سپریم کورٹ کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے محکمہ کے خلاف چارج شیٹ

Sheikh Rasheed

سپریم کورٹ کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے محکمہ کے خلاف چارج شیٹ۔۔ چیف جسٹسس کا کہنا تھا کہ ریلوے سے کرپٹ کوئی ادارہ نہیں

سپریم کورٹ نے ریلوے خسارہ کیس میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریلوے میں کوئی چیز درست نہیں چل رہی۔اس سے کرپٹ کوئی ادارہ نہیں، چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ، سیکرٹری ریلوے اور سی او ریلوے کو کل طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ نے ریلوے سے متعلق آڈٹ رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزارت لینے والے کو پہلے خود ٹرین پر سفر کرنا چاہیے، آپ کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے مینول ہے، مطلب ایک لاکھ روپے ریکوری پر 25 ہزار ظاہر کیا جاتا ہے۔ ریلوے میں کوئی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی ، اس سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں،

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اسٹیشن درست ہیں نہ ٹریک اور نہ ہی سگنل، ریل پر سفر کرنے والا ہر فرد خطرے میں سفر کر رہا ہے، ٹرینوں میں نہ مسافر ہیں نہ مال گاڑیاں چل رہی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا اور رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ محکمے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر ریلوے کا نام لئے بغیر ریمارکس دیے کہ ریلوے والا روز حکومت گراتا اور بناتاہے، لیکن اپنی وزارت اس سے سنبھالی نہیں جاتی، ریلوے کا پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہوا ہے، آج بھی ہم پاکستان میں اٹھارہویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، جبکہ دنیا بلٹ ٹرین چلا کر مزید آگے جا رہی ہے،

رحیم یار خان حادثے کی انکوائری رپورٹ پر چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں جو آگ لگی تھی اس معاملے کا کیا ہوا؟

ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ معاملے پر انکوائری ہوئی اور دو افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس انکوائری رپورٹ کو چولہے میں پھینکیں ۔

عدالت نے سی او ریلوے سمیت دیگر حکام کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >