گناہ بے لذت

سینٹ انتخابات مکمل ہوگئے۔۔ چئیرمین سینٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینٹ کے الیکشن بھی ہوگئے۔۔ سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ نے یوسف رضاگیلانی کے ہاتھوں شکست کھائی تو چئیرمین سینٹ کے انتخابات میں یوسف رضاگیلانی صادق سنجرانی کے ہاتھوں شکست کھاگئے اور آصف زرداری کا اپنا چئیرمین سینٹ کا خواب بکھر گیا۔۔

آصف زرداری کے "جادو” سے یوسف رضاگیلانی سینیٹر تو بن گئے لیکن یہ "جادو” چئیرمین سینٹ کے انتخابات میں نہ چل پایا، 7 سینیٹرز آڑے آگئے اور حکومتی امیدوار صادق سنجرانی چئیرمین سینٹ جبکہ تحریک انصاف کے ہی مرزا آفریدی ڈپٹی چئیرمین سینٹ بن گئے۔

سوال یہ ہے کہ اس سارے سینٹ الیکشن میں آصف زرداری نے کیا کھویا ، کیا پایا؟ آصف زرداری یوسف رضاگیلانی کو چئیرمین سینٹ بنوانے میں تو کامیاب ہوگئے۔ سندھ سے مسلم لیگ فنکشنل کی سیٹ اچکنے میں کامیاب ہوگئے لیکن اسکی آصف زرداری کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ زرداری نے بدنامی مول لی ہے اور اپنا تاثر یہ بنالیا ہے کہ وہ پیسہ چلاکر سینٹ الیکشن جیتتے ہیں۔

اس سے قبل 2018 کے سینٹ انتخابات سے متعلق آصف زرداری پر الزام تھا کہ انہوں نے ووٹ خرید کر خیبرپختونخوا سےاپنے 2 سینیٹرز سینیٹر روبینہ خالد اور سینیٹر براہم تنگی کو بنوایا۔2018 الیکشن سے قبل الطاف حسین پر پابندی کی وجہ سے ایم کیوایم میں تقسیم واضح تھی۔ ایم کیوایم مختلف گروپوں میں تقسیم کی جس کا فائدہ پیپلزپارٹی نے اٹھایا اور سندھ میں اپنے مینڈیٹ سے زیادہ سینیٹر بنوالئے۔

ایم کیوایم کے رہنماالزام لگاتے ہیں کہ آصف زرداری نے ضیاء الدین ہسپتال میں بیٹھ کر ایم کیوایم سینیٹرز کو خریدا، انہیں فون کرکے کہا جاتا ہے کہ آکر دوائی لے لیں اور نوٹوں سے بھرے بیگ دئیے جاتے۔

ایم کیوایم پر یہ الزام بھی لگتا ہے کہ 2018 میں صادق سنجرانی کوچئیرمین سینٹ آصف زرداری نے ہی بنوایا اور مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا۔

لیکن جو بھی ہے یہ حقیقت ہے کہ آصف زرداری کو 2018 کے سینٹ الیکشن اور 2021 کے سینٹ الیکشن میں بدنامی ہی ملی آصف زرداری کا تاثر سنیٹر وقار والی فیملی کا ہوگیا ہے۔ جیسے خیبرپختونخوا میں سینیٹروقار الیکشن کیلئے کھڑا ہوتا تو انگلیاں اٹھنی شروع ہوجاتیں کہ یہ شخص ووٹ خرید کر سینیٹر بنے گا ویسی ہی اب آصف زرداری پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

جب 2018 کے سینیٹ الیکشن میں آصف زرداری نے خیبرپختونخوا سے 6 ووٹوں سے 2 سیٹیں حاصل کرلیں، سندھ سے ایم کیوایم کی کئی سیٹیں حاصل کرلیں، صادق سنجرانی کو چئیرمین سینٹ بنوایا، بلوچستان حکومت گرادی تو صحافی اور پاکستانی میڈیا اسے سیاسی جادوگر کہنے لگا لیکن اب آصف زرداری کی جادوگری کو ووٹوں کی خریدوفروخت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

سینٹ الیکشن 2021 میں علی حیدرگیلانی کی ویڈیو، ناصر حسین شاہ کی آڈیو کال نے سارا کام خراب کیا جس کی وجہ سے یوسف رضاگیلانی کی جیت کو مشکوک نظر سے دیکھا جارہا ہے اور یہ تاثر مل رہا ہے کہ آصف زرداری نے پیسہ چلاکر اور سندھ حکومت کے وسائل استعمال کرکے یوسف رضاگیلانی کو جتوایا ہے۔

اگر آصف زرداری اور پیپلزپارٹی فئیر طریقے سے سینٹ الیکشن لڑتیں، بے شک خفیہ ووٹنگ ہی ہوتی تو یوسف رضاگیلانی حفیظ شیخ سے ہارجاتے لیکن ممکن ہے کہ چئیرمین سینٹ اپنا بنوانے میں کامیاب ہوجاتے۔ آصف زرداری کے پاس راستہ تھا کہ وہ یوسف رضاگیلانی کو بھی ویسے ہی الیکشن لڑواکر کامیاب کروالیتے جیسے انہوں نے پنجاب کی پلوشہ خان کو سندھ سے لڑواکر کامیاب کروایا لیکن آصف زرداری اسلام آباد سے الیکشن لڑواکر اور انہیں جتواکر یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ حکومت کے قدم اکھڑ چکے ہیں۔

جس وقت یوسف رضاگیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دی تو اس وقت عمران حکومت کے قدم اکھڑ چکے تھے، پوری تحریک انصاف کا مورال ڈاؤن تھا۔ اپوزیشن کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ عمران خان استعفیٰ دے ورنہ ہم عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے جس پر عمران خان نے عقلمندی یہ کی کہ فوری طور پر اعتماد کا ووٹ لے لیا اور کافی حد تک ڈیمیج کنٹرول کرلیا۔

اگر یوسف رضاگیلانی کوچئیرمین سینٹ کیلئے پیپلزپارٹی نامزد نہ کرتی تو تحریک انصاف بھی اپنی ہی جماعت سے چئیرمین سینٹ کا امیدوار لاتی لیکن وزیراعظم عمران خان نے صادق سنجرانی کو چئیرمین سینٹ کاامیدوار بنادیا جس کی وجہ یہ تھی کہ صادق سنجرانی کے اپوزیشن کےسینیٹرز سے اچھے تعلقات ہیں، وہ اپوزیشن کی کئی جماعتوں کیلئے قابل قبول ہیں اور وہ آصف زرداری کے بھی "سیاسی پینتروں”کو بھی جانتے ہیں جو آصف زرداری نے 2018 میں استعمال کئے تھے۔

یوں صادق سنجرانی نے یوسف رضاگیلانی کو شکست دی، یوسف رضاگیلانی کی ایک سیٹ کے بدلے پیپلزپارٹی اپنے چئیرمین سینٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینٹ سے محروم ہوگئی۔۔ چئیرمین سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف حکومت نے بھی یوسف رضاگیلانی کے ساتھ وہی کچھ کیا جو آصف زرداری نے حفیظ شیخ کیساتھ کیا یعنی یوسف رضاگیلانی کے بھی 7 ووٹ مسترد ہوئے تو یوسف رضاگیلانی سینیٹر بنے اور یوسف رضاگیلانی کے بھی 7 ووٹ مسترد ہوئے تو صادق سنجرانی چئیرمین سینٹ بن گئے۔

