لاک ڈاؤن میں مستحق افراد تک مدد کیوں نہیں پہنچ پارہی؟وجہ منظر عام پر

پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد غریب اور نادار افراد کیلئے گزارا کرنا مشکل ہوگیا ہے، روز کمائی کرنے والے دیہاڑی دار لوگ ہی نہیں چھوٹی دکانوں اور متوسط طبقے کیلئے بھی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات در پیش ہیں۔

دوسری جانب حکومت، این جی اوز اور دیگر مخیر افراد کی جانب سے ملک میں بھاری مقدار میں فلاحی سرگرمیاں بھی دیکھی جارہی ہیں لیکن پھر بھی مستحق افراد تک مدد نہیں پہنچ پارہی، اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو سے سامنے آگئی۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان ایک خاتون کے ہمراہ ایک کریانہ سٹور پر امداد میں ملا ہوا سامان لے کر آیا وہ اس کے بدلے میں کچھ دیگر اشیاء صابن ، شیمپو وغیرہ خریدنا چاہتا تھا، دکان میں موجود ایک شخص نے یہ تمام مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیے، نوجوان اور اس کے ساتھ آئی خاتون دکان دار سے سامان کے بدلے میں کچھ ایسی اشیا لینا چاہتے تھے جو عموما امداد کرنے والے نہیں دیتے یا جو روزمرہ کی انتہائی ضروریات میں شامل نہیں ہوتیں،

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سامان امداد میں لیا ہے جس میں کچھ دالیں، چاول اور راشن کاد یگر سامان تھا انہوں نے کہا ہمارے پاس 2 من سے زائد آٹا بھی جمع ہوگیا ہے، ہم نے امداد کا اتنا سامان لے لیا ہے کہ یہ ہماری ضرورت سے بہت زیادہ ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اضافی سامان کے بدلے ہم کچھ دیگر اشیا خرید لیں تو آپ ہم سے یہ راشن لے کر اس کی قیمت کی دیگر اشیاء دے دیں۔

امداد کرنے والے ہر مانگنے والے کی مدد کرتے رہ گئے مگر مستحقین بھوکے رہ گئے، کیونکہ ان تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی، جو نوسر باز لوگ جنہوں نے ہر جگہ جہاں راشن بٹ رہا تھا وہاں پہنچ کر اپنی ضرورت سے زیادہ راشن لیا اور کسی مستحق کا حق مارا، اور سامان جمع کرنا شروع کردیا،

گزشتہ دنوں بھی ایک ایسی ہی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک نوجوان امداد میں ملنے والے راشن کو دکان پر اونے پونے داموں بیچنے کی کوشش کررہا تھا۔

خدارا اپنی ہوس میں کسی مستحق کا حق نہ ماریں اگر آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق راشن مل چکا ہے تو گھر رہ کر گزارا کریں اور کسی مستحق کیلئے راستہ چھوڑیں تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق مدد لے سکے، امداد دینے والوں کو بھی اس امر پر توجہ دینی چاہیے، کہ ہر مانگنے والا ضرورت مند نہیں ہوتا، آپ کی امداد اس کے اصل حقدار تک پہنچانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے اس لیے دیتے ہوئے دیکھ لیں یہ لینے والا حقیقت میں اس کا حقدار ہے یا کوئی موسمی ضرورت مند۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More