چوک میں پھانسی کا مطالبہ نیا نہیں!

موجودہ مطالعہ پاکستان اور جنرل ضیاء کے دور میں ایجاد ہونے والے نظریہ پاکستان سے جان چھڑائے بغیر سماج کی ترقی ممکن نہیں۔

یہ مارچ 1972 میں روزنامہ جنگ کا ایک تراشہ ہے، جو مبشر زیدی نے اپنی وال پر شیئر کیا، اخبار کی خبر میں مولانا فضل الرحمان کے والد اور اس وقت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مفتی محمود صدر بھٹو سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے جنرل یحیی کو سرعام پھانسی دی جائے۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے تین ماہ بعد شائع ہونے والی اس خبر سے دو باتوں کی وضاحت ہوتی ہے، پہلی یہ کہ جب سقوط ڈھاکا ہوا تو پاکستان کے عوام ملک دولخت کرنے کا ذمہ دار ایک فوجی جرنیل کو سمجھتے تھے مگر اب بھٹو شہید کو سمجھتے ہیں، یہ تصور اسٹبلشمنٹ کی زبردست محنت سے بدلا گیا ہے، ادھر تم ادھر ہم اور ٹانگیں توڑدوں گا جیسے من گھڑت اور پس منظر کے بغیر بیانات کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کرکے ان کی کردارکشی اس لئے کی گئی ہے تاکہ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے ذمہ دار جرنیلوں کو دودھ کا دھلا ثابت کیا جاسکے۔

اس خبر کا ایک دوسرا پہلو ہے کہ مفتی محمود نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو صدر کہہ کر مخاطب کیا ہے، یہ وہی عہدہ ہے کہ جس کو ذوالفقار علی بھٹو کے ناقدین آج سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کہتے ہیں، پاکستان کے عوام پہلے ایسا نہیں سوچتے تھے مگر مطالعہ پاکستان نے پاکستان کی تاریخ ہی بھلادی، دراصل اس وقت دولخت ہوئے ملک کے پاس جو عبوری آئین تھا، اس میں ملک کے حکمران کے پاس ایک ایسا عہدہ تھا جسے صدرمملکت بھی کہا جاتا تھا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی ۔۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اس عبوری آئین کے تحت حلف اٹھایا اور صدر بن گئے، بعدِ ازاں انہوں نے نیا آئین بنایا اور اس کے تحت وزیراعظم کا حلف لے کر اپنے اختیارات پارلیمان یعنی عوام کے سپرد کردئیے۔

موجودہ مطالعہ پاکستان اور جنرل ضیاء کے دور میں ایجاد ہونے والے نظریہ پاکستان سے جان چھڑائے بغیر سماج کی ترقی ممکن نہیں۔

تحریر: عثمان غازی


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>