اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد کے واقعے پر وزیر اعظم کا نوٹس لینا کافی ہے؟

تحریر: عینی سحر

اسلام آباد: لڑکے اور لڑکی پر تشدد کے واقعہ پر وزیر اعظم کا نوٹس

چند دن قبل سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیلنے والی افسوسناک ویڈیو دیکھی گئی جسمیں دو بے بس نوجوان لڑکے اور لڑکی کو بری طرح پیٹا گیا انکی تذلیل کرکے جبری طور پر انکی نازیبا ویڈیو بنائی گئی۔

جس پر سوشل میڈیا پر مرکزی ملزم عثمان اور اسکے ساتھیوں کے لیے سخت غم وغصہ کا اظہار کیا گیا اور ملزموں کو کڑی سزائیں دینے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ پینل پر بہت تیزی سے ابھرتا ہوا ٹاپ پر پہنچ گیا سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی ان آوازوں کا اثر یہ ہو اکے اسلام آباد پولیس نے ملزموں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا لیکن با اثر ملزمان ابھی بھی طاقت اور اثر رسوخ کے بل پر دھمکی آمیز پیغامات سے باز آتے دکھائی نہیں دیتے۔

یہ واقع مئی میں ہوا جسکی فوٹیج سوشل میڈیا پر چند دن پہلے چلائی گئی اس افسوسناک واقعہ نے انسانیت کا درد رکھنے والے ہر زی روح کو ہلا کر رکھ دیا کوئی شخص کسی بھی بے بس انسان پر تشدد اور تذلیل کا حق نہیں رکھتا، معاملہ یہیں تک رکا نہیں اسکی بازگشت اقتدار کے درودیوار تک پہنچ گئی اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کو ٹیلی فون کیا اور اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات طلب کیں اور ہدایت کی کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اسلام آباد پولیس اپنے تمام وسائل اور توانائی بروئے کار لائے کیوں کے ایسے لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

وزیرعظم کا اس واقعہ کا نوٹس لینا حوصلہ افزا ہے لیکن یہ سوال ذہن میں ضرورابھرتا ہے کے آخر وہ کونسی انتظامی یا معاشرتی کمزوریاں ہیں جو ان جیسے لوگوں کو ایسے گھناؤنے جرم کرنے میں دلیر بناتی ہیں . ضرورت اس امر کی ہے کے قانون کے نظام اور ریاستی عملداری کو یقینی بنا کر ان جسے واقعات کا مکمل سدباب کیا جاۓ تاکے آئندہ کوئی ایسی گھناؤنے جرم میں ملوث نہ ہو۔

ماضی کے واقعات سے ہم نے سیکھا کے حکمرانوں کا مجرمانہ واقعات پر نوٹس لے لینا ہی کافی نہیں بلکے ضروری ہے کے قانون پر عمل کرتے ہوئے ایسے واقعات کے موجب افراد کو واقعی سزا دے کر ریاست میں مثال قائم کی جائے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے

تحریر: عینی سحر


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>