جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز ہمارے قریبی دوست تھے:دہشگرد تنظیم القائدہ کا دعویٰ

شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ پاکستانی جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کے بہت ہی قریبی تعلقات تھے، القاعدہ کی میگزین "نوائے افغان جہاد” کا دعوی

جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج میں کئی اعلیٰ عہدوں  پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ شاہد عزیز اپنی 37 سالہ مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 2005 میں پاکستانی فوج سے ریٹائر ہوئے تھے۔دوسری جانب جب پرویز مشرف پاکستانی فوج کے سربراہ تھے تو ان کی جانب سے شاہد عزیز کو ڈی جی ملٹری آپریشنز تعینات کیا گیا تھا۔

ڈی جی ملٹری آپریشنز کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد شاہد عزیز نے 2013 میں کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی پالیسیز پر خوب تنقید کی تھی۔

یاد رہے کہ 2018 میں جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی موت اور ان کی گمشدگی کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کرتی رہی ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ کی جانب سے ان تمام خبروں کی تردید کی گئی تھی۔ شاہد عزیز کے اہلخانہ کے ذرائع کے مطابق ان کی موت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے

مزید برآں القاعدہ برصغیر کی بنیاد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے 2014 میں رکھی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد پاکستان، بھارت، افغانستان، میانمار اور بنگلہ دیش کی حکومتوں سے جنگ کرنا تھا۔ القاعدہ کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو داعش کو اپنے حملوں کی وجہ سے ملی ہے۔

القاعدہ کے اس میگزین کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہد عزیز نے انہیں ایک حقائق سے بھرپور کتاب بھی بھیجی ہے۔ جس کو وہ رواں ماہ اپنی میگزین کے اگلے ایڈیشن میں اردو زبان میں شائع کریں گے۔

بعد ازاں خبررساں ادارے کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاہد عزیز کی جانب سے لکھی گئی کتاب میں بہت سے راز اور انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>