جنرل ضیاالحق کے قتل میں امریکی ایجنسی سی آئی اے ملوث تھی، سابق آرمی چیف کا انکشاف

سابق آرمی چیف جنرل (ر)اسلم بیگ نےانکشاف کیا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے قتل کے پیچھے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے ملوث تھی۔


ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ 1988 میں طیارہ کسی حادثے کے باعث تباہ نہیں ہوا تھا کہ بلکہ اس کے پیچھے سی آئی اے کی سازش تھی، جنرل بیگ کے مطابق جب وہ آرمی چیف تھے اس وقت پاک فوج کی حادثے سے متعلق ایک انکوائری میں بھی سی آئی اے کے مشکوک کردار کی نشاندہی کی گئی تھی۔
جنر ل ضیا الحق جوپاکستان کے طاقتور ترین حکمرانوں میں سے ایک تھے17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک طیارہ سی 130 کے کریش میں جاں بحق ہوگئے تھے اس وقت طیارے میں ان کےعلاوہ امریکی سفیر آرنلڈ لیوس رافیل اور دوسرے اعلی حکومتی عہدیدران سوار تھے۔
دوسری جانب ضیاالحق کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے  کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمود علی درانی ضیا الحق کے خلاف سازش میں ملوث تھے۔ جس پر جنرل بیگ اور محمود درانی نے اعجاز الحق کے الزامات کو مسترد کردیا ہے، جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ ضیا الحق کے بعد میں نے ملک میں الیکشن کروا کر اقتدار منتخب حکومت کے سپرد کردیا اگر میں ضیا الحق کے قتل میں ملوث ہوتا تو ا س میں میرا کیا فائدہ تھا؟؟؟

جنرل ضیاالحق کے قتل میں امریکی ایجنسی سی آئی اے ملوث تھی، سابق آرمی چیف کا انکشاف
جبکہ محمود درانی جو اس وقت ملتان ڈویژن کے ہیڈ تھے اور جنرل ضیا انہی سے ملاقات کے بعد واپس جارہے تھے نے اعجاز الحق کے الزامات اور جنرل بیگ کے سی آئی اے سے متعلق انکشاف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعے کے پیچھے کسی سازش کو نہیں دیکھتا یہ محض ایک حادثہ تھا جو کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔
اعجاز الحق نے الزام عائد کیا کہ جنرل درانی نے 16 بار میرے والد کو فون کیا اور انہیں بہاولپور آنے کیلئے منایا،محمود درانی اس الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئےکہا کہ میں نے صرف دو بار جنرل ضیا کو دورہ بہاولپور کی دعوت دی تھی۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >