عمران خان کو کیا عون عباس بپی جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے؟

میں نے عون عباس بپی سے کہا کہ عمران خان آپ کو ٹکٹ نہیں دے گا۔۔رؤف کلاسرا کا ڈھائی سال قبل کیا گیا دعویٰ غلط ثابت؟

عون عباس پبی کا تعلق ملتان سے ہے اور وہ تحریک انصاف کے متحرک کارکنوں میں سمجھے جاتے ہیں۔الیکشن 2018 میں عون عباس بپی کو ٹکٹ نہ مل سکا کیونکہ اسکے مقابلے میں عامرڈوگر بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے اور ذاتی ووٹ بنک رکھنے اور گراؤنڈ ورک کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے انہیں ٹکٹ دیدیا۔

عون عباس بپی کو ٹکٹ نہ ملنے پر رؤف کلاسرا نے کہا کہ میں نے عون عباس بپی سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ شرط نہیں لگاتا لیکن عمران خان آپ کو ٹکٹ نہیں دے گا۔۔

رؤف کلاسرا نے الیکشن 2019 میں عون عباس بپی کو ٹکٹ نہ ملنے پر الیکشن 2018 سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان کو عون عباس بپی جیسے پڑھے لکھے لوگ نہیں چاہئیں، انہیں پیسے والے لوگ چاہئیں۔ عون عباس بپی جیسے لوگ صرف نعرے مارنے کیلئے ہیں۔

بات آئی گئی ہوگئی، تحریک انصاف 2018 کا الیکشن جیت گئی، عون عباس بپی کی جگہ ٹکٹ لینے والے عامر ڈوگر لاکھوں ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ الیکشن 2018 کے بعد عمران خان حکومت نے عون عباس بپی کو اکاموڈیٹ کیا اور انہیں بیت المال کا چئیرمین بنادیا۔ بیت المال کا چئیرمین بننے کے بعد عون عباس بپی نے شاندار پرفارمنس دکھائی۔

اگرچہ عون عباس بپی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ تو نہ مل سکا لیکن اب ڈھائی سال بعد انہیں سینٹ کا ٹکٹ مل گیا۔ اگر تحریک انصاف کے ایم پی ایز ادھر ادھر نہ ہوئے تو عون عباس بپی کی جیت یقینی ہے اور 6 سال کیلئے سینٹ کے رکن منتخب ہوجائیں گے۔

سینٹ میں عام طور پر سیاسی جماعتیں اپنے منظور نظر لوگوں کو یا پیسے والوں لاتی ہیں لیکن عون عباس بپی ایک کارکن ہے ۔ اسکا گراؤنڈ ورک ہے ۔ بابراعوان ، زلفی بخاری، رزاق داؤد، ندیم بابر جیسے عمران خان کے قریبی ساتھی ٹکٹ کے خواہشمند تھے لیکن انکی جگہ ترجیح عون عباس بپی کو دی گئی ہے۔

عون عباس بپی سے متعلق رؤف کلاسرا کی دو پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ عمران خان نے عون عباس بپی کو الیکشن 2018 کے بعد بھی نظرانداز نہیں کیا اور بیت المال کا چئیرمین بنایا، دوسرا انہیں ایوان بالا (سینٹ) کا ٹکٹ دیدیا۔

رؤف کلاسرا نے فی الحال عون عباس بپی کو ٹکٹ ملنے پر خاموشی اختیار کررکھی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آنیوالے دنوں میں وہ اس فیصلے کی پذیرائی کرتے ہیں یا عون عباس بپی کو بھی عین کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔

  • یہ بیشرم اور اخلاقیات سے عاری لوگ ہیں۔ انکے کئی بکواسات غلط ثابت ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے ایک پہ شرمندگی ظاہر کی نہ معافی مانگی۔

    ہاں اگر غلطی سے انکی کوئی بات سچ ثابت ہو تو 10 سال پرانا کلپ بھی نکال لاتے ہیں۔

  • پاکستان میڈیا کی طوائفیں صحافیوں کا منافق ٹولہ اپنا ناچ گانا نہیں چھوڑیں گے جو بکواسیات منہ میں آتی ھے بواسیر کی طرح نکالنا شروع کر دیتے ہیں

  • عمران کہن کو چاہے کہ پارٹی کی کمان کلاسرہ کے ہاتھ دے دے .اس سے بڑا عقل مند کوئی نہیں .اگر اس تکت عمران دے دیتا تو یہی ڈمپ کہہ رہا ہوتا کہ دوست کو تکت کیوں دی .


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >