ڈان میڈیا گروپ حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گیا

ڈان نے وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات روکنے پر عدالت سے رجوع کرلیا

Dawn News

تفصیلات کے مطابق ڈان گروپ نے وفاقی حکومت کی جانب سے روزنامہ ڈان اخبار کے اشتہارات روکنے کا اقدام سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

درخواست حمید ہارون کی جانب سے ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنوری 2020 سے وفاقی حکومت نے اچانک ڈان کو اشتہارات دینا بند کر دئیے اور پبلیکیشن کو اس کی کوئی وجہ سے آگاہ نہیں کیا گیا، حالانکہ دہائیوں سے ڈان کو اشتہارات دیے جارہے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ڈان کو سرکاری اشتہارات دینے پر پابندی کا اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔دراصل ڈان کو اپنے مختلف ایڈیشنز میں ان آرا اور رپورٹس شائع کرنے پر سزا دی جارہی ہے جو اعلیٰ حکام کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں

درخواست گزار نے کہا کہ ڈان کے اشتہارات روکنا اور پابندی عائد کرنا اخبار کے آزادی صحافت کے بنیادی حق پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ رپورٹرز کو حالیہ بریفنگ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ڈان پر نومبر 2018 میں ان کے چین کے پہلے دورے کے دوران ‘جعلی خبریں’ شائع کرنے کا الزام لگایا، حالانکہ الزام کے برعکس ایسا کچھ نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اسی طرح کی خبریں اور تبصرے دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوئے جنہیں سرکاری اشتہارات دیے جارہے ہیں بلکہ حقیقتاً ڈان کے اشتہارات روکنے کی وجہ سے ان کے اشتہارات میں اضافہ ہوا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ‘ڈان اخبار کو اس کی نیوز کوریج، تبصروں اور فیچرز کے معیار اور معروضیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے، اخبار کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں ہے جو ایک وجہ ہے کہ عوام غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور تجزیوں کے باعث اسے پسند کرتے ہیں۔’

درخواست کے مطابق اخبار کی ادارتی ٹیم آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیتی ہے جس کے امور میں انتظامیہ اور مالکان کا کوئی عمل دخل نہیں، تاہم اخبار اس کی چھپائی کی لاگت سے کم قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے اور اشتہارات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے اس کی قیمت فروخت کو ‘سبسیڈائزڈ’ کیا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ وفاقی حکومت اشتہارات کا بڑا ذریعہ ہے اور وفاقی حکومت کے ماتحت وزارتیں، ڈویژنز اور اداروں کی جانب سے عوامی سطح کے نوٹسز اور آگاہی مہم جاری کیے جاتے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق سرکاری اشتہارات نہ ملنے سے اخبار کو مجبوراً اخبار کی قیمت بڑھانا پڑے گی جس کی وجہ سے اس کی سرکولیشن بُری طرح اثر پڑے گا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت کا یہ اقدام غیر آئینی قرار دے اور اسے اخبارات کو اسی طرح اشتہارات جاری کرنے کا حکم دے ۔

  • Pakistani govt and it’s people are poor. Tax Chequers money is to support poorest not to subsidize newspapers. Please increase your newspaper price. Dawn Newspaper readers are from upper middle class , they can afford.

  • یقین مانیں اگر میرا بس چلتا تو میں اس گروپ کو ایک دن بند کروا تھا….. یہ لوگ ہمیشہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >