بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ غیرمستحق افراد کے نام نکالنے پر بلاول پھٹ پڑے

Bilawal BISP

بلاول زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد  غیر مستحق افراد کے نام نکالنے کے حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

اپنے مذمتی بیان میں بلاول  کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بنانے والے الیکشن منشور سے پہلے ہی یوٹرن لے چکی ہے، تجاوزات کے نام پر بے گھر اور بے روزگار ہونے والوں کے معاملے سے بھی حکومت آنکھیں چرا رہی ہے۔

بلاول نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ان خواتین کے لیے لائف لائن ہے جو اپنے بچوں کی خاطر فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

بلاول نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا  کہ حکومت فوری طور پر فیصلہ واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی ہر فورم پر اس کی شدید مخالفت کرے گی، پیپلز پارٹی عوام دشمن اور خواتین دشمن پالیسیوں پرعمل درآمد ہونے نہیں دے گی، حکومت کا جو ممبر اس معاملے پر خاموش رہے گا وہ غریبوں کے معاشی قتل کے جرم میں برابر کا مجرم ہوگا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد شہریوں کو بے نظیر انکم سپورٹ گرام (بی آئی ایس پی) سے نکال دیا ہے جن کے بارے  میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ لوگ غیر مستحق ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالے گئے افراد میں بیرون ملک دورہ کرنیوالے ، گاڑی رکھنے والے، چھ ماہ تک موبائل یا ٹیلیفون کا 1000 روپے تک بل دینے والے، نادرا کے ایگزیکٹو سینٹرز سے پاسپورٹ بنوانے والے اور سرکاری ملازم شامل ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر  نے کل ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالے گئے تمام غیر مستحق افراد 2011 سے سپورٹ فنڈ حاصل کر رہے تھے۔ پروگرام میں بہت سارے غیر مستحق افراد کو شامل کیا گیا تھا جنہیں اسکریننگ کر کے نکالا گیا ہے، جن افراد کو پروگرام سے نکال رہے ہیں ان کی جگہ نئے  اور مستحق افراد کو شامل کیا جائے گا۔

  • لعل شہباز قلندر کی سرزمین کی بیٹی بینظیر اتنی معصوم اور سادہ تھی کہ لندن کے جیولر سے ایک لاکھ سات ہزار پونڈز کا ہیرے کا ہار خریدا، دس ہزار پونڈ کی ادائیگی بذریعہ کریڈٹ کارڈ کی، باقی کی ستانوے ہزار پونڈ کی ادائیگی بذریعہ چیک کردی۔

    یہ چیک بومر فنانس نامی آفشور کمپنی کا تھا جسے بینظیر نے اپنے دور حکومت میں ایس جی ایس کوٹیکنا سکینڈل میں بارہ ملین ڈالرز کے کک بیکس دلوائے تھے۔

    یہ کمپنی بینظیر کی ہی تھی۔

    بینظیر نے اپنا ہیرے کا یہ ہار سوئس بنک کے لاکر میں رکھوایا تو وہاں کے قانون کے مطابق انہوں نے خریداری کی رسید مانگی۔ بینظیر نے رسید اور چیک کی کاپی جمع کروا دی۔

    بعد میں جب سویئس مقدمہ بنا تو وہاں کی عدالت نے یہ تمام ریکارڈ نکلوا لیا اور سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا اور بینظیر کی ملی بھگت سے کرپشن ثابت کرکے بینظیر کو سوئس کی عدالت میں سزا سنا دی گئی-

    آج اسی معصوم عورت کی برسی پر یہ جاہل قوم دسمبر کی اداس شاموں میں غمگین نظر آرہی ہے!!!


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >