اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، کسی نے اغواءنہیں کیا

Mehak Kumari

جیکب آباد سے پانچ روز قبل پراسرارطور پر لاپتہ ہونے والی مہک کماری اور اس کے شوہر علی رضا سولنگی کو سول جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں نومسلم لڑکی علیزہ نے 164 کا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، کسی نے اغواءنہیں کیا۔

مہک کماری کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر علی رضا سولنگی اور اس کے خاندان پر اغواءکا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ مہک کماری نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اسے تحفظ دیا جائے اور مقدمات ختم کیے جائیں۔

لڑکی کے بیان پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔دوسری جانب لڑکی کے ورثاءنے موقف اختیار کیا کہ لڑکی نابالغ ہے، لہٰذا لڑکی کو ان کے حوالے کیا جائے۔

والد وجے کمار نے سول لائن تھانے میں بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ان کی 14 سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ان کی بیٹی کا زبردستی مذہب تبدیل کروا دیا جائے گا

مقدمے کے اندراج کے بعد لڑکی کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں اس نے مرضی سے شادی کرنے اور اسلام قبول کرنے کا بیان دیا تھا اورکہا تھا کہ اس نے علی رضا نامی لڑکے سے پسند کی شادی کرلی ہے اوراب اس کا نام علیزہ رکھاگیاہے۔

نویں جماعت کی طالبہ عرف مہک کماری کے مبینہ اغوا اور مذہب تبدیل کروانے کے معاملے پر مقامی ہندو برادری عدالت کے باہر سراپا احتجاج بنی رہی۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>