نجی چینل صحافتی بددیانتی اور اوچھے پن کی ساری حدیں پار کر گیا

چینل 24 نیوز نے صحافتی بددیانتی اور واچھے پن کی ساری حدیں پار کرلیں اور صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑادیں۔۔ برطانوی وزیراعظم کی آڑ میں پاکستانی وزیراعظم کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش

 

چینل 24 نیوز کے اینکر نے ایک خبر دی کہ "وزیر اعظم نے اپنی گرل فرینڈ کے ہمرا ہ کہاں کا دورہ کیا؟ کس نے اخراجات اٹھائے ؟ اور وزیر اعظم کی گرل فرینڈ نے ان سے کون کون سے کاروباری مفادات حاصل کئے” لیکن سنسنی پھیلانے اور وزیراعظم پاکستان کو ٹارگٹ کرنے کیلئے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک کے وزیراعظم کی بات کررہا ہے بلکہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی وہ پاکستانی وزیراعظم سے متعلق بات کررہا ہے اور جو الزامات ہیں وہ برطانوی وزیراعظم پر نہیں پاکستانی وزیراعظم پر ہیں۔

نجی چینل صحافتی بددیانتی اور اوچھے پن کی ساری حدیں پار کر گیا

چینل کے اینکر نے دو منٹ تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستانی وزیراعظم اور انکی گرل فرینڈ الزامات کی زد میں ہیں ، انہوں نے ہی اپنی گرل فریںڈ کے ہمرہ پرتعیش دورہ کیا ہے اور ایک کاروباری شخصیت نے پاکستانی وزیراعظم اور انکی گرل فرینڈ کے اخراجات اٹھائے ہیں اور پاکستانی وزیراعظم نے کاروباری مفادات حاصل کئے ہیں۔

چینل کا اینکر مسلسل 2 منٹ تک وزیراعظم ، وزیراعظم کہتا رہا اور گھٹیا الزامات لگاتا رہا اور آخر میں ہلکا سا بول دیا کہ وہ تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی بات کررہا ہے۔

صارفین نے اس کلپ کو یہ سمجھ کر دیکھا کہ شاید یہ اینکر پاکستانی وزیراعظم کی بات کررہا ہے ۔ بعد میں کلپ دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بڑا سخت ردعمل دیا اور چینل اور اینکر پر خوب لعن طعن کی اور چینل کو آڑے ہاتھوں لیا

اس پر تحریک انصاف کی ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ اب ہم جب 24 نیوز پر تنقید کریں گے اور ان سے میڈیا کی اخلاقیات سے متعلق سوال پوچھیں گے تو یہ چلانا شروع کردیں گے کہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم ہم پر اٹیک کررہی ہے۔۔ آپ جو مرضی کہیں لیکن ہم آپکی گٹر جرنلزم ایکسپوز کرتے ر ہیں گے۔

ہنس مسرور کا کہنا تھا کہ کیا گھٹیا طریقہ ہے ریٹنگ کا۔ لعنت ہو اسے رزق پر بھی جس کی بنیاد ہی جھوٹ اور مکاری ہو۔ پورے 2 منٹ تک وزیر اعظم چلاتا رہا اور آخر میں ایک بار بولا برطانوی وزیر اعظم۔ اب  لفافت کا نام نا دیں تو کیا کریں۔

یاسر چیمہ کا کہنا تھا کہ چھ سو بار اس نے "وزیراعظم” "وزیراعظم” کی رٹ لگائی ہے اور اخر میں صرف ایک بار ہلکا سا "برطانوی وزیراعظم” بولا ہے۔

یاسر چیمہ نے مزید کہا کہ پوری گل بولو اور لکھو۔ انتہائی گھٹیا نسل ہو آپ صحافت کی۔ یہ لوگ اور ایسی حرکات ہیں جو میڈیا کو گندہ کرتی ہیں اور میڈیا پر سے اعتبار اٹھاتی ہیں۔

صارف نادر علی نے کہا کہ معیار دیکھیں ہمارے میڈیا کا 2 منٹ بولتے رہے وزیراعظم پر لوگ تو یہی سمجھ رہے تھے کے یے پاکستان کا وزیراعظم ہوگا اور مخالف تو تیار ہوگئے تنقید کرنے کیلئے ۔ بعد میں جب اینکر نے بتایا کے برطانوی وزیراعظم تو سب مخالف ہاتھ ڈھیلے کر کے بیٹھ گئے

سالار سلطانزئی کا کہنا تھا کہ 100 بار وزیراعظم بول کر عوام کو 2 منٹ سے زائد کا کلپ دکھانے والے مدادی آخر میں بولتے "بورس جانسن”۔ ۔۔ خبر انڈسٹری پہ ایسے مداریوں کی وجہ سےحاوی یہ زوال اب اور گہرا ہوگا۔

سوشل میڈیا صارفین نے پیمرا سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس چینل کے خلاف ایکشن لیا جائے اور اس پر پابندی عائد کی جائے ۔

واضح رہے کہ چینل 24 نے یہ کام پہلی بار نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے بھی یہ چینل وزیراعظم عمران خان اور انکی ذاتی زندگی پر حملہ آور ہوچکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسی چینل نے ایک خبر دی کہ وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ کےد رمیان علیحدگی ہونیوالی ہے بعد میں اس خبر پر ایکشن لیا گیا تو اس چینل نے اور دیگر صحافیوں نے آزادی صحافت کا خوب رونا رویا۔۔

اس سے پہلے بھی یہ چینل کئی فیک نیوز دے چکا ہے۔ کچھ دن پہلے اسی چینل نے چئیرمین پیمرا سے متعلق فیک نیوز دی کہ چئیرمین پیمرا نے کہا ہے کہ یوٹیوب چینل کا لائسنس ایک کروڑ روپے کا ہوگا۔

  • کیسی بھی طرح کی جھوٹی خبروں پر اداروں کو فوراً ایکشن لے کر تمام چینلز اور ان کے ذمداران کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دینا چاہیے ھے تاکہ میڈیا کے شیطانوں کو عبرت کا نشان بنایا جاسکے اور دوسرے چینلز اور صحافیوں کا ٹولہ یا اینکرز عبرت حاصل کریں


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >