خون آلود پولنگ،آزاد کشمیر کی فضاؤں کو زہر آلود کرنے کا گناہ گار کون؟

آزاد کشمیر الیکشن میں خون آلود پولنگ

آج آزاد کشمیر کے ریاستی انتخابات کے لئے پولنگ ہوئی اور اکثر مقامات سے لڑائی جھگڑے فائرنگ کی خبریں آرہی ہیں۔ چڑھوئی کے ایک پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ سے کئی لوگ زخمی ہیں اور دو جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طرح چوکی سماہنی سے بھی ایک جماعت کے کارکنان پر پتھراو اور ڈنڈوں سے حملہ کیا گیا زخمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں، یہ سب کیا ہے ؟

نفرتوں کے زہر میں بھگوئے جو بیج ایک ماہ سے الیکشن مہم میں بوئے جا رہے تھے آج وہ کانٹوں بھری فصل کاٹنے کا دن ہے، تمام جماعتوں کے رہنماوں نے اس الیکشن مہم میں جس قدر زہر اگلا ایک دوسرے پہ ذاتی حملے کئے کردار کشی کے لئے جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ باعث ندامت بھی تھا اور باعث مذمت بھی۔

اب ووٹرز سپورٹرز کے اندر بھی یہ نفرت تلخی سرایت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ آج دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خدا کرے کہ الیکشن پر امن طریقے سے نبٹ جا ئے کوئی بڑا سانحہ نہ ہو۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ آج جتنے بھی لوگوں کی ہلاکت پولنگ اسٹیشنز پہ ہو ان کے قتل کی ایف آئی آر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ان سربراہان کے خلاف درج ہو جو پوری الیکشن مہم میں زہر افشانی کرتے رہے۔

تاریخ کا وہ دن سیاہ اور تاریک دن تھا جب ریاست کے اندر پاکستانی سیاست نے قدم رکھا، حالانکہ آزادکشمیر کے اندر پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کی مداخلت کا کوئی تک نہیں بنتا تھا۔ سنا ہے کہ آغاز میں سردار عبد القیوم اور سردار ابراہیم جیسے کشمیری لیڈرز نے بہت ہاتھ باندھے کہ پاکستانی سیاست اور سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر سے دور رکھا جائے۔

تاریخ کبھی ان کرداروں کو معاف نہیں کرے گی جو آزاد خطہ کی سیاسی فضاوں کو آلودہ کرنے کا باعث بنے، اسلام آباد کا کردار ایک بڑے بھائی جیسا ہونا چاہیے تھا جس کی شفقت میں آزاد کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا جاتا کہ وہ مقامی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے اپنے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں سیاسی عمل کو پروان چڑھاتے ہوئے ووٹ کا حق استعمال کریں اور اپنے امیدواروں کا چناو آزادانہ منصفانہ غیر جانبدارانہ ممکن بنا پائیں لیکن سارا الزام پاکستانی سیاست دانوں کے سر دینا بھی قرین انصاف نہ ہو گا۔

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت سے بھی فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جو ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر پاکستانی سیاست دانوں کو کشمیریوں کے سیاسی حق پہ شب خون مارنے کی دعوت بھی دیتے رہے اور راہ ہموار کرتے رہے آج بھی گیا کچھ نہیں۔

اس الیکشن کے بعد آزاد کشمیر کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ جائے آج تک ہونے والے نقصان کا تعین کرے قومی وجود پہ لگنے والے زخموں کا شمار کرے اور پھر طے کرے کہ ہم اپنی آزادی خود مختاری پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی طرح پاکستانی قیادت بھی اہل کشمیر پہ رحم کھائے مزید ان کا تماشا نہ بنائے۔

اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے تک محدود رہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاست کو مکمل طور پر اس خطے کے باسیوں کو سونپ دیں کہ وہ اپنی قیادت کا چناو خود کریں لیکن یہ اس وقت تلک ناممکن ہے جب تک خود آزاد کشمیر کے باسیوں کو اس بات کا ادراک نہ ہو جائے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>