ؟ اگر ضمنی الیکشن نہیں لڑتے تو مخالفین کو کھلامیدان دیں گے جس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

استعفے اسپیکر کے پاس پہنچنے کے بعد مریم نواز نے اپنے 2 اراکین کو حکم دیا کہ وہ جاکر استعفوں کی تصدیق کروائیں کہ استعفے انہی کے ہیں لیکن دونوں اراکین اسمبلی اسپیکر کے پاس جاکر مکر گئے اور استعفے واپس لے لئے۔

اسی طرح مریم نواز کا لاڑکانہ بے نظیر کی برسی پر جانے کا فیصلہ بھی ن لیگ کیلئے غلط ثابت ہوا، مریم نواز اگر تقریر میں صرف حکومت پر تنقید اور اپنے والد پر رہتیں تو ٹھیک تھا لیکن مریم نواز نے حد کراس کردی اور بے نظیر اور بھٹو کے مزار پر جاکرپھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کردی حالانکہ انکے والد ماضی میں بھٹو کو پاکستان توڑنے والا شخص اور بے نظیر کو سیکیورٹی رسک کہتے رہے۔ اس سے قبل مریم نواز مراد میں پیپلزپارٹی زندہ باد کا نعرہ بھی لگاچکی تھیں۔

مریم نواز کے فوج کے خلاف بیانئے کو بھی عوام میں پذیرائی نہ مل سکی اور اسکا الٹا ن لیگ کو نقصان اٹھانا پڑا ۔۔

حد سے زیادہ چالاکی اور خود اعتمادی

حد سے زیادہ چالاکی اور خوداعتمادی نے جتنا ن لیگ کی سیاست کو نقصان پہنچایا، اتنا شاید ن لیگ کو کسی نے نہ پہنچایا ہو، مریم نواز کی حد سے زیادہ خوداعتمادی اور چالاکی نوازشریف کو لے ڈوبی۔ پانامہ کیس میں کیلبری فونٹ، قطری خط، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ، میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں مریم نواز کی ہی اختراع تھی۔ یہی باتیں نوازشریف کے گلے پڑی اور نوازشریف نااہل ہوکرنہ صرف وزارت اعظمیٰ سے ہاتھ دھوبیٹھے بلکہ انہیں بیٹی کے ساتھ جیل بھی جانا تھا۔

پانامہ کیس کے دوران جب عدالت شریف خاندان سے کوئی ڈاکومنٹ مانگتی تو وہ اگلے دن شریف خاندان کے وکلاء ڈاکومنٹ عدالت میں پیش کردیتے جس پر عدالت کو کہنا پڑا کہ ہم جو بھی ڈاکومنٹ مانگتے ہیں آپ تیار کرکے لے آتے ہیں۔

نوازشریف کی وزارت اعظمیٰ کےدوران بھی مریم نواز نے اپنے والدکیلئے کئی مشکلات پیدا کیں جس کی ایک مثال ڈان لیکس ہے جس کی وجہ سے مریم نواز اور نوازشریف مشکل میں آئے لیکن جنرل راحیل شریف کی وجہ سے مریم نواز بچ گئیں لیکن مریم نواز نے اس پر ہی بس نہیں کیا پھر پانامہ کیس میں اپنی ضرورت سے زیادہ چالاکی وجہ سے اپنے والد کو مشکل میں ڈالا اور اسکے بعد جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے نہ صرف خود بلکہ اپنے والد، چچا شہباز شریف اور لیگی رہنماؤں کیلئے بھی مشکلات پیدا کیں۔

غلط بیانی:

بیشتر مواقعوں پر مریم نواز نے غلط بیانی کی لیکن مریم نواز کی بدقسمتی ہے کہ وہ جو غلط بیانی کرتی ہیں وہ جلد ہی ثابت بھی ہوجاتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر مریم نواز نے غلط بیانی کی کہ میری لندن تو کیا پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں اور بعد میں مریم نواز کی پاکستان میں بھی جائیدادیں نکل آئیں یہاں تک نیب رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مریم نواز زمانہ طالب علمی سے ہی اتفاق شوگر ملز کی شئیر ہولڈر نہیں۔

جب مریم نواز کو نیا نیا سیاست میں متعارف کرایا گیا تو مریم نواز نے اپنی تعلیمی قابلیت یہ بتائی کہ وہ لندن سے پی ایچ ڈی پولیٹکس سائنس کررہی ہیں۔مریم نواز کا یہ دعویٰ 2012 کا ہے، 8 سال ہوگئے لیکن پی ایچ ڈی نہیں ہوئی بلکہ ڈاکٹر یاسمین راشد مریم نواز کی تعلیمی قابلیت سے متعلق کئی انکشافات سامنے لے آئی تھیں، آپ بھی سنئے

مریم نواز نے حالیہ دنوں میں بھی کئی غلط بیانیاں کیں جو بعدازاں جھوٹ ثابت ہوئیں جیسے کراچی میں بیڈروم کا دروازہ توڑنا، چینی 130 روپے کلو، روٹی 30 روپے کی، آٹا 100 روپےکلو سے زائد وغیرہ۔۔ سوشل میڈیا صارفین نے مریم نواز کی ان غلطیوں کا خوب پوسٹمارٹم کیا اور حقائق کے ساتھ مریم نواز کے دعوؤں کو جھٹلایا۔

مریم نواز نے یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی عمران خان اپنی والدہ کے جنازے میں شریک نہیں ہوا جس پر تحریک انصاف کے حامی جنگ اخبار کے 1985 کے حوالے سامنے لے آئے جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنی والدہ کےجنازے میں شریک تھے۔ مریم نواز جلسوں میں یہ سوال بھی پوچھتی رہیں کہ مشرف کو کس نے باہر بھجوایا؟ حالانکہ مشرف کو انکی اپنی ن لیگ کی حکومت نے ای سی ایل سےنام خارج کرکے باہر بھجوایا تھا۔

ویژن سے عاری:

مریم نواز کے پاس پارٹی کی مکمل باگ دوڑ ہے، وہ حکومت کو گھر بھجواکر ن لیگ کی حکومت لانا چاہتی ہیں لیکن انکے پاس کوئی ویژن اور پلان نہیں ہے کہ انکی حکومت دوبارہ اقتدار میں آگئی تو وہ کیا کریں گی؟ مریم نواز یہ تو کہتی ہیں کہ حکومت نے معیشت تباہ کردی، مہنگائی کردی، بیروزگاری کردی لیکن مریم نواز یہ نہیں بتاسکیں کہ اگر انکی حکومت آئے ، وہ وزیراعظم بن گئیں تو وہ کیسے معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گی؟ کیسے مہنگائی اور بیروزگاری کم کریں گی؟ کیسے کشمیر کا مسئلہ حل کریں گی؟ کیسے تعلیم ، صحت ، پولیس کے شعبوں میں ریفارمز لائیں گی؟ خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ عام آدمی کی زندگی بدلنے کیلئے اسکے پاس کیا پلان ہے؟

مریم نواز کی حالیہ تقریروں اور گلگت بلتستان کمپین کو دیکھیں تو مریم نواز نے عام آدمی کے ایشوز کو حل کرنے کیلئے کوئی بات نہیں کی، گلگت بلتستان الیکشن کمپین میں نہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کیلئے کوئی پلان دیا، نہ کوئی منشور دیا بلکہ حکومت پر الزام تراشی، اپنی اور اپنے والدکی مظلومیت کا رونا روتی رہیں او رکسی حد تک نوازشریف کے کام گنواتی رہیں کہ فلاں سڑک ، موٹروے نوازشریف نے بنوائی۔۔پوری الیکشن کمپین میں مریم کی طرف سے کوئی پلان سامنے نہیں آیا۔

بلاول کو دیکھیں تو وہ لوگوں کو امید دلاتے ہیں چاہے سچی ہو یا جھوٹی، کچھ نہ کچھ اپنا پلان بتاتے ہیں کہ انہیں اقتدار ملا تو وہ یہ کریں گے جبکہ اسکے مقابلے میں مریم نواز نہ عام آدمی کو امید دلانے کیلئے کوئی پلان بتاسکی ہیں ، نہ منشور دے سکی ہیں بس مریم نواز کا سارا محور اپنی اور اپنے والد کی ذات، فوج، حکومت پر تنقید پر ہے۔

ضرورت سے زیادہ نمائش اور خودپسندی

مریم نواز بہت زیادہ خودپسند اور نرگسیت کا شکار ہیں، اپنے آپکو وہ مختلف طریقوں سےپیش کرتی اور کارکنوں، رہنماؤں سے کرواتی ہیں، مریم نواز اسکے لئے اپنے ٹویٹس، اپنے لباس کا سہارا لیتی ہیں، کبھی خود کو مادرملت، دختر پاکستان قرار دلواکر، کبھی لاہور کی بیٹی قرار دیکر ۔ مریم نواز کے ٹویٹس کا جائزہ لیں تو وہ اکثر اپنی تصاویر پیش کرتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خودپسندی اور نرگسیت کا شکار ہیں جیسے مریم نواز گلگت بلتستان الیکشن کمپین کیلئے گئیں تو استور سے ٹویٹ میں خود کو مریم استوری قراردیا، دوسرے ٹویٹ میں حلیمہ سلطان والا روپ دھارا، کبھی اپنے کپڑوں پر نوازشریف کی تصاویر بنواکر۔

دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتےہیں کہ وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں، مریم نواز کی خودپسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ اکثروبیشتر بڑے بڑے فیصلے خود کرجاتی ہیں اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

مریم نواز کن لوگوں میں گھری ہیں؟ اسکے مشیر کون ہیں؟

یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مریم نواز کن لوگوں میں گھری ہیں؟ اسکے مشیر کون ہیں؟کون کون صحافی اسکا حامی ہے؟ اگر دیکھا جائے تو مریم نواز کی حامیوں میں کچھ صحافی خواتین شامل ہیں جن میں ثناء بچہ، بینش سلیم، غریدہ فاروقی، گل بخاری ، عاسمہ شیرازی شامل ہیں۔ مردوں میں عمار مسعود وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پارٹی میں حنابٹ، عظمیٰ بخاری، مریم اونگزیب مریم نواز کے بہت قریبی سمجھی جاتی ہیں جبکہ مرد سیاستدانوں میں رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی،پرویز رشید شامل ہیں۔

ان صحافیوں کے صحافتی کیرئیر کا جائزہ لیں تو ثناء بچہ کئی چینلز پر اینکر کے طور پر کام کرچکی ہیں اور کئی چینلز سے ریٹنگ نہ ملنے پر فارغ ہوچکی ہیں جس کے بعد ثناء بچہ نے فلم انڈسٹری جوائن کی لیکن وہاں سےبھی ناکامی کے بعد دوبارہ صحافت کی طرف آگئیں۔ ثناء بچہ تحریک انصاف کی سخت ناقد ہیں۔ کچھ روز قبل ایک شو میں وہ دُلا بھٹٰ کا نام بھی ٹھیک طریقے سے نہ لے سکیں اور دُلا بھٹی کو انگریزوں کا مخالف قرار دیدیا حالانکہ دُلا بھٹی برصغیر پر انگریزوں کے قبضے سے کئی سوسال پہلے فوت ہوچکا تھا۔

دوسری مریم نواز کی حامی غریدہ فاروقی ہیں جو کئی چینلز بدل چکی ہیں، کچھ سال پہلے غریدہ فاروقی پر ایک کمسن ملازمہ پر تشدد اور حبس بے جا کا الزام لگا اور ایف آئی آردرج ہوئی لیکن یہ کیس کسی نہ کسی طرح داخل دفتر ہوگیا۔اسی طرح غریدہ فاروقی کو سپریم کورٹ میں بھی مہمند ڈیم کے ایشو پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت نے غریدہ فاروقی سے پیپرا کا مطلب پوچھا اور غریدہ فاروقی جواب نہ دے پائیں۔ غریدہ فاروقی نے مہندڈیم کے ٹیندر کو تحریک انصاف کی کرپشن ثابت کرنے کی کوشش کی اور پورا پروگرام کرڈالا تھا جس پر انہیں عدالت نے بلالیا۔

اسی طرح گل بخاری فوج کی سخت مخالف ہیں اور فوج ، حکومت اور اپنے مخالفوں کو گالی دیتی ہیں جبکہ عاصمہ شیرازی جس پر سرکاری خرچے پر حج کرنیکا الزام ہے اور اسکا نام اسکے بعد سرکاری حاجن رکھ دیا گیا ۔ بینش سلیم اگرچہ صحافت کا بڑا نام نہیں لیکن وہ بھی مریم نواز کے بہت قریب ہیں، اسی طرح انورمسعود کے صاحبزادے عمارمسعود جو کبھی تحریک انصاف کے حامی ہوا کرتے تھے، آج کل مریم نواز کے حامی ہیں۔

  • مریم نواز شریف اس جاہل خاندان کی جاہل چورنی فراڈن نانی 420 ھے کہ اس کے جھوٹ اور جہالت کے ریکارڈ انسانی تاریخ کی ہسٹری میں نہیں ملیں گے پاکستانیوں کی اکثریت اس خاندان سے نفرت کرتی ھے خاص کر پاکستان کا نوجوان ووٹرز اس خاندان کو پاکستان کی سیاست میں کبھی دیکھنا نہیں چاہتا۔ لیکن یہ ڈھیٹ بیشرم خاندان غلط فہمی میں مبتلا ھے

  • بہت خوب لکھا اور خوب تجزیہ کیا ہے ۔مریم کی سیاست جھوٹ سے شروع ہو کر جھوٹ پر ہی ختم ہوتی ہے اور یہ اپنی جماعت کے لیے پورس کے ہاتھی ثابت ہو رہی ہے

  • #5
    اس رانا ثنا اللہ کا احسان ہے قوم پر اس نے ہی آ ن ریکارڈ جرنلسٹوں کو بتایا تھا کہ میاں محمد نواز شریف سابقہ وزیر اعظم پاکستان کی بیٹی مریمُ نواز شریف اپنی ماں کے ساتھ اپنے نوکر کیپٹن صفدر کے ساتھ مونہہ کالا کرتی ہے اور اس نے ہی یہ بتایا تھا کہ کیپٹن صفدر اتنا کعنتی بے غیرت اور گھٹیا نیچ اور کسی۔ کنجر فیملی۔ کا ہے کہ جو اپنی ماں جیسی ساس کےساتھ مونہہ کالا کرتا ہے اسی نے بتایا تھا کہ کیپٹن صفدر مریمُ نواز شریف اور اس کی ماں کے ساتھ بد کاری ،حرامُکاری اور زنا کاری کی ڈبل شفٹ لگاتا ہے
    اور اس بات کی سچائی جاننے کے واسطے کسی راکٹ سائینس کی ضرورت نہیں اگر وہ بات جھوٹ ہوتی تو رانا ثنا اللہ اس جرم میں جیل میں ہوتا اور کبھی اس نواز شریف کا وزیر قانون نہ ہوتا اور نہ ہی پارٹی۔ کا صوبائی صدر

  • محترمہ فاطمہ جناح مادر ملت
    بے نظیر بھٹو شہید دختر ملت
    اور مریم نوازشریف کے پاس دو دو خطاب
    مادر ذلت
    دختر ذلت

  • نانی پلاسٹک سرجری نانی 420 صرف اور صرف اپنی پلاسٹک سرجری کو
    ٹھرکی ہٹواریوں میں کیش کرانا چاہتی ھے صرف اور صرف یہ اوقات ھے اس پلاسٹک سرجری نانی 420 فراڈن کی ۔معلوم نہیں کیس ہٹواری نے اس جاہل عورت کو سیاست میں آنے کا مشورہ دیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >