ملک میں کرونا وائرس تفتان سے نہیں پھیلا، اسد عمر کا مخالفین کو جواب

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر  نے تفتان میں وفاق کے اقدامات پر تنقید کرنے والوں کو جواب دے دیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ  تفتان سے متاثرین اپنے صوبوں  پنجاب، سندھ ، خیبرپختونخوا  گلگت بلتستان گئے۔ ان کے شہریوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

تفتان سے کرونا  متاثرین مقامی لوگوں میں نہیں پھیلا تو پھر یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان میں عالمی وبا کرونا تفتان سے پھیلا ہے۔ پاکستان میں پھیلاؤ امریکا ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے آنے والے لوگوں سے ہوا ہے۔ کیونکہ وہ تمام لوگ قرنطینہ میں نہیں گئے تھے۔

اسد عمر نے کہا کہ تفتان میں کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جتنے اقدامات کئے گئے اس سے زیادہ بہتر ہوسکتے ہیں۔۔ تفتان بلوچستان میں جتنا دور دراز علاقہ ہے وفاق نے وہاں بہتر کام کرنے اور تمام سہولیات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن  اس سے بہتر انتظامات کئے جاسکتے تھے۔

اسد عمر نے تنقید کرنے والے سیاستدانوں کے بیانات پر سوال کیا کہ تفتان میں سندھ، پنجاب اور گلگت بلتستان کے شہری بھی تھے تو ذرا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری ، مسلم لیگ ن کے شہباز شریف اور نواز شریف یہ  بتادیں کہ انہوں نے اپنے شہریوں کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔۔ کیونکہ بلوچستان میں جتنے اقدامات کئے گئے وہ سب تو سامنے آگئے ہیں۔۔

انہوں  نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے پورے ملک کا بوجھ اپنے سر پر لیا وہ چاہتے تو کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں سنبھال سکتے ان سے بہتر اقدامات نہیں ہوئے لیکن انہوں نے کچھ تو کیا، ان کا دیگر صوبوں سے شکوہ بالکل جائر ہے۔۔ کیونکہ سندھ، گلگت بلتستان اور دیگر صوبوں نے اپنے شہریوں کیلے کیا گیا اس کا جواب دیا جائے۔۔

تفتان سے آنے والے متاثرین کے معاملے میں اپوزیشن جماعتیں اور دیگر سیاستدانوں کی جانب سے وفاق کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔۔ جس پر حکمراں جماعت کی جانب سے متعدد بار جواب بھی دیئے جاچکے ہیں۔۔ حکمران جماعت کے افراد بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ وقت سیاست کا نہیں متحد ہوکر کرونا کو شکست دینے کا ہے۔

پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد دوہزار تین سو چھیاسی ہوگئی ہے جبکہ پنجاب نوسو بائیس۔ سندھ سات سو اکسٹھ۔ پختونخوا میں دوسو چھہتر کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔۔ بلوچستان میں ایک سو انہتر اور گلگت بلتستان میں ایک سو ستاسی افراد متاثر ہیں۔۔ ملک بھر میں اموات چونتیس ہوچکی ہیں۔۔

    یہ وائرس ایران سے ہی آیا ہے ان لوگوں کی وجہ سے جو اپنی وزارت کا غلط استعمال کر گے نا کے ان لوگوں کی وجہ سے جو ائیرپورٹ کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوۓ ایئرپورٹ پر تو کٹس تھیں اور ہر آنے والے افراد کو چیک کیا جاتا تھا ایران سے آنے والے متاثرین بغیر ٹیسٹ کرواۓ وہاں سے بھاگ گے یہ ان کی غلطی ہے جن کے پاس یہ وزارت تھی اور ان کو انتظام کے بغیر آنے کی اجازت دی اور اپنی غلطی کسی اور لوگوں پر ڈال رہے ہیں ان لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے خواہ وہ کسی بھی جماعت کا ہو اور میں ان اداروں سے بھر پور اپیل کرتا ہوں جن کا کام سکیورٹی دینا ہے کے وہ اس طرح کے راستے بند کریں جس کا دل چاہے بغیر ویزا اور بغیر شناختی کارڈ کے ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران چلا جائے جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کا سبب بنے جیسا کہ فرقہ واریت پر اور کلبھوشن کی صورت میں ہوئیں

    (3 posts)

    اس ارسطو کو بتایا جائے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو مورد الزام ٹہرانے سے پہلے اس کو پتہ ہونا چاہیے کہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب، گلگت بلتستان میں اسی لعنتی کی حکومت ہے، نواز شریف کی نہیں.
    کس قسم کے یوتھیوں سے پالا پڑا ہے اللہ معافی دے

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More