کیا صحافی قانون سے بالاتر ہیں؟

کیا صحافی قانون سے بالاتر ہیں؟راشد احمد

کچھ روز قبل ندیم ملک کے انکشافات پر ایف آئی اے نے ندیم ملک کو نوٹس بھیجا۔نوٹس میں سماء ٹی وی کے اینکر ندیم ملک سے کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ونگ کو اُن کے ایک پروگرام میں بیان کیے گئے واقعات کے بعد معلومات درکار ہیں۔ ۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ندیم ملک متعلقہ معلومات، دستاویزات اور شواہد ہمراہ لے کر آئیں۔

ندیم ملک کو یہ نوٹس 28 اپریل کو اپنے ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کرنے پر جاری کیا گیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں 2 اعلیٰ عہدیداروں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کو انکی نازیبا ویڈیو ہونے سے متعلق بتایا تھا جس کی بنیاد پر جج ارشد ملک سے نواز شریف کی نااہلی فیصلہ کرایا گیا۔

اسکے بعد ندیم ملک کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اپنے شو میں ندیم ملک کا کہنا تھا کہ اگر آپ حق حلال کے ہیں تو پھر اسکی وضاحت جاری کریں ورنہ شام کو آجائیے ، میں دفتر میں موجود ہوں جس نے آ کر پکڑنا ہے ، پکڑ لے ۔ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گا نہ خبر کا سورس دوں گا۔

ندیم ملک نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شہزاداکبر پر بھی سنگین الزامات لگاتے ہوئے ذاتی راز کھولنے کی دھمکیاں دیں۔

ندیم ملک کو نوٹس ملنے پر انکے ساتھی صحافی اور صحافتی تنظیمیں بھی میدان میں آگئیں اور ندیم ملک کو ملنے والے نوٹس کی سختی سے نہ صرف مذمت کی بلکہ اسے صحافیوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافی قانون سے بالاتر ہیں؟ ان کا احتساب نہیں ہوسکتا؟ اگر کوئی صحافی غلط خبردے تو کونسا ادارہ ان کا احتساب کرے گا کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ اگر پیمرا کسی فیک نیوز پر یا بے بنیادالزامات پر نوٹس بھجوائے تو اسے بھی صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔

ندیم ملک کو ملنے والا نوٹس کوئی حکمنامہ نہیں تھا کہ بلکہ ان سے یہ کہا گیا تھاکہ انکے انکشافات کی روشنی میں ان کے پاس جو معلومات ہیں وہ دیدیں تاکہ کیس میں مدد ہوسکے لیکن ندیم ملک نے بجائے معلومات دینے کے سینہ زوری شروع کردی اور دھمکیاں دینا شروع کردیں کہ میں اپنا سورس نہیں بتاؤں جو کرنا ہے کرلو۔

ندیم ملک کے اس ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے جو انکشافات کئے تھے وہ جھوٹ پر مبنی تھے۔ اگر سچائی پر مبنی ہوتے تو لازمی ایف آئی اے کی مدد کرتے۔ ماضی میں کئی صحافیوں نے عدالتوں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد کی ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ رؤف کلاسرا نے پیپلزپارٹی کی ایل این جی ڈیل پر سٹوری کی تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخارچوہدری نے کلاسرا سے ایل این جی پر معلومات اور معاونت لی۔ حامد میر نے 2016 میں دھاندلی کمیشن میں جوڈیشل کمیشن کو شواہد دئیے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

پاکستان میں سینئر صحافیوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ کسی پر بھی الزام لگادیتے ہیں، جعلی خبریں پھیلاتے ہیں جب ان کے خلاف کاروائی ہو تو کہتے ہیں کہ آزادی صحافت پر حملہ ہوگیا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے قصورجنسی زیادتی کیس میں شواہد ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس نے بلایا تو معلوم ہوا کہ اس نے غلط بیانی کی تھی ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف کاروائی ہوئی تو کوئی صحافی اسکے حق میں کھڑا نہیں ہوا کیونکہ صحافیوں کی اکثریت ڈاکٹر شاہد مسعود کی مخالف تھی۔

اسی طرح غریدہ فاروقی نے مہمند ڈیم پر پروگرام کرڈالا جب انہیں بھی سپریم کورٹ نے بلایا تو غریدہ فاروقی کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں تھا بلکہ الٹا اپنی بے عزتی کروابیٹھیں۔ ندیم ملک کی خبریں بھی ڈاکٹرشاہد مسعود اور غریدہ فاروقی جیسی لگتی ہیں ۔ اگر سچائی ہوتی تو وہ ضرور معلومات دیتے اس طرح ٹی وی پر بیٹھ کر روز دھمکیاں نہ دے رہے ہوتے۔

پاکستان عجیب ہی ملک بنتا جارہا ہے کہ جہاں کسی سیاستدان کے خلاف کاروائی ہوتو سیاسی انتقام اور سیاسی شہید بننے کی کوشش، کسی جج کے خلاف کاروائی ہو تو عدلیہ پر حملہ، کسی عالم دین کے خلاف کاروائی ہو تو اسلام کے خلاف سازش، کسی صحافی سے باز پرس ہوتو آزادی صحافت پر حملہ۔۔ٹیکس چور تاجروں سے ٹیکس وصولی یا کاروائی ہو تو کاروبار تباہ کرنے کی ساز ش کا الزام۔۔ یہاں مختلف طبقات اپنے آپکو قانون سے بالاتر سمجھنا شروع ہوگئے ہیں۔

یہاں ایک صحافی کسی کی بھی پگڑی اچھال کر چلاجاتا ہے، اسکی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھال کر اور ذرائع کی آڑ میں جعلی خبریں پھیلاکر ایک طرف ہوجاتا ہے لیکن کاروائی کی بات آئے تو آزادی صحافت پر حملہ ہوگیا، صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہےکہ کیا میڈیا مقدس گائے ہے؟

پاکستانی صحافت کا یہ عالم ہے کہ کچھ روز قبل گوادر میں ارشد شریف نے صدیق جان کو مارا پیٹا ، تشدد کیا لیکن کسی صحافی میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ ارشد شریف کی مذمت کرسکے ۔ اگر یہی حملہ صدیق جان نے ارشد شریف پر کیا ہوتا تو ہر صحافی صدیق جان پر چڑھائی کررہا ہوتا، اسے تحریک انصاف سے جوڑ کر تحریک انصاف کی مذمت کی جاتی لیکن ارشد شریف طاقتور تھا اور صدیق جان "ماڑا بندہ” ، ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا جو اپنی محنت کے بل بوتے پر کسی مقام تک پہنچا۔

یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اپنی کریڈیبلٹی کھوچکا ہے، جن صحافیوں کے جھوٹ کو کسی زمانے میں سچ سمجھا جاتا تھا۔ آج وہ سچ بولیں یا جھوٹ، انکی باتوں کو جھوٹ ہی سمجھاجاتا ہے۔کل تک لوگ طلعت حسین ،رؤف کلاسرا، حامد میر، ندیم ملک جیسے لوگوں کو شوق سے سنتے تھے لیکن آج لوگ ان سینئر صحافیوں کی بجائے صدیق جان، عدیل وڑائچ، عیسیٰ نقوی کو سننا پسند کرتے ہیں۔

  • They have the easiest job in the world, sensationalize, and twist the facts, in return, they get favors from corrupts + heavy salaries. Some do anti-state propaganda, some challenge the state, nothing short of a mafia.

  • Another day in Banana Republic.

    یہ نظام اتنا کھَسّی ہو چُکا ہے کہ ایک صحافی کا بھی کُچھ نہیں اُکھاڑ سکتا۔
    ایک عام شہری کا دفاع کیا خاک کرے گا۔

  • Thank you Rashid Ahmed sahib.
    You are 100% correct.
    I used to watch talk shows of Shahid Masood, Arshad Sharif, and even Hamid Mir. Not anymore.
    Now I watch Siddique Jan, Adeel Waraich, Isa Naqvi, Imran Khan, Imran Waseem, Iqrar Kasana, Irfan Hashmi, Shahabuddin.

  • till the court doesn’t bad these journalist, they will not learn a lesson. these anchors think they came direct from heaven and they have all the answers to everything, but in reality they r beyond pathetic.

  • till the court doesn’t bad these journalist, they will not learn a lesson. these anchors think they came direct from heaven and they have all the answers to everything, but in reality they r beyond pathetic.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >