ایس این جی پی ایل میں ایمانداری سے کام کرنے والے افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا

ایس این جی پی ایل میں ایمانداری سے کام کرنے والے افسران کھڈے لائن لگ گئے

پاکستان کے ترقی نہ کرنے اور سویلین اداروں کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ وہ کلچر ہے جس میں رشوت نہ لینے یا اپنے حکام اعلیٰ کی غلط بات نہ ماننے پر سزا ملتی ہے جبکہ رشوت لینے اور ہر ناجائز کام کے لیے تیار رہنے والے اس کلچر میں پنپتے ہیں۔

اس کی ایک مثال سوئی ناردرن گیس کمپنی کے تین سینئر افسران عبدالغفور خان، طاہر افضل خان اور عبدالجبار خان کا معاملہ ہے۔ یہ کالم تحریر کرنے سے قبل ہم نے ان کے متعلق معلومات کیں تو پتا چلا کہ یہ نہ رشوت لیتے تھے اور نہ ہی کسی کی سفارش پر غلط کام کرتے تھے۔ اس قصور کی سزا بھی انہیں بھگتنی پڑی۔

یکم اکتوبر 1995 کو ان تینوں افسران سمیت کل 28 افراد کی بطور ٹرینی انجینئر تقرری ہوئی اور یہ سوئی ناردرن کمپنی کا حصہ بن گئے اور دیانت داری سے اپنا کام سرانجام دیتے رہے۔ یکم جنوری 2004 کا دن ان کے لیے مبارک ثابت ہوا جب ان کی پروموشن ہو گئی۔ ترقی پانے والوں میں 10 افسران کی گریڈ 4 میں ترقی ہوئی جبکہ باقیوں کی ترقی بھی بعد میں ہو گئی۔

اس فہرست میں شامل افراد کا آج جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ سب لوگ گریڈ 8 اور 9 میں پہنچ گئے ہیں مگر ان میں سے ایک شخص عبدالجبار خان صرف گریڈ 6 تک ہی پہنچ سکے۔ وجہ وہی تھی تو اوپر بیان کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سوئی ناردرن کے گریڈ عام سرکاری نوکریوں سے مختلف ہوتے ہیں۔

خیر اس کی تفصیل بتاتے ہیں کہ کس طرح اس دوران بعض انجینئرز کی پروموشن بھی ہوتی گئی جبکہ کچھ کا صرف تجربہ بڑھتا رہا۔

14 نومبر 2014 کو ان تینوں انجینئرز کی گریڈ 5 سے گریڈ 6 میں ترقی ہو گئی۔ لیکن ترقی پانے والوں کی فہرست میں ایسے انجینئرز بھی شامل تھے جو ان سے بہت جونئیر تھے اور انہیں بھی گریڈ 6 میں ترقی دی کر ڈپٹی چیف انجینئر بنا دیا گیا۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ وہ انجینئر جنہوں نے اکتوبر 1995 میں جوائن کیا تھا، وہ تقریباً سارے 2011 میں ڈپٹی چیف بن گئے تھے۔ لیکن ان تین افراد کو ترقی کے لیے مزید تین سال انتظار کرنا پڑا۔

19 جنوری 2018 کو تینوں کو چیف انجینئر کے طور پر ترقی کے لیے انٹرویو پر بلایا گیا۔ اس میرٹ لسٹ میں عبدالجبار خان کا نام تیسرا، عبدالغفور کا چوتھا جبکہ طاہر افضل کا 12واں نمبر تھا۔

انٹرویو کے بعد اسی دن آفس سے ایک نوٹ جاری ہوا جس میں ایسے لوگوں کو ترقی کی نوید سنائی گئی جو بہت جونئیر تھے جبکہ اوپر بیان کیے گئے تین سینئر افسران کو میرٹ کے باوجود ترقی نہیں دی گئی۔

اس کے بعد جنوری 2019 کو چیف انجینئر پر ترقی کے لیے انٹرویو نہیں کیے گئے۔ اصولی طور پر یہ انٹرویو ہر سال جنوری میں ہوتے ہیں مگر اس برس یہ روایت توڑ دی گئی۔ اس کی وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ افسران بالا کے من پسند انجینئرز ابھی بہت جونئیر تھے اور ترقی کے لیے جتنی مدت ملازمت لازمی ہے، وہ ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ اسی لیے افسران بالا نے جنوری 2019 میں انٹرویوز ہی ملتوی کر دیے۔

اس کے بعد 2 فروری 2020 کو کئی انجینئرز کو چیف انجینئرز کے انٹرویو کے لیے بلا لیا گیا مگر انہونی یہ ہوئی کہ اوپر بیان کیے گئے تین افسروں کو نہیں بلایا گیا۔ جبکہ 2016 میں پروموٹ کیے گئے من پسند افراد کو چیف انجینئر کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ ان کے ساتھ ایک بار پھر ظلم اور ناانصافی کی انتہا ہو گئی۔

آفس نوٹ نمبر 4306 مورخہ 3 فروری 2020 کے تحت من پسند جونئیر افسروں کو چیف انجینئر بننے کی خوشخبری سنا دی گئی۔ ان تمام افراد کی پہلی تقرری 2002 میں ہوئی تھی جبکہ عبدالجبار خان، عبدالغفور خان اور طاہر افضل خان 1995 میں بھرتی ہوئے تھے۔ یعنی سات سال جونئیر لوگ سینئر افسروں کے باس بن گئے۔

1995 میں ایک ساتھ سوئی ناردرن گیس کمپنی میں بھرتی ہونے والے تقریباً 28 انجینئرز میں سے ایک 9ویں گریڈ تک پہنچ گیا، 8 افراد نے 8ویں گریڈ تک ترقی کر لی۔ اسی طرح 13 افراد گریڈ 7 میں پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ صرف تین انجینئرز چھ سال سے گریڈ 6 میں رکے ہوئے ہیں۔ حالانکہ سب کے تجربے کی مدت یکساں ہے۔

2021 کے اوائل میں چیف انجینئر کے پروموشن کے لیے انٹرویو ہونے ہیں۔ ایک بار پھر قوی امکان یہی ہے کہ ان تین سینئر افسروں کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا جائے گا اور نظرانداز کر کے حسب معمول ناانصافی کی جائے گی۔

یہاں حیرت انگیز ترقی کی ایک مثال پیش خدمت ہے جس کی وجوہات کے متعلق صرف قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے۔

وجیہہ انور نام کی ایک خاتون کی 5 دسمبر 2008 کو ایگزیکٹو لا آفیسر کے طور پر تقرری ہوئی۔ ان کی قسمت کو داد دیجیے کہ 20 نومبر 2011 کو انہیں گریڈ 5 میں ترقی دے دی گئی۔ 17 جون 2013 کو انہیں مزید ترقی مل گئی اور وہ گریڈ 6 کی افسر مقرر ہو گئیں۔ کامیابیوں اور سرفرازیوں کا یہ سلسلہ ہر دو چار سال بعد ایک نئے پروموشن لیٹر کی شکل میں نکلتا رہا۔

2015 میں انہیں گریڈ 7 مل گیا، 216 میں انہیں گریڈ 8 میں جنرل مینیجر لا بنا دیا گیا۔ یہ خاتون اپنی تقرری کے صرف 7 سال کے اندر گریڈ 4 سے 8ویں گریڈ تک ترقی کر گئیں۔ لیکن اوپر بیان کردہ تین انجینئرز 16 سالوں کے دوران گریڈ 4 سے گریڈ 6 تک ہی پہنچ پائے ہیں۔

اب چونکہ نئے ایم ڈی علی جاوید ہمدانی نے سوئی ناردرن کا چارج سنبھال لیا ہے۔ امید ہے کہ وہ ان افسروں کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کریں گے اور سینیارٹی کی بنیاد پر انہیں انٹرویو کے لیے بلا کر ترقی کی نوید سنائی جائے گی۔

اگر انہیں اس دفعہ انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سوئی ناردرن کا پرانا نظام نئے ایم ڈی کے ہوتے ہوئے بھی موجود ہے۔ یہاں ہم وزیراعظم عمران خان سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیں اور حقدار کو اس کا حق دلانے کا انتظام کریں۔

  • کیوں کرپٹ انچارج افسر ایسی حرامُزدگیاں کرتے ہیں کیوں حرام زادے نطفہ زحرام ایماندار افسروں کو کھڈے لائین لگا تے ہیں لکھ دی لعنت ایسے حرام زادے افسروں پر جو ایماندار افسروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں

  • Har idaary me yahi scene he, dpty cheaf, or cheaf ki post syasi base pe ki jati he, jo jitna palshi wo utna favourite. or education ki base pe upgradattion to abb mazi ka hisa ban gyi.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >