بچے سے زیادتی کے ملزم کی پشت پناہی، مفتی کفایت اللہ کے خلاف مقدمہ درج

Mufti Kifayat

مانسہرہ :کارِ سرکار میں مداخلت پر مفتی کفایت اللہ سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ تھانہ سٹی مانسہرہ کے سب انسپکٹر محمد فیاض کی مدعیت میں مفتی کفایت اللہ  کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

مفتی کفایت پر الزام ہے کہ انہوں نے طالب علم سے زیادتی کیس کے ملزم کو 3 روز تک پناہ دی تھی اور بچے کے والدین پر صلح کیلئے دباؤ ڈالا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

پولیس کے مطابق پولیس کو ملزم کی گرفتاری سے دور رکھنے اور سرکاری کام میں غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے پر 255/34 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ گرفتار ملزم قاری شمس الدین نے دوران تفتیش انکشاف کیا وہ گرفتاری دینا چاہتے تھے مفتی کفایت اللہ  نے روکے رکھا۔

ایس پی مختیار احمد کا کہنا ہے کہ مفتی کفایت اللہ سمیت دونوں افراد کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مانسہرہ میں زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے والدین پر مفتی کفایت اللہ کی جانب سے صلح کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مفتی کفایت اللہ اور ان کے ساتھی نے عدالت کے باہر بچے کے والدین کو تصفیہ نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ جب کہ انہوں نے اس حوالے سے رقم کی پیشکش بھی کی لیکن والدین نے یہ پیشکش ٹھکرادی۔

زیادتی کے مبینہ ملزم قاری شمس الدین کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا، میڈیکل رپورٹ میں بھی بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوچکی ہے۔

جبکہ دوسری جانب مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ میں دو طلباء کی لڑائی ہوئی تھی اور سازش کے تحت مقدمہ ٹیچر کے خلاف درج کرادیا گیا، بچے سے بدفعلی کا کوئی ثبوت نہیں، مفتی کفایت اللہ نے قاری شمس الدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے علماء ایکشن کمیٹی بنادی ہے جو حقائق منظر عام پر لائے گی، قاری شمس الدین کو 3 دن تک پنادہ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار کے صدر نے متاثرہ بچے کا مفت کیس لڑنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگر ملزم قاری شمس الدین پر جرم ثابت ہوگیا تو کوئی وکیل ملزم کا کیس نہیں لڑے گا۔

  • اس کو پھانسی دی جاے یا پھر بچے کے تمام لواحقین سب کے سامنے اس کے ساتھ زیادتی کریں اور زیادتی کرنے میں یہ چیخے تو اس کو چھڑی سے مارا جاے چہرے پر گھونسے مارے جائیں حتی کہ یہ مر جاے


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >