بیچارہ حماداظہر کیا کرے؟

حماداظہر بیچارہ کیا کرے؟ خان صاحب نے حفیظ شیخ کو ہٹاکر حماد اظہر کو وزیرخزانہ بناکر پھنسا دیا ہے۔ حماداظہر کے وزیرخزانہ بننے کے ایک روز بعد ہی تمام ٹی وی چینلز پہ یہ خبریں چلنا شروع ہوگئیں کہ حماداظہر کی جگہ شوکت ترین کو وزیرخزانہ یا مشیر خزانہ بنایاجارہا ہے۔

ایک ایسے ماحول میں جب حماداظہر کا ابھی وزیرخزانہ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہی تھا اور وزیرخزانہ کی کرسی پر بیٹھے ہی تھے کہ انکی کرسی کے سامنے والے ٹی وی پہ یہ خبرچلنا شروع ہوگئی کہ شوکت ترین کو مشیرخزانہ یا وزیرخزانہ بنائے جانے کاامکان۔۔ یہ خبر دیکھ کر حماداظہر لازما اپنے بیگ کی طرف دیکھتے ہوں گے کہ اگر میری جگہ شوکت ترین وزیرخزانہ بن رہا ہے تو میں کیا بیگ اٹھاکر نکل جاؤں؟

اس صورتحال پر ایک دوست آزاد منش نے بہت زبردست ٹویٹ کیا ہے کہ حماد اظہر بھی بیٹھا سوچتا ہو گا میں نے رہنا ہے یا میں نے جانا ہے میں نے اوپر کام کرنا یا نیچے جانا ہے میرے پاس اختیار ہے یا نہیں ہے

جو صورتحال اس وقت چل رہی ہے جس طرح حفیظ شیخ اور تانیہ ایدریس کو بے عزت کرکے اور الزامات لگاکر نکالا گیا ہے اور ماضی میں اسد عمر کو نکالا گیا تھا ، اس صورتحال کو دیکھ کر حماداظہر بھی سوچ رہا ہوگا کہ شاید مجھے بھی انکی طرح ہی ذلیل ہونا ہے۔

تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کسی بندے کو عہدہ بڑی عزت سے دیا جاتا ہے لیکن جب ہٹانا ہوتو ذلیل کیا جاتا ہے۔ جیسے ماضی میں فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کےالزامات لگاکر اسے معاون خصوصی کے عہدے سے ہٹایا گیا، تانیہ ایدریس اور ڈاکٹر ظفر مرزا پر بھی اسی قسم کے الزامات لگاکر نکالا گیا۔۔

اسد عمر اور حفیظ شیخ بھی عزت سے نہ گئے، یہ سب کرنے کے پیچھے کون ہے؟ اس قسم کے غیرسیاسی فیصلے کرنے کے پیچھے کیا وزیراعظم عمران خان خود ہیں؟ الزام تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر بھی لگتا ہے کہ جیسے ہی کسی کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ میڈیا پر اسکے خلاف الزامات کی خبریں چلوادیتا ہے۔

ایک اور غیرمنتخب صاحب جو کبھی پنجاب میں ہوا کرتے تھے، آج کل وزیراعظم کے قریب ہیں، ان پر اکثر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ کچھ صحافیوں کو خبریں لیک کرتا ہے، کابینہ کی اندرونی کہانی ہو یا کسی وزیرکا دوسرے کیساتھ جھگڑا، یہ صاحب فورا اپنے پسندیدہ صحافیوں کو فون کرکے خبر لیک کردیتے ہیں۔

کہا یہ جارہا ہے کہ شوکت ترین والی کارستانی بھی انہی صاحب کی ہے، حماداظہر کو ڈچ کرنے کیلئے میڈیا پر شوکت ترین کے مشیر خزانہ بننے کی خبر چلوائی اور پھر تھوڑی دیر بعد خود ہی تردید کروادی جس کا اظہار وزیراعظم ہاؤس کو کورکرنیوالے ہی ایک صحافی نے کیا۔

تحریک انصاف کے سپورٹرز کی اکثریت شوکت ترین کو کوئی عہدہ دینے کی مخالف ہے، اسکی وجہ شوکت ترین کی پیپلزپارٹی دور میں کارکردگی ہے جب شوکت ترین کے دور میں مہنگائی 14 فیصد اور شرح سود بھی کم وبیش اتنی ہی رہی۔ شوکت ترین وزارت نہ چلاپائے جس پر پیپلزپارٹی حکومت کو انہیں ہٹاکر حفیظ شیخ کو لانا پڑا جس کے دور میں ڈالر کی قیمت ضرور بڑھی لیکن معیشت کسی حد تک سنبھل گئی۔

شاہزیب خانزادہ کے شو میں شوکت ترین کی تنقید حکومتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ حفیظ شیخ پر تھی کیونکہ اسی حفیظ شیخ نے پیپلزپارٹی دور میں شوکت ترین کی جگہ لی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کو تحریک انصاف کے سپورٹرز کی ان باتوں کہ جو شخص اپنا بنک نہ چلاسکا وہ کیا خاک معیشت سنبھالے گا؟ اپنا بنک دیوالیہ کروانے والا کیا سٹیل مل، واپڈا، پی آئی اے اور دیگر اداروں کو خسارے سے نکال پائے گا؟ وزیراعظم صاحب کو شوکت ترین کی پی پی دور کی کارکردگی بھی دیکھنی چاہئے اور یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حماداظہر عوامی بندہ ہے، پارٹی کا اثاثہ ہے ووٹ لیکر آیا ہے، اسے لوگوں کے مسائل کا پتہ ہے جبکہ شوکت ترین ، حفیظ شیخ جیسے لوگ کل پرویز مشرف کیساتھ ، پھر پیپلزپارٹی کیساتھ، اب تحریک انصاف کے ساتھ کل کسی اور کیساتھ ہوں گے۔

جب تک حماداظہر کو یہ اعتماد نہیں ملے گا کہ وہ وہی باقی ماندہ مدت کیلئے وزیرخزانہ رہے گا ، اہم فیصلے وہی کرے گا تب تک نہ تو غیر یقینی صورتحال ختم ہوگی اور نہ ہی حماداظہر ٹھیک طریقے سے کام کرسکے گا، اسکے سر پر یہی تلوار لٹکتی رہے گی کہ میں کسی بھی وقت حفیظ شیخ، تانیہ ایدریس، ظفر مرزا کی طرح جاسکتا ہوں وہ کچھ نہیں کرسکے گا۔

اسلئے ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان واضح طور پر اور جلدازجلد حماداظہر سے متعلق فیصلہ کریں گے اور جو آئے روز خبریں چل رہی ہیں کہ شوکت ترین کو مشیر خزانہ یا وزیرخزانہ بنایا جارہا ہے اسکی واضح طور پر اور خود آکر تردید کریں اور دوسری بات یہ کہ کسی کو ذلیل کرنے کی روایت ختم ہونی چاہئے، اگر کسی سے استعفیٰ لیا جارہا ہے تو لوگوں میں یہ تاثر جانا چاہئے کہ یہ استعفیٰ لیا نہیں گیا بلکہ ذاتی وجوہات کی بناء پر خود دیا ہے۔ہر شخص کی عزت نفس ہے اسکا خیال رکھنا چاہئے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>