نامور ڈیزائنر آوٹ لیٹ ‘ماریہ بی’ کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ

نامور ڈیزائنر آوٹ لیٹ 'ماریہ بی' کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ

معروف ڈیزائنر ماریہ بٹ جن کا لیڈیز کپڑوں کا برانڈ ماریہ بی کے نام سے بہت مشہور ہے انہوں نے اپنے ادارے کے ملازمین کی اپریل کے مہینے کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

ماریہ بی کا ہیڈ آفس لاہور میں ہے، اور اس کی آوٹ لیٹس پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں، ادارے کے ملازمین کو ایک ای میل کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ اس بحرانی کیفیت میں ہم ملازمین کو برطرف کرنے کے بجائے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کررہے ہیں۔

ادارے کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ
"انڈسٹری اس وقت شدید بحران کا شکار ہے جس میں ہم نے ایک مشکل فیصلہ کیا ہے، ہم ملازمین کو برطرف کرنے کے بجائے ان کی تنخواہوں میں کٹوتیاں کررہے ہیں، یہ کٹوتی اپریل کے ماہ کی تنخواہوں سے کی جائیں گی، تنخواہوں میں کٹوتی کس شرح سے کی جائے گی یہ معلومات دفاتر کے کھلنے پر شیئر کی جائیں گی”۔

کورونا وائرس کی اس بحرانی کیفیت میں جہاں دنیا بھر کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے وہیں ملازم پیشہ افراد بھی شدید مشکل میں ہیں جنہیں یا تو اداروں کی جانب سے برطرف کیا جارہا ہے یا گھر بیٹھنے کے باعث تنخواہوں میں کٹوتیاں اور تاخیر سہنا پڑ رہی ہیں۔

    آج تک کروڑوں روپے کمائے ٹیکس برائے نام ادا کیا اور اب جن ملازموں کی وجہ سے کمایا ہے ان کی تنخواہوں سے کٹوتی شرم والی بات ہے۔ اگر دو ماہ منافع کم کر لے تو کیا ہوا۔ کٹوتی کرنے پر اگر کسی غریب کی بدعا لگ گئی تو سارے کا سارا دھرا رہ جائے گا اور قیامت کے یہ دنیاوی مال کیا بچا پائے گا۔ اگر امداد کر نہیں سکتے تو کم از کم کمی تو نہ کرو۔ اللّٰہ پاک آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More