تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال،نجی یونیورسٹی نے پانچ طالب علم نکال دئیے

نجی یونیورسٹی نے منشیات استعمال کرنے پر 5 طلبہ کو نکال دیا، جبکہ سرکاری ادارے بھی ایکشن میں آ گئے۔


تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منشیات کے عادی افراد کے خلاف ایک نجی یونیورسٹی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے یونیورسٹی میں زیر تعلیم5 طلبہ کو منشیات استعمال کرنے پر نکال دیا اور دوبارہ انکے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
منشیات کے بڑھتے استعمال کو روکنے کیلئے ایک سرکاری یونیورسٹی نے بھی 30 طلبہ کے خلاف انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔ اور ان پر منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت ہونے پر انتظامیہ کی جانب سے سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ دنوں یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کے حوالے سے رپورٹ طلب کی تھی جس کے نتیجے میں یہ کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔
بعدازاں قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر اس بات کا تذکرہ کیا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بڑھ چکا ہے۔ جس کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔


شہریار آفریدی کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس ناسور کی آگہی کے لیے زندگی ایپ لانچ کی ہے۔جس کے لیے ہماری تمام صوبائی حکومتوں اور  اسکولوں،کالجز کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ شہریار آفریدی نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ  اسلام آباد کے تمام بڑے تعلیمی اداروں میں 75 فیصد طالبات اور 45 فیصد طلبا آئس کرسٹل کا نشہ کرنے کے عادی ہیں۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>