سینئر صحافی نوجوان یوٹیوبرز سے خوفزدہ کیوں ہیں؟

کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان نے نوجوان یوٹیوبرز سے ملاقات کی جن میں صدیق جان اور دیگر شامل تھے۔ یہ ملاقات سے زیادہ سوال جواب کا سیشن تھاجس پر کچھ سینئر صحافی سامنے آگئے اور یہ واویلا کرنا شروع کردیا کہ ان یوٹیوبرز کو وزیراعظم نے سینئر صحافیوں اور اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے اور گالیاں دینے کا ٹاسک دیا ہوا ہے۔

صحافیوں کے اس دعوے پر بعد میں بات کرتے ہیں، پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ٹیوبرز ہیں کون؟ یہ کہاں سے آئے؟ ان یوٹیوبرز میں کچھ سینئر صحافی اور اینکرز ہیں، کچھ عام لوگ ہیں جو سیاست کا شغف رکھتے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر تعداد ان رپورٹرز اور میڈیا ورکرز کی ہے جو سالہا سال سے چینلز میں کام کرتے رہے ، فیلڈرپورٹنگ کرتے رہے، کبھی کسی ہائیکورٹ، سیشن کورٹ جاکر ، کبھی سپریم کورٹ جاکر، کبھی پارلیمنٹ ہاؤس جاکر اور کبھی کسی سانحے یا واقعے پر بروقت پہنچ کر۔۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اصل حقائق بتاسکتے ہیں، نیوزکاسٹر خبر دیتے ہوئے انہیں بیپر پر لیتے ہیں، متعلقہ واقعے پر ان سے حقیقت جانتے ہیں ، انہیں بپیر پر ایک آدھے منٹ کا وقت دیا جاتا ہے اور پوری بات بھی نہیں کرتے کہ انکی کال شکریہ کہہ کر کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ زمینی حقائق کا بہت ادراک رکھتے ہیں، ان میں زیادہ تر کا تعلق مڈل کلاس یا غریب گھرانے سے ہوتا ہے اور یہ عوام کے مسائل اچھی طرح سمجھتےہیں، انہیں عوام کے سیاسی موڈ کا بھی اندازہ ہوتا ہے، آٹا، چینی کا بھاؤ بھی معلوم ہوتا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر کام کرکے انکا تجربہ ہوچکا ہے لیکن جب کسی چینل پر انہیں تنخواہ ملتی ہے تو کسی کو 15 ہزار، کسی کو 20 ہزار، کسی کو 25 ہزار اور کسی کو اس سے زیادہ۔۔

سینئر صحافیوں نے پرائم ٹائم کا شو کرنے کیئے کسی واقعے سے متعلق اگر کوئی خبر یا معلومات لینی ہوتو ان سے رابطہ کرتے ہیں، انہی کی خبروں کو بعض اوقات سینئر صحافی اندر کی خبر بناکرپیش کرتے ہیں۔

ایک نوجوان یوٹیوبر وہ ایک نجی چینل کیلئے رپورٹنگ کرتا تھا، ایک سینئر اینکر سے وابستہ تھا۔ وہ نوجوان سپریم کورٹ جاتا، وہاں کیس کی پوری کاروائی سنتا اور اپنے چینل کیساتھ شئیر کرتا، پھر پانامہ کیس آیا، وہ نوجوان صبح سویرے اٹھ کر سپریم کورٹ جاتا پوری کاروائی سنتا۔ سیئر اینکر اس نوجوان سے پوچھتا کہ آج سپریم کورٹ میں کیا کیا ہوا، وہ نوجوان سب کچھ شئیر کردیتا۔۔ شام کو وہ اینکر پروگرام کرتا اور بتاتا کہ آج یہ کچھ ہوا تھا، کچھ تڑکہ بھی لگادیتا اور تجزیہ بھی پیش کرتا، وہی نوجوان پارلیمنٹ ہاؤس، قائمہ کمیٹیوں میں بھی جاتاپوری کاروائی سنتا اور احوال اپنے سینئر اینکر سے شئیر کردیتا ۔

اس نوجوان کی وجہ سے اس سیئر اینکر کی بلے بلے ہوگئی، یہ کہا جانے لگا کہ اس سے بڑا تو کوئی صحافی نہیں ہے۔کیا زبردست معلومات رکھتا ہے۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسی دن اس اینکر کی اس رپورٹر کیساتھ لڑائی ہوجاتی ہے اور اینکر اسے نوکری سے نکلوادیتا ہے، وہ نوجوان بجائے کسی دوسرے چینل پر جانے کے اپنا یوٹیوب چینل کھول لیتا ہے اور روزانہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، الیکشن کمیشن، قائمہ کمیٹیوں، پارلیمنٹ ہاؤس جاتا اور تمام احوال ویڈیو بناکر شئیر کردیتا ۔ وہ صرف یہی نہیں کرتا بلکہ میڈیا پر ان سے متعلق جن بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا وہ اسکی حقیقت بھی بتادیتا۔

