کسی قوم کو اگر تباہ کرنا ہے تو ایٹم بمب اور اسلحہ بارود تو بہت پرانا ہو چکا ہے

امید نو

کسی مشہور یونیورسٹی کی بیرونی دیوار پر لکھا گیا کسی دانشمند کا یہ قطع مجھے بہت بھاتا ہے۔

"کسی قوم کو اگر تباہ کرنا ہے تو ایٹم بمب اور اسلحہ بارود تو بہت پرانا ہو چکا ہے ان کا تعلیمی نصاب تباہ کر ڈالو انکے امتحانی کلچر میں نقل کو فروغ دو نسلیں خود بخود تباہ ہو جائے گی”

غور کیا جائے تو بلکل حقیقت پر مبنی بات ہے۔ججز عدالتوں میں غلط فیصلے کرے گے۔انجینیرز عمارتیں گرائیں گے،ڈاکٹرز جانیں لے گے اور کرپٹ لوگ حکمرانی کرے گے۔(اور ملک تباہ،نسلیں برباد)

پاکستان کا موازنہ تعلیم یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام سے کیا جائے تو پاکستان بہت پیچھے نظر آئے گا اور باقی رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر ڈالی۔پاکستان میں آدھے سے زیادہ سال تو تہواروں کی چھٹیوں کی نظر ہو جاتا ہے۔

پوری دنیا پر اس وقت یہ کرونا نامی وبا اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑے اپنے پر پھیلائے نظر آتی ہے۔لیکن بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنا تعلیمی نظام بند نہیں کیا بلکہ مکمل SOP’s کے ساتھ تعلیمی نظام جاری و ساری رکھا۔پاکستانی قوم جس بحران کا شکار ہے اس صورتحال میں نئے سائنسدان نئی جدت کے ساتھ چاہیے،نئے ڈاکٹرز نئے تجربات کے ساتھ چاہیے۔لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سارا تعلیمی نظام آن لاٹن کر دیا گیا۔وہاں استاد چیختا رہتا اور طلباء موبائل، لیپ ٹاپس آن کر کے سوئے رہتے ہیں اور ذرا سا ہوش آنے پر ہاں ہوں بول دیتے ہیں۔

جس قوم کو اس کڑے وقت میں نۓ ذہنوں،ادیبوں اور دانشوروں کی ضرورت تھی وہاں کی نوجوان نسل ڈھلتے دسمبر پر سستے شاعر بن کر اپنے عاشق ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور کوئی جنوری کے جھاروں اور ملگجے اندھیروں پر قیاس آرائیاں کرتا نظر آتا ہے۔

پاکستانی قوم جوشیلی اور جزبوں سے بھری قوم ہے۔اگر نوجوانوں کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے ملک و قوم کو مستفید کرنا ہے تو انکا لہو پھر سے گرمانا ہو گا۔انکو روشنی کی کرن دکھانی ہو گی ان میں وہ رمق جگانی ہو گی جو اقبال اپنے شاہینوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔

میں اس آن لائن سسٹم کے خلاف نہیں ہوں بلکہ نئے طریقے سیکھنے اور سکھانے چاہیے۔لیکن!پہلے اس سسٹم کا عادی بنایا جائے کسی بوجھ کی طرح طلباء پر مسلط نہ کیا جائے۔بلکہ step by step بتایا اور سمجھایا جائے۔میری ذاتی رائے ہے کہ جونہی ادارے کھلے ہر ہفتے طلبا کو ایک motivational lecture دیا جائے لہو گرمایا جائے۔تاکہ وہ آرام جو انکی نس نس میں بس گیا وہ ختم ہو تعلیم کی اہمیت کو جان سکے سال نو کے ساتھ صبحِ نو کی طرف لوٹے۔ اپنی تقریر سنوارے، ملک و قوم کا مستقبل بدلے اور نۓ جہان دریافت کرے۔

ردا بشیر،ظفروال

  • This article lacks facts. The same students from Pakistani schools do miracles in the western world. I personally taught many subjects in my gard years to high school students who were lagging behind in their subjects specially math. I took the calculator away from them and provide them the methodology we learnt in our schools. The students made great progress. Their parents actually came to meet me to understand how can an immigrant from a third world country have better concepts than the students in America.
    I am associated with education industry, we just lack opportunities but our education material is not as bad as projected in the article.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >