کرونا وائرس : سندھ کے 16 اضلاع میں ایک بھی وینٹی لیٹر نہیں

کرونا وائرس نے ملک بھر میں صحت کی سہولیات کی قلعی کھول دی یوں تو پورے پاکستان میں وینٹیلیٹرز کی قلت ہے مگر سندھ کے حالات ابتر ہیں

تفصیلات کے مطابق عالمی وبا کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو گھروں میں محصور کر دیا ہے، وہیں پاکستان بھر میں صحت کی سہولیات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

اگر کرونا نا آتا تو شائد ہمیں پتہ نہ چلتا کہ سانس کی بیماری میں سب سے کارآمد چیز وینٹیلیٹرز ہیں، مگر ہماری کروڑوں کی آبادی کے لئے چند سو وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں۔

آپ سندھ کی مثال لے لیں صوبہ سندھ کی کل آبادی 4 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے، صوبائی حکومت کی ایک دستاویز کے مطابق صوبہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں موجود وینٹی لیٹرز کی تعداد صرف 179 ہے، آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو تین لاکھ لوگوں کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر دستیاب ہے۔ محکمہ صحت کا سالانہ بجٹ 120 ارب روپے ہے جبکہ ایک وینٹی لیٹر کی قیمت 7

سے 10 لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سندھ کے 29 اضلاع میں سے 16 میں ایک بھی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں، جس میں صوبائی دارالحکومت کراچی کے 4 اضلاع بھی شامل ہیں، ضلع شرقی، غربی، وسطی اور کورنگی کے سرکاری اسپتالوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی انسانی جان بچانے میں معاون مشین موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی کی 17 لاکھ آبادی کیلئے 24 اور ملیر کی 20 لاکھ آبادی کیلئے بھی 9 وینٹی لیٹرز موجود ہیں تاہم شہر کے دیگر اضلاع کی 1 کروڑ 23 لاکھ آبادی کیلئے ایک بھی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں۔

دستاویز کے مطابق خیرپور کی 24 لاکھ آبادی کیلئے 37 اور حیدرآباد کی 68 لاکھ آبادی کیلئے 27 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں، میرپورخاص، تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، سجاول، گھوٹکی، مٹیاری، جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، کشمور اور سانگھڑ اضلاع کے عوام کیلئے ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں۔

صوبائی وزیر صحت کے میڈیا کنسلٹنٹ میران یوسف نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں بتایا کہ ہم نے صوبے کیلئے 300 وینٹی لیٹرز کا آرڈر دے دیا ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More