جس طرح ہم نے بھارتی حملے کا ردعمل دیا وہ ایک میچور قوم کا ردعمل تھا:وزیر اعظم

میں نے غلطی سے بھارت کی فلم دیکھ لی، عمران خان
پلوامہ واقعے کے بعد انڈین ردعمل کا ڈر تھا، صبح کے تین بجے تھے جب بھارتی حملے کی خبر ملی، اس کا جس طرح ہم نے ردعمل دیا وہ ایک میچور قوم کا ردعمل تھا،ہماری افواج نے بہادری اور بردباری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے احمد شاہ ابدالی کی پانی پت جنگ پر بنائی گئی فلم دیکھ لی اس فلم میں صرف اور صرف ہنداتوا ہے، مسلمانوں کو تو ولن بنادیا ہے بھارت نے اور مجھے تو یہ فلم بند کرنا پڑ گئی۔


گزشتہ سال 27 فروری کو بھارت کو سرپرائز دینے کوا یک سال مکمل ہونے کو ہے، اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم ، آرمی چیف سمیت اعلی سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے بحیثیت پاکستانی بڑا فخر ہے جس طرح پاکستانیوں نے اس بحران سے مقابلہ کیا، اور اللہ کا شکر ہے پاکستانی قوم کی دانشمندی کے سبب حالات بگڑنے سے بچ گئے، یہ ایک ذمہ دار قوم کی نشانی ہے ۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی، پاکستان کا مشکل وقت نکل گیا، اب ملک آگے بڑھے گا اب آپ دیکھیں گے کہ پاکستان وہ عظیم ملک بننے جارہا ہے جو قائداعظم کا خواب تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد انڈین ردعمل کا ڈر تھا اور بالاکوٹ سیکٹر میں بھارتی بم باری پر ہم نے سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کیا، جس طرح لائن آف کنٹرول پر ہمارے فوجی ڈٹ کر کھڑے رہے، جیسے ہماری نیوی نے بھارتی سب میرین کو بھاگنے پر مجبو ر کردیا، ہم حملہ کرسکتے تھےہم نے نہیں کیا ہم جنگ نہیں چاہتے تھے ہم امن چاہتے ہیں ہم نے اسی لیے بھارتی پائلٹ واپس کیا یہ ایک میچیور قوم کی نشانی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی اسی انداز میں جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جب دیکھا کہ ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو پھر اس کے مطابق جواب دیا گیا، اور پوری دنیا نے ہمیں سراہا، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں کھڑے ہوکر پاکستان کی تعریف کی اور بھارتی میڈٰیا پر تنقید کی کہ وہ جس طرح منفی پراپیگنڈا کرتا ہے۔
وزیراعظم نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ،بھارتی اور پاکستانی میڈیا کا موازنہ کریں پاکستانی میڈیا ایک میچور میڈیا بن کر ابھرا، یہ بھی سنسنی پھیلا سکتے تھے،ان کا مزید کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر یک زبان ہوکر پاکستان کی بات۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ایک خطرناک راستے پر چل رہا ہے اور اس کا نقصان صرف بھارت کو ہونے والا ہے، ہورہا ہے اور آگے مزید ہوگا، جس نسل پرستی کے راستے پر بھارت چل نکلا ہے اس سے واپسی ممکن نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی فاشسٹ نظریات بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، بھارت میں نفرت پھیل چکی ہے ، آر ایس ایس کے غنڈے دلی شہر میں لوگوں پر تشدد کر رہے ہیں ،کہیں بھی دنیا میں جہاں جہاں ایسے نظریات پھیلے اس کے نتائج اٹھا کر دیکھیں، جرمنی میں دیکھیں، روانڈا میں دیکھیں، میانمار ، بوسنیا سب ممالک میں ایک مذہب اور قوم کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا ، بھارت میں بھی ہندوتوا کو فروغ دینے کیلئے مسلمانوں ، عیسائیوں پر ظلم کیا جارہا ہے، اور تاریخ کو مسخ کررہا ہے ، اس کا نتیجہ صرف خون ریزی ہی ہوتی ہے اور بھارت میں یہ شروع ہوچکی ہے اور اب اس راستے سے واپسی ناممکن ہے۔
عمران خان نے کہا کہ80 لاکھ کشمیریوں کو اوپن جیل میں قید کردیا ہے، اور متنازعہ قانون سازی کے ذریعے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے، دنیا کی تاریخ میں کبھی اتنی بڑی اقلیت کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے عالمی برادری کو اس پر نوٹس لینا چاہیئے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے جو جنگ جیتی ہے وہ دنیا مانتی ہے ہماری افواج میں جو اعتماد اور بھروسہ ہے وہ اسی جنگ کو جیت کر آیا ہے جو ہم نے دہشت گردی کے خلاف لڑی ، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ہمسایہ ملک میں بڑی طاقت بھی جنگ نہ جیت سکی ،
عمران خان نے قائدِ اعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِاعظم نے بھارت کی موجودہ صورتحال کی پیش گوئی کردی تھی۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>