پاکستان میں اب تک کتنے فضائی حادثے رونما ہوئے اوران میں کتنے افراد لقمہ اجل بنے؟

وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسافر طیارے کئی ممالک میں حادثے کا شکار ہوچکے ہیں مگر پاکستان میں اب تک ہونے والے فضائی حادثوں کے ذمہ داران کا تعین نہیں کیا جا سکا یا اگر ذمہ داران کا تعین ہو بھی گیا تو ان کو کیا سزائیں ملیں اس بارے کبھی کچھ پتہ نہیں چلا۔

اگست 1979 میں اسلام آباد سے گلگت جانے والا فوکر طیارہ گر کر تباہ ہوا اس حادثے میں54 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
28 ستمبر 1992 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ کھٹمنڈو کے پہاڑوں میں گر کر تباہ ہوا تھا اس حادثے میں 167 افراد لقمہ اجل بنے۔

پاکستان میں گزشتہ 10 سال میں کمرشل فلائٹس کے 4 بڑے حادثے

پاکستان میں گزشتہ 10 سال میں کمرشل فلائٹس کے 4 بڑے حادثے

Posted by 24 News HD on Friday, May 22, 2020

10 جولائی 2006 کو ملتان میں فوکر طیارہ ٹیک آف کے10 منٹ بعد ہی گندم کے کھیتوں میں گر کر تباہ ہوگیا اس حادثے میں عملے کے4 ارکان سمیت 41 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

27جولائی2010 کو مارگلہ کی پہاