آزاد کشمیر انتخابات:ریاستی اور مہاجرین کی سیٹوں پر کس پارٹی کی کیا پوزیشن ہے؟

آزاد کشمیر انتخابات:ریاستی اور مہاجرین کی سیٹوں پر کس پارٹی کی کیا پوزیشن ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن، ریاست کی 33 نشستوں پر کیا ہو گا؟ آزاد کشمیر الیکشن کے لئے  مورخہ 25 جولائی اتوار کو پولنگ ہونے جا رہی ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے تقریبا ایک ماہ بھرپور انتخابی مہم چلائے رکھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جلسوں اور ریلیوں میں جو زبان استعمال کی گئی جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا وہ قابل مذمت ہے اور اس سے وادی کے اس پار کوئی اچھا تاثر نہیں گیا۔

بجائے اس کے کہ ہمارے رہنما پارٹی منشور پیش کرتے عوام کے مسائل کے حل کی بات کرتے آزادئی کشمیر کے لئے جدوجہد تیز کرنے کے لئے لائحہ عمل پیش کرتے ان کا سارا زور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر لگا۔ انتہائی نفرت انگیز بازاری زبان استعمال کر کے تمام جماعتوں نے ثابت کیا کہ ہمارے پاس اب لیڈر شپ کے نام پر سوائے نوٹنکیوں اور گیدڑ بھبھکیوں کے کچھ بھی نہیں۔
اب آتے ہیں انتخابی نتائج کی جانب۔۔۔ ن لیگ پچھلے پانچ سال سے آزاد کشمیر میں برسر اقتدار چلی آ رہی ہے اور یہ اس کا پلس پوائنٹ ہے۔ پیپلز پارٹی کچھ حلقوں میں بہت مضبوط ووٹ بینک رکھتی ہے اور یہاں وہ زوردار مقابلہ کرتی نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف اگرچہ ماضی میں یہاں محدود رہی ہے مگر پہلا الیکشن ہے جس میں تقریبا تمام نشستوں پر اس نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ مسلم کانفرنس اپنی بقاء کی جنگ لڑتی نظر آ رہی ہے۔

ایک عام تاثر یہی رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات وہی جیتتا چلا آیا ہے جس کی پارٹی کی حکومت اسلام آباد میں ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کیا یہ تاثر قائم رہتا ہے یا برج الٹتے ہیں۔ اس فلسفے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کا ووٹر با شعور ہے اور اسے خبر ہے کہ اگر مرکز سے گریز کر کے حکومت بن بھی گئی تو فنڈز کی دستیابی اور دیگر کام سہل نہیں ہوں گے۔

غیر جانبدار حلقوں نے الیکشن سے قبل بھمبر سے نیلم تک جو سروے کئے ان کے مطابق پی ٹی آئی الیکشن تو جیت جائے گی لیکن واضح اکثریت سے محروم رہے گی اور حکومت بنانے کے لئے اسے دیگر جماعتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

ان حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی 12 سے 16 سیٹیں جیتے گی، جبکہ دوسرے نمبر پہ ن لیگ کو قرار دیا جا رہا ہے جو 7 سے 8 نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہے، تیسرے نمبر پہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بتایا جا رہا یے جسے 3 سے 4 سیٹیں ملتی نظر آتی ہیں جبکہ مسلم کانفرنس کو بمشکل دو تین نشستوں کا مارجن دیا گیا ہے۔

چند حلقے ایسے بھی ہیں جہاں سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والے امیدوار مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ کالعدم جماعت ٹی ایل پی  کا ووٹ بینک بھی کہا جا رہا ہے۔ اس کے امیدوار جیسے تیسے کر کے میدان میں اترے تو ان کو ملنے والے ووٹ چونکا دینے والے ہوں گے اور ہو سکتا ہے اکثر حلقوں میں ان کے ووٹوں کا تناسب جیتنے والے امیدواروں کی توقعات پہ پانی پھیر دے۔

اس کے بعد مرحلہ ہو گا گجرات سے کراچی تک پھیلے ہوئے مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستوں کے نتائج کا
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان میں سے حکمران جماعت تحریک انصاف آسانی سے 7 سے 8 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جبکہ 4 سیٹیں ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے حصے میں جاتی نظر آتی ہیں۔

اگر یہ تجزیہ عملی طور پر کامیاب رہتا ہے 45 کے ایوان میں تحریک انصاف سادہ اکثریت لینے میں کامیاب رہتی ہے تو پھر دیکھنا ہو گا کہ حکومت سازی کے لئے وہ کس کو ساتھ ملائے گی۔ کچھ آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوتے ہیں تو لا محالہ وہ تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے اور اگر پیپلز پارٹی کچھ نشستیں لینے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ بارگین کی بہتر پوزیشن میں ہو گی۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پیش بندی کر لی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو سامنے رکھ کر تحریک انصاف کے اقتدار کا ہر ممکن راستہ روکنے کی کوشش کریں گے اور مخلوط حکومت کے لئے اپنے داو حربے استعمال کریں گے۔

ن لیگ نے پہلے سے دھاندلی کا بیانیہ پروان چڑھا رکھا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ 33 میں سے صرف 14 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار کر ن لیگ الیکشن جیت جانے کے دعوے کرتی دکھائی دیتی ہے اور ساتھ ہی وارننگ بھی کہ خبردار کوئی ہمارا الیکشن چرانے کی کوشش نہ کرے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے بارے کہا جا رہا یے کہ اس کے صرف 8 حلقوں پہ امیدوار مقابلے میں اترے ہیں۔

دیکھئے اب کی بار کشمیری کس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ دعا یہی ہے کہ پولنگ پر امن طریقے سے انجام پائے اور الیکشن منصفانہ آذادانہ غیر جانبدارانہ ہوں۔ کشمیریوں کو ان کی منتخب قیادت میسر آئے جو ان کی محرومیوں کا ازالہ کر پائے۔
پاکستان زندہ باد
کشمیر پائندہ باد


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>