میٹھے آم اور کڑوا سچ۔۔قصہ 90 ہزار کٹے درختوں کا

میٹھے آم اور کڑوا سچ۔۔قصہ 90 ہزار کٹے درختوں کا

دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے جی ہاں گاؤں کے بارے ہی کہا جاتا تھا کہ منہ سے نکلی کوٹھوں چڑھی سوشل میڈیا بھی گاؤں جیسا ہے ذرا سی بات شئیر ہوئی جھٹ سے وائرل ہو کر آناً فاناً ٹرینڈ بن جاتی ہے۔

پچھلے چند دنوں سے ایک طوفان بپا ہے کہ ملتان میں ڈی ایچ اے نے آم کے باغات کا قتل عام شروع کر رکھا ہے پھر اس خبر کو باقاعدہ ایک کمپین کی شکل دے کر ایک ہی تیر سے ڈی ایچ اے پاک فوج اور حکومت کو شکار کرنے کی ٹھان لی گئی اور یار لوگوں نے اسے کار ثواب سمجھ کر دھڑا دھڑ شئیر کرنا فرض عین سمجھا چند دانشوروں نے تو کاٹے گئے درختوں کو شمار بھی کر لیا کہ 90 ہزار درخت تہ تیغ کر ڈالے گئے۔

آم اور پاکستان:
پھلوں کا بادشاہ ہر دور میں نہ صرف بادشاہوں کی پسند رہا بلکہ اسے شاہی تحفے کا درجہ حاصل رہا اور آم تو سفارتکاری کا ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں سبب سے زیادہ رسیلا خوش ذائقہ اور خوش رنگ آم میرے دیس پاکستان میں پیدا ہوتا ہے۔

آموں کی برآمد کے حوالے سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پہ ہے جبکہ زیر کاشت رقبے کے لحاظ سے یہ چھٹا بڑا ملک جانا جاتا ہے ہر سال اس کی برآمد سے پاکستان 24 ملین ڈالر زر مبادلہ کماتا ہے۔ آم ایک ایسا درخت ہے جس کی گٹھلی سے پتوں تک افادیت ہی افادیت ہے۔

ملتان اور آم:
اولیاء کی سرزمین ملتان جس کے بارے مقولہ عام ہے "چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد گدا گرما و گورستان” اب یہ اپنے میٹھے آموں کے لئے شہرت عالم رکھتا ہے جس کا چونسہ اور انور راٹول اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اسی لئے آموں کے شیدائی کہتے ہیں کہ میٹھے رسیلے آموں کی جنت کوئی ہے تو وہ ملتان ہے۔ پاکستان میں سالانہ 18 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے جس میں سے 13 لاکھ تو پنجاب کی پیداوار ہے۔

ڈی ایچ اے ملتان کے خلاف الزامات:

سوشل میڈیا پر کٹے ہوئے درختوں سے لدی ٹرالی کی تصاویر اور ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا کہ یہ ویڈیو ڈی ایچ اے ملتان کی ہے جہاں آم کے باغات کو کاٹا جا رہا ہے باقاعدہ یہ تک لکھا گیا کہ ڈی ایچ اے انتظامیہ نے 90 ہزار درخت کاٹ ڈالے۔ بس پھر کارٹون ، میمز طنز پر مبنی مواد کی بھرمار ہو گئی۔ ایک ہی سانس میں ڈی ایچ اے فوج اور حکومت کو کھری کھری سنا دی گئیں۔

الزامات کی حقیقت اور BBC کی رپورٹ:
بی بی سی اردو سروس کے ملتان سے نمائندے نے اس ایشو پر باقاعدہ ایک رپورٹ تیار کی جس میں مقامی پراپرٹی ڈیلرز آم کاشت کرنے والے زمیندار ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عہدیداران اور مقامی لوگوں کے بیانات شامل کئے گئے
بی بی سی کے نمائندے نے لکھا کہ مقامی لوگوں نے اس ویڈیو اور تصاویر کی تصدیق تو کی ہے لیکن یہ سات ماہ پرانی ہے اور مزید یہ کہ مذکورہ تصاویر اور ویڈیو سٹی ہاوسنگ سوسائیٹی کے زیر قبضہ رقبے میں درخت کاٹے جانے کی ہیں۔ کسی نے ڈی ایچ اے کے زیر استعمال رقبے میں درخت کاٹے جانے کی تصدیق نہیں کی۔

