تیزگام حادثہ، انکوائری رپورٹ نے شیخ رشید کا دعویٰ غلط قراردیدیا

تیز گام میں آگ عملے کی غفلت سے لگی۔۔ شیخ شید کا دعویٰ غلط قرار۔۔ ریلوے حادثے کی رپورٹ منظر عام پر آگئی

انکوائری رپورٹ کے مطابق بوگیوں میں قائم کئے گئے کچن آگ کی وجہ بنے جو ریلویز کے اپنے تھے۔

تفصیلات کے مطابق انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ تبليغی جماعت کے مسافروں کے سلنڈر سے نہيں لگی بلکہ عملے کی جانب سے بنائے گئے غيرقانونی کچن سے لگی۔

بوگی نمبر 11 اور 12 میں کچن قائم کيا گيا تھا جہاں سے آتشزدگی شروع ہوئی، بعد ميں مسافروں کے گيس سلنڈرز نے اسے پھيلا ديا۔

رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ کچن قائم کرنے پر ڈائننگ کار مينجر اور ويٹرز حادثے کے اصل قصوروار ہيں جبکہ شیخ رشید مسافروں کو قصوروار قرار دیتے رہے۔

رپورٹ ميں مزید بتایا گیا ہے کہ گيس سلنڈرز کےساتھ سفر کرنے والے بھی آتشزدگی کے ذمہ دار قرار ديے گئے ہيں، يہ افراد عامر حسين شيخ کے شناختی کارڈ پر خريدی گئی ٹکٹوں پر سفر کر رہے تھے۔

ريلوے حکام کی ذمہ داری تھی کہ وہ مسافروں کو سلنڈر لانے سے روکتے مگر وہ اس ميں ناکام رہے

کراچی کينٹ اسٹيشن پر تبلیغی اجتماع کے مسافروں کی مناسب چیکنگ نہ کرنے پر 5 افسروں کو حادثے کا ذمہ دار قرار ديا گيا ہے۔ ان افسروں ميں ريلوے پوليس اہلکار، ڈويژنل کمرشل آفيسر کراچی اور اسٹيشن آفيسر حيدرآباد شامل ہيں

یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے کے واقعہ 75 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے تھے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حادثے کے ایک گھنٹے بعد ہی بغیر تحقيقات تیزگام ميں آگ لگنے کی ذمہ داری مسافروں پر ڈال دی تھی اور کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں جانے والوں نے کھانا پکانے کےليے چولہا جلایا تھا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >