شیری رحمان مشکل میں پڑگئیں، آصف زرداری کا نام سنتے ہی اچانک معاملہ نمٹا دیا

Sherry Rehman

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان مشکل میں پھنس گئیں، اپنے قائد آصف زرداری نام سنتے ہی معاملہ نمٹا دیا۔۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کنونئیر کمیٹی شیری رحمان نے میڈیا سے گلہ کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کیخلاف کرپشن اور ان کی غیر قانونی تعیناتی کی تحقیقات پر میڈیا کیوں خاموش ہے؟ اگر کسی سیاستدان کا ٹرائل ہو تو تمام میڈیا پر شور ہوتا ہے لیکن اس معاملے پر میڈیا خاموش کیوں ہے؟

شیری رحمان نے نیب کے نمائندے سے پوچھا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کو گرفتار نہیں کیاگیا، نیب کے پاس سیاست دانوں کیلئے ہتھکڑیاں جبکہ باقی لوگوں کیلئے مخمل کا کپڑا ہے۔

نیب نمائندے نے بتایا کہ ملزم کیخلاف 10 سے زائد ریفرنس زیر سماعت ہیں تاہم ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے،

اس موقع پر آڈٹ حکام نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کی تعیناتی غیر قانونی تھی تاہم پھر بھی انہوں نے ایک کروڑ 21 لاکھ کی رقم تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں وصول کی ۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ حیران کن طور پر نہ تو وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کو تنخواہ کی ادائیگی کا کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی ظفر اقبال کی پرسنل فائل یونیورسٹی ریکارڈ میں موجود ہے ۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کون ہے ڈاکٹر ظفر اقبال جس پر کرپشن کے الزامات ہیں، اور وہ گرفتار نہیں ہو سکتا؟

شیری رحمان نے مزید استفسار کیا کہ کس نے ڈاکٹر ظفر اقبال کو وفاقی اردو یونیورسٹی کاوائس چانسلر تعینات کیا ؟

جس پر شیری رحمان کو بتایا گیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کےوائس چانسلرکی اسامی کے لیے چار افراد کو شارٹ لسٹ کیا گیا جس کے بعد سرچ کمیٹی نے ٹیسٹ میں سب سے کم سکور 32 فیصد حاصل کرنے والے امید وار ظفر اقبال کو تعینات کرنے کی سفارش کی ، بعد ازاں 31 جنوری 2013 کو صدر پاکستان نے ظفر اقبال کو وائس چانسلر تعینات کیا ۔

آصف زرداری کی جانب سے ظفر اقبال کی تعیناتی کا سنتے ہی شیری رحمان نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کو ڈاکٹر ظفر اقبال کی کرپشن اور غیر قانونی تعیناتی کا معاملہ اچانک نمٹا دیا جس پر آڈیٹر جنرل کے نمائندے نے استفسار کیا کہ کروڑوں کی کرپشن کا معاملہ موخر کیا گیا ہے نا ؟، نمٹایا تو نہیں،

جس پر شیری رحمان نے کہا کہ کیا آپ نے فیصلہ کرنا ہے؟ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے نمٹا دیا گیا ہے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>