ڈی ایچ اے کا قیام کب سے ؟
ڈی ایچ اے راتوں رات وجود میں نہیں آئی 2013 میں اس سوسائٹی کی بنیاد رکھی گئی جس نے آہستہ آہستہ رقبہ خریدنا شروع کیا اور آج ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کے پاس 9000 ایکڑ اراضی موجود ہے۔

دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز:
ملتان ایک گنجان آباد شہر بنتا جا رہا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث رہائشیں کم پڑنے لگیں تو ہاوسنگ سوسائیٹیز کی مانگ بڑھنے لگی۔ اس وقت شہر میں ڈی ایچ اے کے علاوہ بحریہ اور سٹی ہاوسنگ سوسائیٹیز جیسی دیگر بہت سی اتھارٹیز کام کر رہی ہیں اور ان بڑے بڑے ناموں کے علاوہ بے شمار چھوٹے چھوٹے پراپرٹی ڈیلرز بھی میدان میں موجود ہیں۔

ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا موقف:
بی بی سی کے نمائندے نے جب MDA کے نگران اعلی آغا علی عباس سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے زیر اہتمام بوسن روڈ اور شجاع آباد روڈ پر کام جاری ہے جسے فیز ون کے لئے تو تمام تعمیراتی کاموں کی اجازت تھی لیکن فیز 2 پہ سٹی ہاوسنگ کو کلی طور پر این او سی نہیں ملا تھا جس کی بنا پر اسے رقبے سے درختوں کی کٹائی سے روکا بھی گیا۔

آغا علی عباس کا کہنا تھا کہ لوگوں کا جو موروثی رقبہ زرعی زون میں نہیں آتا وہاں کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کہ اس رقبے کو فروخت کرنے درخت یا باغات کاٹنے سے روکنا ممکن نہیں۔ ہاں لیکن ملتان میں 1500 سے 1600 ایکڑ رقبہ ایسا ہے جس پر باغات ہیں اور یہاں کسی بھی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دی گئی۔

آم کے زمینداروں کی ایسوسی ایشن کا موقف:
Mango Growers ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے اپنی منشاء سے زمینیں اور باغات فروخت کی ہیں اور لا محالہ ان لوگوں نے اپنا فائدہ سوچا جن کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہے باغات سے ہمیں خاطر خواہ آمدن نہ ہونے کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا۔

پراپرٹی ڈیلر کیا کہتے ہیں؟

شہر کے معروف پراپرٹی ڈیلرز کے نمائندے محمد پرویز نے بتایا کہ جس رقبے کی قیمت 20 سے 35 لاکھ فی ایکڑ تھی وہی رقبہ ڈی ایچ اے شروع ہونے کے بعد ایک کروڑ تک بکا اور آج یہ نرخ دو کروڑ تک جا پہنچے ہیں لوگوں نے کئی گنا زیادہ منافع لے کر نہ صرف رقبہ فروخت کیا بلکہ ان کو پلاٹ بھی حاصل ہو گئے۔

ایک بڑے زمیندار سے بات:
میری ملتان کے ایک بڑے زمیندار سے بات ہوئی جس نے اپنا 200 ایکڑ رقبہ ڈی ایچ اے کو فروخت کیا جس میں سے صرف 40 ایکڑ پر آم کے درخت کھڑے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے یہ 200 ایکڑ بیچ کر رحیم یار خان میں 600 ایکڑ رقبہ خرید کر اس پر آم کے پودے کاشت کر لئے اس طرح میں تو ہر لحاظ سے فائدے میں رہا۔

DHA اور آم کے باغات:
ڈی ایچ کے قبضے میں اس وقت 7000 ایکڑ زمین موجود ہے جو کئی سیکٹرز پر مشتمل ہے اس میں سے تقریبا 400 سے 500 ایکڑ رقبہ ایسا ہے جس پر وقت خرید آم کے باغات موجود تھے۔ محکمہ مال کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جس کھتونی میں باغات تھے وہاں آج بھی سرسبز و شاداب درخت کھڑے ہیں اس کے سیکٹر A , H B2 اور D میں باغات ہیں۔

درخت کٹے یا نہیں؟
ڈی ایچ اے کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے یہ رقبہ خریدا گیا ہے صرف وہ درخت کاٹے گئے جہاں سڑک بنائی گئی اور پالیسی یہ وضع کی گئی کہ اگر ایک درخت کاٹا جائے گا تو اس کے نعم البدل کے طور پر دس پودے اگائے جائیں گے۔

90 ہزار درخت کاٹنے کے الزام کی حقیقت:
اگر یہ الزام سچ مان لیا جائے کہ جو تصاویر اور ویڈیو وائرل ہوئ اس کے مطابق ڈی ایچ اے انتظامیہ نے 90 ہزار درخت کاٹ ڈالے تو دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ کتنے رقبے پر باغات موجود تھے اور اب موقع ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ کتنے کاٹ ڈالے گئے۔

ڈی ایچ اے کے ترجمان کے مطابق اگر 500 ایکڑ پر باغات ہوں تو ترتیب کچھ یوں بنتی ہے، زرعی ماہرین کے مطابق فی الوقت جو طریقہ رائج ہے اس کے مطابق فی ایکڑ کم سے کم 23 پودے اور زیادہ سے زیادہ 76 آم کے پودے لگائے جاتے ہیں۔ ہاں اگر جدید ترین طریقہ ہائے کاشت استعمال کئے جائیں تو پھر فی ایکڑ یہ پودے سینکڑوں میں لگائے جا سکتے ہیں۔

لہذا اگر 500 ایکڑ پر موجود باغات میں فی ایکڑ 76 درخت بھی لگے ہوں تو ان کی کل تعداد 38 ہزار بنتی ہےتو پھر 90 ہزار درخت کہاں سے کاٹے گئے ؟

مینگو Enclave:
ڈی ایچ اے ترجمان کا کہنا ہے کہ باغات پر مشتمل سیکٹر کو Mango Enclave بنا دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بے مثال رہائشی منصوبہ ہے اگر آپ Google پہ جا کے Mango Enclave لکھیں تو آپ کے سامنے DHA ملتان میں قائم یہ اینکلیو دکھائی دے گا یہاں ایک دلکش طرز زندگی آپ کا منتظر ہے جہاں آپ چہل قدمی کرتے ہوئے نکلیں تو چاروں طرف آم کے سرسبز و شاداب اور گھنے درخت ملیں گے۔

مینگو تھیم پارکس:
ڈی ایچ اے انتظامیہ نے آم کے باغات کی ترویج اور مینگو کلچر کو پروان چڑھانے کی خاطر 7 تھیم پارکس بنا دئیے ہیں جو مستقبل میں سیاحوں کے لئے ایک پرکشش مقام بن کر ابھریں گے۔ انہی درختوں کے جھنڈ میں ایک خوب صورت چڑیا گھر بھی زیر تکمیل ہے جو اپنے فطری ماحول کے باعث دیکھنے کے لائق ہو گا۔

عالمی سمپوزیم کا انعقاد:
ڈی ایچ اے انتظامیہ نے پچھلے برس بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک عالمی سمپوزیم کا انعقاد کروایا جس میں ماحولیات کی بہتری درختوں کی اہمیت اور پاکستانی آموں کی بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر پروجیکشن جیسے موضوعات پر بات ہوئی۔

50 ایکڑ پر محیط آم کی نرسری:
ڈی ایچ اے میں 50 ایکڑ رقبے کو آم کے پودوں کی کاشت اور اس کی جدید طریقوں کے مطابق افزائش کے لئے وقف کر دیا گیا ہے یہاں قائم نرسری کو جدید خطوط پر مزین کیا گیا ہے۔

مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سے گفتگو:
میں نے خاص طور پر رابطہ کیا Mango research institute Shuja Abad کے ڈائرکٹر سے جو کہ ملتان کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ ان سے درخواست کی جو شور مچا یے سوشل میڈیا پر کہ ملتان میں آم کے درختوں کا قتل عام جاری ہے تو اس ضمن میں آپ کیا کہتے ہیں، ان نے بات کا آغاز ہی خوبصورت انداز میں کیا کہنے لگے رقبے کو فروخت کرنے والا خود آم کا کاشتکار، اس سے فائدہ اٹھانے والا بھی کاشتکار، اور اس کے خلاف واویلا کرنے والا بھی کاشتکار۔

ان کا کہنا تھا ملتان تو آموں کا گھر ہے آپ جس سمت کا رخ بھی کریں گے آپ کو آم ہی آم ملیں گے اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ملتان میں آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے لہذا گھروں کی تعمیر کے لیے اب رقبہ تو درکار ہے اور لامحالہ اس کی زد میں یا تو زرعی زمینیں آئیں گی یا پھر آم کے باغات۔

انہوں  نے واضح کیا کہ اگر ملتان کے کاشتکاروں نے رقبہ فروخت کیا ہے تو حقیقت یہ بھی یے کہ اس کے بدلے میں بہت سے باغات نئے بھی لگ چکے ہیں اور یہ زیادہ خوش آئند بات ہے کہ برسوں سے پرانے طریقوں پر رائج باغات کو اب کانٹ چھانٹ اور تبدیلی کی ضرورت تھی۔

اگر نئے باغات کو جدید خطوط پر مزین کیا جائے تو فی ایکڑ نہ صرف پودے زیادہ لگائے جا سکتے ہیں بلکہ آم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اگر کاشتکاروں نے بہتر نرخ لے کر اپنا رقبہ فروخت کردیا ہے تو وہ اب زیادہ بہتر طریقے سے آم کے باغات لگا سکتے ہیں اور جدت لا کر زیادہ نفع کما سکتے ہیں۔

ڈی ایچ اے نرسری اور ان کا موقف:
ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈی ایچ اے نرسری بناتی ہے تو اچھا ہے لیکن یہ اس کا فیلڈ نہیں۔

پیارے پڑھنے والو
اس معاملے کے سارے پہلو آپ کے سامنے رکھ دئیے گئے ہیں خلاصہ درج ذیل ہے
1۔ ملتان میں صرف ڈی ایچ اے اکیلی سوسائٹی نہیں دیگر بے شمار ہاوسنگ سوسائیٹیز موجود ہیں
2۔ درخت کاٹنے کی تصاویر اور ویڈیو سٹی ہاوسنگ کی ہے جس کا کوئی نام نہیں لیتا
3۔ مقامی لوگوں نے پانچ گنا منافع کما کر اپنا رقبہ اور باغات فروخت کئے
4۔ ڈی ایچ اے انتظامیہ کے بقول 500 ایکڑ پر آم کے باغات قائم ہیں جہاں سے حاصل ہونے والے آموں کو ہر سال برآمد کیا جاتا ہے۔

حاصل بحث:
کچھ دوست کہتے ہیں زرخیز زمین پر ڈی ایچ اے بسایا ہی کیوں؟ تو دوستو بات یہ ہے کہ اس ملک میں یا تو قانون سازی کر لی جاتی کہ زرعی زمین ہو یا باغات اسے ہر گز کمرشل بنیادوں پر اور خاص طور پرہاوسنگ سوسائیٹیز کو فروخت نہیں کیا جاسکتا پھر اعتراض بنتا۔ اب یہ حقیقت ہے کہ مقامی لوگوں نے برضا و رغبت منافع کما کر رقبہ فروخت کر دیا۔اب اگر کچھ دوست محض پاک فوج اور حکومت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تو میدان کھلا ہے۔

  • اس مسلے پر الزام تراشی وہ کر رہے ہیں
    جنہوں نے پاکستان کے تم جنگلات برباد کرنے کے
    بعد کہا ہم تو جا رہے ہیں لندن اور ہماری اولاد بھی پاکستانی نہیں ہا ہا ہا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >