چینی بحران،وزیر اعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے کی جہانگیر ترین کے چیف فنانشل افسر سے تحقیقات

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قوم سے کیے گئے آٹا چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے آٹا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد بحران کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن شروع کر دیا۔

گزشتہ ایک روز قبل ایف آئی اے کے ڈی جی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو آٹا، چینی بحران پر انکوائری رپورٹ پیش کی گئی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر ترین رہنما جہانگیر ترین کا نام بھی شامل تھا جنہوں نے رپورٹ کے مطابق بحران کے دوران سبسڈی کی مد میں کروڑوں روپے کمائے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ایف آئی اے کے اہلکار گزشتہ 20 مارچ سے جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود ہیں جہاں جہانگیر ترین کے چیف فنانشل آفیسر سے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود تمام ریکارڈ، کمپیوٹر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ تاہم جہانگیرترین کی جانب سے بھی اپنے چیف فنانشل آفیسر سے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے تحقیقات کی تصدیق کی گئی ہے۔

جہانگیرترین کا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ پر اپنا مواقف پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جب سے بحران کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں تب سے ایف آئی اے کے اہلکار ہمارے دفاتر میں بیٹھے ہیں اور ہمارے ملازمین کو لاک ڈاون کے دوران بھی گھروں سے بلا کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے ہمارے دفاتر کے مین کمپیوٹر سرور کو تحویل میں لینے کے لیے درخواست کی گئی جس پر میں نے اپنے ملازمین کو ایف آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا حکم دیا۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ تحقیقات کے دوران میں اپنے تمام ملازمین کے ساتھ رابطے میں ہوں جب کہ عمران خان کے ساتھ بھی میری بات چیت ہو رہی ہے۔

جانگیر ترین نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود میرے ملازمین کو گھروں سے بلا کر ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو اس بحران کا ذمہ دار تصور نہیں کرتا جبکہ ایف آئی اے کو جب بھی مجھ سے تحقیقات کے لیے تعاون درکار ہو گا میں کروں گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آٹا چینی کے بحران کے دوران قوم سے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بحران کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گے اور انکوائری کی رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف بنا کسی رعایت کے کارروائی کریں گے اور بحران کی رپورٹ کو بھی پبلک کریں گے تاکہ عوام بھی بحران سے پیسہ کمانے والوں کو پہچان سکیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More