یوں آصف زرداری کو یوسف رضاگیلانی کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ یوسف رضاگیلانی اب سینیٹر بن کر اسمبلی میں آئیں گے اور اسمبلی میں صادق سنجرانی کو "جناب چئیرمین” کہہ کر مخاطب کریں گے۔ یوسف رضاگیلانی سینٹ میں صادق سنجرانی کی مرضی سے ہی بولیں گے۔

شنید ہے کہ پیپلزپارٹی صادق سنجرانی کی فتح کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے جارہی ہے۔ بعض قانونی ماہرین کے نزدیک صادق سنجرانی کی فتح چیلنج نہیں ہوسکتی اور اگر چیلنج ہوبھی جائے تو تب بھی یوسف رضاگیلانی کو ریلیف ملنا مشکل ہے۔ اگر ریلیف ملے بھی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ چئیرمین سینٹ کے الیکشن دوبارہ کروالئے جائیں۔

نوازشریف کی لوگ جتنی مرضی تعریفیں کریں لیکن دو چیزوں سے وہ مرتے دم تک جان نہیں چھوٹ سکتی۔ ایک چھانگا مانگا والی سیاست اور دوسرا بے نظیر کی کردارکشی۔۔ اب زرداری بھی پیسہ چلانے والے تاثر سے جان نہیں چھڑا پائے گا۔ جب بھی سینٹ الیکشن کا اعلان ہوگا اور آصف زرداری متحرک ہوئے تو یہی کہا جائے گا کہ آصف زرداری پھر پیسہ چلانے کیلئے ایکٹیو ہوگئے ہیں۔ سینٹ انتخابات کے نیتجے میں پیپلزپارٹی کو ملنے والی سیٹوں کو پیسے کی عینک سے تولا جائےگا کہ کونسی سیٹ میرٹ پر پیپلزپارٹی نے جیتی ہے او رکونسی سیٹ خریدے گئے ووٹوں سے جیتی گئی ہے۔

اگر آصف زرداری یوسف رضاگیلانی کو چئیرمین سیینٹ بنوانے میں کامیاب ہوجاتے تو آصف زرداری کا ممکنہ ہدف صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو ہٹوانا، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹوانا، پنجاب میں عثمان بزدار حکومت کو بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چلتا کرنا اور بلوچستان میں جام کمال حکومت کوگرانا ہوتا لیکن یوسف رضاگیلانی کی شکست ، علی حیدرگیلانی کی ویڈیو اور مشکوک سرگرمیوں نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔

یوں آصف زرداری نے ایک گناہ تو کیا اور وہ بھی گناہ بے لذت۔۔ جس میں آصف زرداری کے ہاتھ بھاری "انویسٹمنٹ” کے باوجود یوسف رضاگیلانی کی سیٹ کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا، جانور نکل گیا اور صرف ایک”دُم” ہی ہاتھ میں آئی ۔

دوسری طرف آصف زرداری کی اس سیاست نے تحریک انصاف کو وقتی طور پر نقصان پہنچایا لیکن فائدہ بھی دیدیا۔ ایک تو عمران خان اعتماد کی تحریک کے ذریعے اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہے، دوسرا تحریک انصاف کا کارکن موبلائز ہوگیا جس کا مظاہرہ ڈی چوک پر دیکھا گیا(اگرچہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے کچھ ماردھاڑ کے واقعات، شاہد خاقان عباسی کو تھپڑ، احسن اقبال کو جوتا ، ہوئے)۔

تیسرا عمران خان صادق سنجرانی کا استعمال کرکے اپنا چئیرمین سینٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینٹ لانے میں کامیاب ہوئے۔ چوتھا یوسف رضاگیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہونے سے پی ڈی ایم میں ہی دراڑیں پیدا ہوگئیں ۔

  • پاکستانی سیاست کو تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے
    پہلی ہے سٹریٹ پولیٹکس یعنی گلی محلوں کی سیاست
    دوسری ہے بیٹھک کی سیاست
    تیسری ہے پارلیمنٹ کی سیاست یعنی اقتدار کے ایونوں کی سیاست
    اپوزیشن سٹریٹ یعنی گلی محلوں کی سیاست میں بری طرح پٹ چکی ہے اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ پارلیمنٹ یعنی اقتدار کے ایوانوں میں بھی بری طرح پٹ رہی ہے اب صرف یہ بیٹھک کی سیاست تک محدود رہ گئے ہیں اس کے علاوہ ان کے پلے کچھ نہیں رہ گیا یعنی یہ چند لوگ کہیں بیٹھک کرتے ہیں اور بیان جاری کر دیتے ہیں اصل سیاست یا تو پہلی گلی محلوں کی سیاست ہے یا تیسری اقتدار کے ایونوں کی
    جس میں یہ پے در پے بڑی طرح شکست کھا رہے ہیں

  • قدرت کا انتقام ! 7 مسترد شدہ ووٹوں سے سینیٹر بننے والا اگلے تین سال تک ہارچوری کی تذلیل برداشت کرے گا .استغفرالله . الله کی لاٹھی بے آواز ہے =

    • گناہ بے لذت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئ کی جماعت میں سے ایک بندہ بھی اس قابل نہیں تھا کہ وہ چیرمین بنتا اور آج بونگی خان بھی اسی سنجرانی کے پچھواڑے کو چاٹ رہا ہے جو کہ بوٹوں کا نمائیندہ تھا اور ہے ۔ پچھلے انتخابات میں بھی بونگی خان نے پچھواڑے پر جوتے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کے پی پی پی کے ساتھ ملکر مسلم لیگ کی غالب اکثیریت کے باوجود بوٹ چاٹے اور روایتی سیاست کو اسی طرح جاری رکھا ۔

      قدرت کا انتقام دیکھیں کہ چیرمین بوٹوں کا نمائندہ اور نائب چیرمین پرانا مسلم لیگی اور غالب اکثیریت کے باوجود پی ٹی آئ والے بوٹ چاٹنے میں پہلے کی طرح مصروف ۔ نسواری ہمیشہ نسواری رہے گا ۔

      • صرف ایک دفعہ ہار چور کہنے پر کتنی تکلیف ہوئی ہے . کوئی آدمی ہر روز ” ہار چور ، ہار چور ” کے الفاظ سن کر کیسے آرام سے رہ سکے گا . یہ ہے قدرت کا انتقام

        • قدرت کا اصل انتقام تو یہ ہے کہ چپڑاسی کہلوانے والا وزیر داخلہ ہواور پنجاب کا بڑا ڈاکو اس چور حکومت کا محافظ ۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

          • Noora haraamis got nothing. The PPP HUMILIATED their fellow crooks. In revenge they spoiled their votes but it was too late. Both haraami parties lost

          • Hay Ass hole. What did Bongi get ? A big kick at his butts . Never mind, doesn’t matter, it was already worthless anyway . His fort is held by decoit Pervaiz Ellahi and his internal matters are looked after by a known peon … Its not funny ,its hilarious.

          • Dickhead, he humiliated your haraamis. You palyed along AZ, gave him what he wanted and you got fuck all. IK is a leader, and your arse holes cant compete with him, the biggest haraami is on the run.

          • Hay Asshole !! You have been hiding under your hole for last couple of days . It looks like when you are out, you still have that little piece of dry shit hanging from your ass… A leader doesn’t need a bus load of lotas and jet full of turncoats … Leader doesn’t need a peon as interior minister, Known corrupt as parliamentary Adviser and A robber as a speaker. Its this state of Medina, the Bongi khan wanted to make… A lotas bus with sugar chor.Atta Chor !!!

          • Hay Asshole: A leader needs to lick the boots in the GHQ , include the corrupt lotas in his lota bus, Allow sugar chors and Atta chors to make millions and then run to hide under the hole whenever people protest ..I wish I could talk about your poodle Bongi, a tit like you …


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >