ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ پی ڈی ایم۔۔ میڈیا کارویہ

ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ پی ڈی ایم۔۔ امریکی میڈیا بمقابلہ پاکستانی میڈیا

کچھ روز قبل ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہِل پر حملہ کیا اور اندرگھس گئے جس پر امریکی سیکیورٹی فورسز کو مداخلت کرنا پڑی اورانہیں باہر نکال کر کیپیٹل ہل کا کنٹرول سنبھال لیا، یہ خبر دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنی ، سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے ہوئے، پاکستان میں بھی یہ موضوع زیربحث رہا ۔

اس اقدام کے بعد امریکی ٹی وی چینلز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کوریج پر پابندی لگادی، ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام نے ٹرمپ کے اکاؤنٹس بند کردئیے، ٹرمپ نے امریکی صدر کے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کوشش کی تو ٹوئٹر نے یہ کوشش بھی ناکام بنادی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے آزادی اظہار پر پابندی لگادی۔۔

امریکی چینلز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کا موقف تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ لوگوں کے جذبات بھڑکارہا ہے، وہ ملک میں ہنگامے کروانا چاہتا ہے اسلئے اسکے بولنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

ٹرمپ کا قصور کیا تھا؟ ٹرمپ کا قصور اتنا تھا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدارتی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے جسے امریکی چینلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سنسر کردیا۔

دوسری جانب پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کو دو ڈھائی سال بعد یاد آیا کہ انکے ساتھ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اسلئے عمران خان حکومت کو گھر بھیجا جائے، اسکے لئے تمام اپوزیشن جماعتوں نے ملکر ایک پلیٹ فارم پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ ) کے نام سے بنایا۔ یہ 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد تھا جس میں پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف کے علاوہ قوم پرست جماعتیں اچکزئی کی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، اخترمینگل کی بی این پی، اے این پی، شیرپاؤ کی جماعت بھی شامل تھی۔

اس تنظیم نے پاکستان بھر میں پہلے جلسے جلوس کئے، کچھ کامیاب تو کچھ ناکام رہے لیکن جو کامیاب رہے انہیں بھی سیاسی ماہرین اس لئے ناکام قراردیتے رہے کیونکہ یہ 11 جماعتوں کا اتحاد تھا۔۔ اس اتحاد نے کئی متنازعہ باتیں کی، قومی سلامتی کے اداروں فوج، آئی ایس آئی کے خلاف باتیں کی، نیب، عدلیہ کے خلاف باتیں کیں، جلسوں میں صوبائی تعصب اور لسانیت کو ابھارنے کی کوشش کی، آزادبلوچستان کے حق میں تقریریں کی گئیں، فوج پر سنگین الزامات لگائے گئے۔

ان جلسوں میں محمودخان اچکزئی نے پہلے اردو بولنے والوں کے خلاف باتیں کیں ، پھر لاہور جلسے میں آکر پنجابیوں اور لاہوریوں کو برا بھلا کہا، اشتہار قرار دئیے جانیوالے نوازشریف فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کا نام لے لیکر ریاستی داروں پر حملہ کرتے رہے۔ مریم نواز بھی پیش پیش رہیں۔اخترمینگل بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔

مولانا فضل الرحمان اور انکےساتھی ٹاک شوز اور جلسوں میں فوج کو برا بھلا کہتے رہے، کبھی کورکمانڈر کے گھر کے گھیراؤ کی دھمکی، کبھی جی ایچ کیو کے باہر دھرنے اور لانگ مارچ کی دھمکی۔۔ جے یو آئی ف کے اہم لیڈر مفتی کفایت اللہ تو فوجی جرنیلوں کی گردنیں کاٹنے کی باتیں کرتے رہے، جےیو آئی ف کا مطالبہ یہ تھا کہ مولانا نیب کے خلاف کاروائی نہ کرے، عمران خان حکومت سے کسی قسم کا تعاون نہ کرے تو وہ انکے خلاف بات نہیں کریں گے۔

امریکی الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا مکمل بلیک آؤٹ کردیا لیکن پاکستانی میڈیا کیا کرتا رہا؟ پاکستانی میڈیا کا بڑا حصہ او رنامور صحافی پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے رہے، تمام عوامی ایشوز ، معیشت سے متعلق اچھی خبریں، مہنگائی کو چھوڑ کر پی ڈی ایم کو پروموٹ کرتے رہے، ایسا تاثر دیا جارہا تھا کہ پی ڈی ایم کی تحریک زور پکڑگئی ہے اور حکومت جانیوالی ہے۔

میڈیا کے مخصوص حصے اور مخصوص صحافیوں نے فوج کے خلاف ہرزہ سرائی، لسانی تعصب کی مذمت تو نہیں کی لیکن اسے جسٹیفائی کرنے میں پیش پیش کررہے اور ایسے دفاع کررہے تھے جیسے وہ پی ڈی ایم کے رہنما ہوں۔ ٹاک شوز میں بیٹھے یہ مخصوص اینکر ز صحافی کم اور پی ڈی ایم کے ترجمان زیادہ لگ رہے تھے۔

مثال کے طور پر جب نوازشریف کو مفرور قراردئیے جانے کے بعد ریاستی اداروں مخالف انکی تقریروں پر پابندی لگائی گئی تو 16 کے قریب اینکرز اسلام آباد ہائیکورٹ چلے گئے اور استدعا کی کہ نوازشریف کی تقریروں پر سے پابندی ہٹائی جائے۔ جن میں نجم سیٹھی، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، محمل سرفراز، منصور علی خان اور دیگر صحافی شامل تھے۔ یہ وہ صحافی ہیں جو ہر وقت مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان صحافیوں نے نوازشریف کی تقاریر پر پابندی کو آزادی اظہار پر حملہ قراردیا۔

