کالے انگریز

یہ واقعہ ایک جاننے والے نوجوان کے ساتھ پیش آیا جو ایک ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرنے گیا۔ دوران انٹرویو وہ شخصیت انگریزی میں نوجوان سے سوالات کرتی رہی لیکن نوجوان کی انگریزی انتہائی کمزور تھی جو بھی سوال پوچھا جاتا وہ اسکے اوپر سے گزر جاتا اور جواب نہ دے پاتا۔ آخر میں اس نوجوان نے ہاتھ کھڑے کردئیے اور کہا کہ مجھے انگلش نہیں آتی۔

جس پر انٹرویو لینےو الی اس شخصیت نے اردو میں کہا کہ یہاں انگلش میں ہی بات ہوتی ہے، لوگوں کو انگلش میں ہی ڈیل کرنا پڑے گا۔ کوئی کال آئے گی تو انگلش میں ہی بات کرنا پڑے گی۔ اس نوجوان نے معذرت کی کہ وہ یہ نہیں کرسکتا جس پر اس شخصیت نے کہا کہ تمہارے پاس اس جاب کا ہنر ہے، میں تمہیں جاب دیدیتاہوں لیکن تنخواہ بہت کم ملے گی۔ جیسے جیسے تم انگلش امپروؤ کرتے جاؤ گے تو تمہاری تنخواہ بڑھادی جائے گی ورنہ تین ماہ بعد تمہاری چھٹی۔

وہ نوجوان کم تنخواہ پر راضی ہوگیا۔ جاب ملی تو وہ باس اپنے آپکو برتر ثابت کرنے کیلئے اردو میں بات کرتے کرتے انگریزی میں بھی بات کرنا شروع ہوجاتاجس پر وہ نوجوان کنفیوژ ہوجاتا۔ وہ نوجوان ملازم سروس سنٹر آنیوالوں کو ڈیل کرتا، اس نے یہ نوٹس کیا کہ وہاں آنیوالے کسٹمرز اردو میں ہی بات کرتے ہیں ۔

لیکن باس کی تکرار یہی رہتی کہ میں نے تمہیں غریب سمجھ کر نوکری دی ہے حالانکہ تمہاری انگلش بہت کمزور ہے۔ اسکے ان طنزیہ جملوں سے تنگ آکر اس نوجوان نے کچھ روز بعد ہی نوکری چھوڑدی ۔

یہ انگلش والی بیماری ہماری ایلیٹ سوسائٹی میں بہت سرایت کرگئی ہے۔میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق یہ ایک طریقہ واردات ہے اپنے ملازم کو دبانے کا۔۔ گھروں میں کام کرنیوالے ملازموں کو تو اس طرح دبایا جاتا ہے کہ تم نے صفائی ٹھیک نہیں کی، کھانا ٹھیک نہیں پکایا ، کپڑے ٹھیک نہیں دھوئے لیکن سرکاری سکول کا ایک پڑھا لکھا شخص جس کی انگلش کمزورہے اسے انگلش کے ذریعے ہی دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے وہ نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے، اسکا اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے۔ وہ انگلش سیکھ بھی لے تو بول نہیں پاتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

کچھ روز قبل جو ایک ریسٹورنٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اسکا مقصد بھی یہی تھا کہ اپنے ملازم کو دبایا جائے۔ اویس نامی ملازم کی شکل دیکھیں تو وہ شکل سے ایک معصوم اور محنتی شخص نظر آتا ہے۔ وہ اس ریسٹورنٹ کا پہلا ملازم تھا اور 9 سال سے کام کررہا تھا۔ وہ اس وقت سے اس ریسٹورنٹ میں کام کررہا ہے جو اس ریسٹورنٹ نے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔

میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اسکی کارکردگی سے اسکی انگلش پر ناز کرنیوالی خاتون باس بھی خوش ہوگی۔ وہ نہیں چاہتی ہوگی کہ اویس کام چھوڑ کر جائے کیونکہ وہ ایک محنتی شخص ہے ۔ اسکی تذلیل کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ دب کر کام کرے، زیادہ اڑنے کی کوشش نہ کرے ، خوداعتمادی کا شکار نہ ہو اور تنخواہ میں اضافے کی ڈیمانڈ نہ کرے۔

یہ طریقہ واردات تھا اس ملازم کو دبانے کا لیکن دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ اپنے آپکو برتر ثابت کرنا، انگلش بول کر اپنے آپکو بہت زیادہ پڑھا لکھا، صاحب علم اور مہذب ثابت کرنا اور دوسرے کو اپنے سے کمتر ثابت کرنا۔

ہ ہماری سوسائٹی کا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں انگریزی بولنے کو بڑا فخریہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم آئین کی بہت بات کرتے ہیں لیکن ہمارا آئین انگریزی میں ہے۔ کسی عام آدمی نے آئین کی ایک شق بھی نہیں پڑھی ، پڑھے بھی کیسے؟ انگلش جانے کا بھی تو پڑھیں گے۔ہمارے عدالتی فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، دفتری زبان انگلش ہے۔

ہمارے ہاں پڑھالکھا اور قابل شخص اسی کو سمجھا جاتا ہے جو انگلش میڈیم سکول سے پڑھ کر آئے۔ اسی لئے تو والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی انگلش میڈیم سکول میں پڑھائیں، انکے بچے فر فرانگلش بولیں اور رشتہ داروں پر انکا رعب پڑے کہ دیکھو فلاں کا بچہ پٹر پٹر انگلش بولتا ہے۔پتہ نہیں اپنے بچے پر کتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ فرانس میں کسی کا انگریزی نہ آنے پہ مذاق اڑایا گیا ہے ؟ کسی اٹالین کا انگریزی نہ آنے پر مذاق اڑایا گیا ہے؟ کسی ڈچ کا انگریزی نہ آنے پر مذاق اڑایا گیا ہے یا انہیں کمتر سمجھا گیا ہے؟ کیا ان ممالک کے شہری انگریزی نہ آنے پر برطانوی شہریوں سے کمتر ہیں ؟ حالانکہ یہ ممالک یورپ میں ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ جس خاتون نے انگریزی کا رعب جھاڑ پر اپنے ملازم کی تضحیک کی۔۔ کیا اس ریسٹورنٹ میں ان لوگوں کو آنے کی اجازت ہے جو انگریزی نہیں جانتے؟ کیا ہر گاہک انگریزی میں کھانے کا آرڈر دیتا ہے؟ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں پیش کی جانیوالی ڈشز انگریزی ہیں؟ نہیں، کوئی اٹالین، کوئی چائنیز، کوئی ترکش، کوئی عرابک ، کوئی دیسی فوڈ اور کچھ انگلش فوڈز۔۔

جوروزانہ اٹالین پیزا، چائنیزفوڈ، ترکش شوارما، ترکش ڈونر ، نوڈلز کھاکر خود کو انگریز ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں انہیں بھی جان لینا چاہتے کہ یہ انگلش فوڈ نہیں، یہ سب کی سب ان ممالک کی فوڈز ہیں جہاں انگلش نہیں بولی جاتی۔

آگے بڑھنے کیلئے ہمیں یہ تصور ختم کرنا ہوگا کہ جسے انگریزی زیادہ اچھی آتی ہے وہ زیادہ پڑھا لکھا ہے، تعلیم یافتہ ہونے کا معیار انگریزی نہیں ہے، مہذب ، خوش اخلاقی کا انداز بھی انگریزی نہیں ہے، یہ والدین اساتذہ کی طرف سے دی جانیوالی تربیت اور تمیز ہے۔انگلش بول کر دوسروں کو دبانے،خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو کوئی ہمیں انگریز نہیں کہے گا بلکہ کالے انگریز کہے گا۔

  • یہ غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مجھے یقین کی حد تک گمان ہے کہ ان اور ان جیسے لوگوں کے آباء واجداد ضرور انگریز سرکار کے کتے نہلاتے رہے ہوں گے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >