تندور سے مقابلے کا امتحان پاس کرنے تک کی کہانی!

 

بلوچستان کے ایک پسماندہ علاقے کے تندور پر کام کرنے والے نوجوان نے محنت سے سرکاری دفتر تک پہنچنے کی کوشش کی، اس کی لگن اور جذبہ اتنا مضبوط تھا کہ اب وہ اے ایس آئی بننے سے ایک صرف ایک قدم دور ہے۔

بلوچستان کے شہر چمن سے تعلق رکھنے والا عیسیٰ ایک تندور پر کام کرتا تھا ، پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرچکا ہے اور اب اے ایس آئی بننے کیلئے انہیں صرف انٹرویو پاس کرنا ہے۔

عیسیٰ تندور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا، تندور پر مزدوری کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ ایک دن میں گیارہ گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے اس کے بعد پڑھائی کرنا اور پھر مقابلے کے امتحان کیلئے محنت کرنا ایک کٹھن کام ہے،

لیکن عیسیٰ نے ہمت نہیں ہار ی اس کا کہنا ہے کہ روزگار کے بغیر ہمارے یہاں گزارا ممکن نہیں ہوتا، ہم لوگوں کیلئے سرکاری ملازمت حاصل کرنا ناممکن سی بات ہے، میرے گھر والے بھی مجھے ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ یہاں کسی غریب کو نوکری نہیں مل سکتی مجھے بھی تندور پر اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے ۔

عیسی کے مطابق اتنی کٹھن نوکری کے باوجود میں مقابلے کا امتحان پاس کرگیا اس کی وجہ یہ تھی میں صبح سویرے پڑھتا تھا، سرکاری نوکری کیلئے بہت بار انٹرویو دیا، ٹیسٹ دیئے لیکن کامیابی نہیں ملی پھر ایک بار بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا بیان پڑھا جنہوں نے اپنی بیٹی کو یہ امتحان دینے سے روک دیا کیونکہ اس کے والد خود چیئرمین تھے، اور اس پوسٹ پر تعیناتی ان کے ہاتھوں ہی ہونی تھی،

مجھے امید ہوگئی کہ یہاں میری قسمت میرا ساتھ ضرور دے گی میں نے مقابلے کے امتحان کیلئے تیاری کی اور اے ایس آئی کی سیٹ کیلئے امتحان میں کامیاب ہوگیا۔

ابھی عیسیٰ کو انٹرویو دینا ہے لیکن وہ اور اس کے گھر والے خوش ہیں اور پر امید ہیں کہ یہ نوکری عیسیٰ کو ضرور مل جائے گی، مبارک باد دینے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پہلے عیسیٰ کی حوصلہ شکنی کرتے تھے کہ تندور پر کام کرنے والا سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکتا، لیکن عیسیٰ کی محنت اور لگن نے ثابت کردیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More