جب محمودخان اچکزئی نے کراچی میں اردواسپیکنگ کمیونٹی کے خلاف بات کی تو بہت سے اینکرز نے اسکی مذمت نہیں کی، کچھ اینکرز نے ہومیوپیتھک ٹائپ مذمت کی، اچکزئی نے لاہور جلسے میں پنجابیوں کو برا بھلا کہا تواس پر بھی مخصوص اینکرز خاموش رہے، کچھ اینکرز نے مذمت کی تو ہومیوپیتھک ٹائپ، اس دوران اچکزئی سے منسوب ایک معذرت بھری فیس پوسٹ آئی تو سلیم صافی اور عاصمہ شیرازی یہ جعلی فیس بک پوسٹ شئیر کرکے اچکزئی کا شکریہ ادا کرتے رہے لیکن اچکزئی نے تردید کردی کہ میں نے کوئی معافی نہیں مانگی اور نہ ہی مانگوں گا۔

ان مخصوص صحافیوں اور میڈیا گروپس نے نہ تو امریکی میڈیا کی طرح پی ڈی ایم کے فوج مخالف رہنماؤں کی تقریروں کو سنسر کیا بلکہ الٹا انکا بیانیہ پروان چڑھانے اور پی ڈی ایم تحریک کو اپنی زبان اور قلم سے مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ امریکہ سے متاثر یہ صحافی امریکہ کی مثالیں تو دیتے ہیں لیکن امریکی میڈیا کے اس اقدام کو فالو کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔

ان مخصوص صحافیوں نے پی ڈی ایم کو پروموٹ کرنے کیلئے جان ماردی لیکن پی ڈی ایم مریم نواز کے غلط فیصلوں، پی ڈی ایم کی خراب حکمت عملی، ریاست مخالف بیانئے کی وجہ سے دم توڑرہی ہے۔ انکی محنت رائیگاں کرنے میں پی ڈی ایم کے بڑے رہنما ہی پیش پیش ہیں جنہوں نے کبھی استعفے، کبھی لانگ مارچ کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا اور پھر بھونڈے انداز میں پیچھے ہٹ گئے۔

یہ مخصوص اینکرز پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو حکومت گرانے اور غیر مستحکم کرنے کیلئے طرح طرح کے مشورے دیتے رہے، روحوں سے ملاقات کے خیالی کالم لکھتے رہے لیکن پی ڈی ایم تحریک بے جان ہوتی رہی۔۔ یہ مخصوص صحافی پی ڈی ایم کے رہنماؤں سے متعلق ایسے انکشافات کرنے میں بھی پیش پیش رہے جن کا شاید پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو بھی پتہ نہ ہو۔

جب سے عمران خان کو اقتدار ملا یہ مخصوص صحافی آئے دن حکومت گراکر سوتے ہیں، اپنے خوابوں اور خواہشوں کو تجزئیے میں بیان کرتے ہیں۔خواہشات کو خبر کا روپ دیتے ہیں۔ عاصمہ شیرازی، حامد میر، سہیل وڑائچ اور دیگر صحافیوں کے ڈیڑھ درجن پروگرامز اور کالمز اس بات کے گواہ ہیں۔ یہ صحافی 2019 کے مولانا کے دھرنے میں بھی روز یہ خبردیتے رہے کہ مولانا حکومت گرا کر ہی چھوڑے گا، وہ ایک نہیں 3 استعفے لے گا لیکن آخر میں مولانا دھرنا سمیت کر چلتے بنے۔

ٹرمپ کا بیانیہ امریکی الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نے سنسر کرکے ماردیا جبکہ پی ڈی ایم کا بیانیہ خود پی ڈی ایم رہنماؤں نے ہی آپسی اختلافات، غلط فیصلوں، بیانات کے ذریعے ماردیا۔ اگر یہی مخصوص میڈیا امریکہ میں ہوتا اور ٹرمپ کی اسی طرح حمایت کرتا جیسے پاکستان میں پی ڈی ایم کی کررہا ہے تو شاید ٹرمپ انقلاب لاچکا ہوتا اور جوبائیڈن ملک سے فرار ہوچکا ہوتا۔

فیک نیوز، خواہشات بھرے تجزیوں ، روایتی ٹاک شوز، ٹاک شوز میں لڑائیوں، بھونڈے تجزیوں کے بعد پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی کریڈیبلٹی ختم ہورہی ہے۔ پرانے صحافیوں کے ٹاک شوز بے جان ہوتے جارہے ہیں، لوگ ٹاک شوز سے اکتاچکے ہیں اور زیادہ تر نیٹ فلیکس، سوشل میڈیا، یوٹیوبر نوجوان صحافیوں کے تجزئیے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوٹیوبرز صحافیوں کی مقبولیت سے یہ صحافی خود کو ان سیکیور سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور یہ خبریں پھیلارہے ہیں کہ عمران خان ان صحافیوں کو پیسے دے رہا ہے، سینئر صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے کے ٹاسک دے رہا ہے۔

لیکن آخر میں ٹرمپ اور پی ڈی ایم کو ملانا بھی درست نہیں، ٹرمپ چاہے جیسا بھی ہو، اپنے ملک سےمخلص رہا، ٹرمپ نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو بھی کیا ہو لیکن اقتدار کو اپنے ذاتی کاروبار اور کرپشن کیلئے استعمال نہیں کیا، سابق امریکی صدور کے برعکس ٹرمپ جنگ کی بجائے ڈیل کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرتا رہا، کبھی افغانستان پر ڈیل، کبھی شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کیساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ جانا، کبھی عرب ممالک سے ڈیل کرکے اسرائیل کو تسلیم کروانا ، کبھی چین سے مذاکرات ۔۔ ٹرمپ غیرروایتی تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>