اسکے بعد اس رپورٹر کو بہت زیادہ مقبولیت ملتی ہے، اسکی ویڈیوز روزانہ ہزاروں لوگ دیکھنے لگ جاتے ہیں، اسکے فالورز لاکھوں میں ہوجاتے ہیں، دوسری طرف وہ اینکر جس نے اسے نوکری سے نکلوایا ہوتا ہے اسکی دیکھا دیکھی میں وہ بھی اپنا چینل کھول لیتا ہے لیکن اسے وہ مقبولیت نہیں ملتی جو اسکے سابق ماتحت کو ملتی ہے جس کے بعد وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے اور سب یوٹیوبرز کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے کہ یہ حکومتی ایجنڈے پر ہیں، انہیں ہمیں گالیاں دینے کیلئے رکھا گیا ہے۔

اس سینئر اینکر کو تین چار ٹی وی چینلز سے پروگرام کی ریٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے نکالا جاچکا ہے، اسکے پاس اب بس حکومتی لوگوں پر الزام تراشی، فیک نیوز پھیلانا، یوٹیوبرز پر گالیاں دینے کا الزام، ارطغرل ڈرامے کی وجہ سے پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات خراب ہونا رہ گیا ہے۔پروگرام کی ریٹنگ نیچے آنے کی وجہ سے آج کل وہ اوورایکٹنگ میں مصروف ہے، پروگرام کے دوران چیختا چلانا جذباتی ہوجانا یا کچھ ایسے سٹنٹ کھیلنے کوشش کرنا رہ گیا ہے جس سے اسکے پروگرام کی ریٹنگ بڑھ سکے۔

باقی چینلز کے رپورٹرز جو الیکٹرانک میڈیا پر زوال آنے کے بعد یوٹیوب کا رخ کرتے ہیں انہیں بھی مقبولیت ملتی ہے کیونکہ وہ فیلڈرپورٹر ہوتے ہیں اصل حقائق سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن ان یوٹیوبرز سے سینئر صحافیوں کو بہت شکایات ہیں، ایک تو یہ کہ انہیں نوجوان اتنا زیادہ کیوں سنتے ہیں، دوسرا یہ یوٹیوبرز کسی سینئر صحافی کے پرانے کلپس دکھاکر انہیں ایکسپوز کردیتے ہیں کہ اس صحافی نے فلاں دن یہ بات کی تھی اور آج اس سے متضاد بات کررہا ہے۔ اس نے فلاں دن یہ دعویٰ کیا لیکن یہ دعوٰی پورا نہیں ہوا۔ سینئر صحافی نے یہ فیک نیوز دی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔

ان سینئر صحافیوں کو یہ بھی غصہ ہے کہ جو لوگ ہمارے ماتحت تھے، جنہیں ہم جس طرح چاہتے تھے دبالیتے تھے آج آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں۔یہ کسی دباؤ میں نہیں آرہے ، ہماری ان پر جو حکمرانی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔

فوادچوہدری نے دو سال پہلے الیکٹرانک میڈیا کے بارے کہا تھا جو آج سچ ثابت ہورہا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا موجودہ ماڈل زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ اگلا دور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے۔ فوادچوہدری نے کئی بار صحافیوں سے کہا کہ ٹی وی چینلز حکومتی اشتہارات پر زیادہ دیر چل نہیں سکتے، انہیں آمدن جنریٹ کرنے کیلئے کوئی ماڈل بنانا ہوگا لیکن سینئر صحافیوں نے نہ صرف فوادچوہدری کا ماڈل ریجیکٹ کیا بلکہ اسے آزادی اظہار کے منافی قرار دیا۔

آج موبائل فون رکھنے والے تقریبا ہر شخص کے پاس سمارٹ فون ہے، وہ ٹی وی پر بیٹھنے کی بجائے موبائل فون کو ترجیح دیتے ہیں، ٹی وی یا تو سوپ سیریل ، فلم ، کرکٹ میچ دیکھنے کیلئے استعمال ہورہا ہے۔ کبھی تھا جب ٹاک شوز انٹرٹینمنٹ تھا،اب لوگ ایک چینل پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی گولہ باری سے اکتاگئے ہیں، کچھ سیاستدانوں اور صحافیوں سے انہیں اتنی کراہت ہوگئی ہے کہ ٹی وی چینل بند کردیتے ہیں یا چینل بدل دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے لوگوں کو اتنا شعور دیدیا ہے کہ جو صحافی کچھ عرصہ پہلے معتبر بنے ہوئے تھے انکے اصل چہرے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، وہ اپنی مقبولیت دن بدن کھورہے ہیں اور الزام یوٹیوبرز کو دے رہے ہیں۔ جو صحافی کبھی چینل میں بادشاہ تھے ، چینل مالکان انہیں سرآنکھوں پر بٹھاتے تھے آج ریٹنگ کی وجہ سے ان میں بیروزگار ہونے کا خوف پیدا ہوگیا ہے، وہ یوٹیوب کا رخ کرتے ہیں، وہاں سے ریسپانس نہیں ملتا تو نوجوان یوٹیوبرز پر الزام تراشی شروع کردیتے ہیں۔

  • نئے پاکستان کا مستقبل ان ہی حلال صحافیوں یو ٹیوبرز سے وابستہ ھے جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہیں جو اپنے ذاتی مفادات نہیں ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں یہ ھے نئے پاکستان کا مستقبل

  • صدیق جان نے آج یو ٹیوبر سے اینکر پن دکھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ سارا سچ چوبیس گھنٹے میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کر تجزیہ کیا کرو


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >