بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کا دورہ کوئٹہ اور لاشوں پر مکروہ سیاست

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کا دورہ کوئٹہ اور لاشوں پر مکروہ سیاست

آج پی ڈی ایم کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے ہزارہ برادری کے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا، دونوں رہنماوں نے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا، دونوں نوجوان رہنماوں کا یہ عمل ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے کہ یہ ایک افسوسناک واقعے میں غمزدہ خاندانوں کی دلجوئی کے لئے کوئٹہ پہنچے۔

اور بھی اچھا ہوتا مریم نواز شریف اس موقع پر عمران خان پر تنقید کرنے سے گریز کرتیں، لیکن اس کے لئے موقع خود حکومت نے فراہم کر دیا، آج پانچ دن ہوئے 11 لاشے کھلے آسمان تلے رکھے لواحقین سراپا احتجاج بنے بیٹھے ہیں ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ان کے پاس آئیں مطالبات سنیں پھر ہم اپنے پیاروں کو دفن کریں گے۔

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا جب آپ کسی معاملے پر سستی، کوتاہی دکھائیں گے تو آپ کے حریف کبھی معاف نہیں کریں گے آڑے ہاتھوں بھی لیں گے اور کڑی تنقید بھی، مانا کہ وزیر اعظم کو سیکیورٹی کلیئرنس کا سامنا ہے اور ذرائع کے مطابق شدید تھریٹس موجود ہیں اسی وجہ سے تا حال وزیر اعظم کے لئے کوئٹہ جانا ممکن نہیں ہوا۔

لیکن کیا ان پانچ دنوں میں مسئلے کو تدبیر سے سلجھانا ممکن نہیں تھا ؟ آج کل تو جدید ٹیکنالوجی سے سب کچھ آسان ہے وزیر اعظم پاکستان دھرنے کے شرکاء سے ویڈیو کال پہ بات کر سکتے تھے اچھی ساکھ رکھنے والے معتبر سیاستدانوں، علماء زعماء کا وفد بھیجا جا سکتا تھا۔

شومئی قسمت زلفی بخاری جیسے غیر سنجیدہ اور اتاولے مشیر بھیجے گئے جو زخموں پہ مرہم تو کیا رکھتے الٹا نمک پاشی کر آئے، اب وزیر اعظم پاکستان نشانے پہ ہیں اپوزیشن انہیں کب آسانی سے معاف کرے گی۔

یہی تو ہماری سیاست کا چلن ہے، حکومت ہو یا اپوزیشن دانشور ہوں یا عام آدمی، لاشوں پر سیاست اور پوائنٹ سکورنگ جیسا مکروہ دھندا ہر دور کا چلن رہا ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے، کس قدر دکھ اور کرب کی بات ہے کہ ہم نے قومی وجود سے رستے لہو کو بھی نجانے کتنے خانوں میں بانٹ دیا،شیعہ سنی تو کبھی پختون پنجابی سندھی بلوچی۔

کیوں ہم بھول جاتے ہیں کہ لہو کا رنگ تو ایک جیسا ہوتا ہے شیعہ کا بہے یا سنی کا ہزارہ برادری پر بیتے کربلا پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار ہے لیکن اس کو مسلکی گروہی بنیادوں پر ہوا دینے والے کس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ کیا ہمیں رلانے کو یہ کافی نہیں کہ یہ ذبج ہونے والے پاکستانی تھے؟

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمسائے میں بیٹھا ازلی دشمن ہمارے وجود کے درپے ہے وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ وہ ہمارے وجود پر کاری ضربیں لگائے گا اور ہر بار وہ تاک کر ہماری دکھتی رگ کو نشانہ بناتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہزارہ برادری کے اس صدمے کو قومی سوگ کا درجہ دے کر سر جوڑ کر بیٹھا جائے نئے سرے سے صف بندی ہواور جس طرح ملک بھر میں دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے اور سانحہ آرمی پبلک سکول کے کرداروں کے خلاف دن رات ایک کر دیا گیا۔ اسی طرح ہزارہ برادری کے آنسو پوچھنے کی خاطر جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے، اس سازش کو بے نقاب کرنے ، اس میں ملوٹ عناصر کو نشانہ عبرت بنانے کے لئے قومی بیانیے کی ضرورت ہے ۔

خدا کرے کہ چشم فلک پھر یہ منظر کبھی نہ دیکھے کہ پانچ دن سے غمزدہ مائیں بہنیں بیٹیاں کھلے آسمان تلے پیاروں کی لاشیں سامنے رکھے بین کرتی ہوں۔

  • انڈیا افغانستان کے راستے دہشگردوں کو استعمال کر رہا ھے اس میں پاکستانی دہشت گرد بھی ہو سکتے ہیں جو کہ انڈیا اور افغانستان افضل الرحمان کے زریعے لئے کرایے کے قاتلوں کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں ریاستی اداروں کو اپنی انٹیلیجنس تیز کرنی ہوگی اور اس دہشتگردی کو ختم کرنا ہوگا۔
    گزشتہ 30 سالوں میں نونی لیگ مافیاز اور زارداری مافیاز نے فضولو ڈیزل کے ساتھ مل کر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ھے اور اب ان کی منحوس اولادیں لاشوں پر سیاست کر رہی ہیں

  • انھیں کی وجہ سے یہ ملک تباہ ہوا
    ان سب کے دور میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہوئی
    اور انہوں نے زبان اور آنکھیں بند رکھیں تاکہ عوام مارتی رہے اور
    یہ بچ جائیں.

  • الحمد لله،
    پاکستان ایک اور بڑی سازش سے بچ گیا، مریم نواز نے جو سیاست کھیلنی تھی اُس سے پہلے ہی لواحقین نے دھرنا ختم کرکے تدفین کا عمل شروع کر دیا۔۔ اپنی ماں کو موت کے بستر پر چھوڑ کر جلسے کرنے والی۔ اپنی دادی کے قل پر دو کلو میک اپ لگا کر جلسوں میں ٹھمکے لگانے والی اور ماڈل ٹاون میں دن دیہاڑے عورتوں پر گولیاں چلوانے والی آج لاشوں پر سیاست کر رھی ھے۔۔۔ لعنت چھوٹا لفظ ھے بڈھی سائیکو کے لیے…. فلاپ عورت کو یے یاد نہیں کہ ہزارہ برادری کے 3 افراد قتل ہوئے ہیں جبکہ کچھ دن پہلے سیکورٹی فورسز کے 7 جوان شہید ہوئے تھے تب تواس کیلبری فراڈن نے اصرارنہیں کیا تھا کہ وزیراعظم شہداء کے لواحقین کے پاس جائیں؟جہاں وزیر اعظم کوپہلےدن کوئٹہ جانا چاہیے تھا وہیں جو اینکرعمران خان کےحوالےسےیہ کہ رہےہیں کہ وزیراعظم شاید سیکیورٹی صورتحال سےگھبراکر کوئٹہ نہیں جارہےتو یہ وہ آدمی ہےجواس وقت وانا، فاٹا، کوئٹہ اوران علاقوں میں جاتاتھاجب کوئی اور نہیں جاتاتھا۔کسی کو برا لگنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ انشاءاللہ لواحقین کو انصاف ملے گا

  • پی ڈی ایم کی تحریک جس تیزی سے اپنے انجام کے جانب گامزن تھی اس تحریک کے خاتمے کے بعد نواز لیگ مافیاز پیپلز پارٹی مافیاز اور ڈیزل کی سیاست ختم ہونے جا رہی تھی کوئیٹہ مچھ کا واقع کروا کر پاکستان کے دشمنوں نے ماضی کی طرح ایک بار پھر نواج شریف خاندان کی سیاست بچائی ھے اور پاکستان کا حرام خور صحافیوں کا ٹولہ پاکستان کے دشمن ممالک کا پوری طرح سے سہولت کار بنا ہؤا ھے اور پی ڈی ایم بھی کے سہولت کار یقیناً پاکستان کے دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں جو کہ اپنے مفادات کو بچانے کے لیئے دشمنوں کے ایجنڈے کے ساتھ پاکستان کے خلاف کیسی بھی حد تک جانےکے لئے تیار بیٹھے ہیں لیکن عام ہٹواریوں اور جیالوں کو یہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >