شہباز شریف مشکوک شخص کو نواز شریف سے ملاقات کیلیے پراسرار انداز میں ایون فیلڈ لائے

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی لندن میں سیاسی سرگرمیاں پر، نقاب پوش مشکوک شخص سے خفیہ ملاقات ، جرنلسٹ نوید چوہدری کی زبانی۔

 

خبر رساں ادارے کے مطابق لندن سے سنئیر صحافی نوید چوہدری کا لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں مقیم مسلم لیگ نون کی سینئر ترین کے قیادت کے حوالے سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نواز شریف پاکستان کی گورنمنٹ اور میڈیکل رپورٹس کے مطابق بیمار ہیں جب کہ شہباز شریف کی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

اپنے جاری ویڈیو پیغام میں سینئر صحافی کا انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں آپ لوگوں کو بریکنگ نیوز بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ روز جب شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کی عیادت کے لیے ایون فیلڈ میں آئے اور انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ چالیس منٹ تک ملاقات جاری رکھی جس میں وہ پہلے پانچ منٹ دروازے کے باہر کھڑے رہے۔ دروازہ بند ہونے کی صورت میں ان کی جانب سے بیل بھی بجائی گئی تاحال دروازہ نہ کھلنے پر انہوں نے افضال بھٹی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر دروازہ کھولا جائے۔

چالیس منٹ کے بعد شہباز شریف کے ہمراہ اسحٰق ڈار بھی ایون فیلڈ سے باہر تشریف لے آئے اور ملاقات کے بعد دونوں وہاں سے روانہ ہوگئے۔ جس کے بعد میاں شہباز شریف صاحب نے ہمارے ساتھ خصوصی گفتگو کی۔ جس کے کچھ دن بعد میاں شہباز شریف واپس ایون فیلڈ میں تشریف لے آئے۔ لیکن اس دفعہ صورتحال کچھ یوں مختلف تھی کہ اس بار حسین نواز ان کا استقبال کرنے کے لئے گیٹ پر موجود تھے کہ جونہی وہ گیٹ پر پہنچے تو فوراً وہ اندر تشریف لے جائے اور انتظار کی زحمت سے بچ سکے۔

انکا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ہمارے لئے حیران کن بات تو یہ تھی کہ اس دفعہ گاڑی میں سے میاں شہباز شریف صاحب اور اسحاق ڈار کے ساتھ ایک تیسرا آدمی موجود تھا جس نے اپنا منہ مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا اور سر پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ جس کی 40 منٹ تک نواز شریف صاحب سے ملاقات کروائی گئی۔ جبکہ چالیس منٹ کے بعد میاں شہباز شریف صاحب افضال بھٹی۔کے ہراہ اپنی گاڑی میں سوار ہوکر ایون فیلڈ کے فرنٹ ڈور سے وہاں سے روانہ ہو گئے جس سے متعلق اس ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایون فیلڈ میں موجود اس شخص کو پچھلے دروازے سے باہر نکالا گیا جو کہ مسلسل اپنا منہ چھپا رہا تھا۔ جبکہ ہماری جانب سے ان سے پوچھے گئے سوالات کا بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب کہ وہ ادھر ادھر جاتے ہوئے موبائل پر مسلسل کسی سے رابطہ کیے ہوئے تھا۔ جس پر ان کو ہدایات دی جارہی تھیں کہ انہوں نے کہا آنا ہے۔آخرکار کچھ دیر بعد میاں شہباز شریف صاحب نے ان کو اپنی گاڑی میں واپس بٹھا کر وہاں سے گاڑی بھگا دی۔

صحابی کا اپنے جاری ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ تاحال انہیں یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ مشکوک شخص کون تھا۔ اور وہاں ان کی ایسے ملاقات کیوں کروائی گئی؟ کیوں ان کو پیچھے والے دروازے سے باہر نکالا گیا؟ اور کیوں میاں شہباز شریف صاحب نے ان کو ایک چھوٹی سی گلی میں سے اپنی گاڑی میں بٹھایا؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جس کا تاحال جواب نہیں مل سکا۔

 


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >