فخر ہے کہ مجھے میرے ملک ہی نے آزاد کیا، آسیہ بی بی پاکستانی عدلیہ کی مشکور

فخر ہے کہ مجھے میرے ملک میں ہی نے آزادی کیا، آسیہ بی بی پاکستانی عدلیہ کی مشکور

پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں سزا کاٹنے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا کہنا ہےکہ پاکستان سپریم کورٹ کی جانب سے بری کیے جانے پر بہت خوشی ہوئی، میرے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا  میں بے گناہ تھی اسلئے انصاف ملا۔۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی مرضی سے پاکستان چھوڑا لیکن ایک دن آئے گا جب پاکستان واپس جائیں گی۔

غیرملی خبررساں ادار کو انٹرویو میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت  توہینِ مذہب کے مقدمات کی جامع تحقیقات کرائے، سچ کی کھوج یقینی بنائیں تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے۔

آسیہ بی بی نے کہا کہ جیلوں میں قید بے گناہوں کو رہائی ملنی چاہئے۔۔جبکہ توہین مذہب کا الزام لگانے اور الزام کا سامنا کرنے والے دونوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہئے، کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں سزا کاٹنا ہوگی۔۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں پکڑا جائے گا۔ اس الزام کی وجہ سے پورا خاندان متاثر ہوا۔

آسیہ بی بی ان دنوں اپنی  کتاب فائنلی فری کی تشہری مہم کے سلسلے میں فرانس میں موجود ہیں، جس کے بعد وہ کینیڈا واپس چلی جائیں گی۔

آسیہ بی بی پر جون دوہزار نو میں ان کے گاؤں کی بعض خواتین نے توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ایک سال بعد الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی، پھر گزشتہ سال سپریم کورٹ نے آسيہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر کارروائی کی اور رہائی کا حکم دیا تھا


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >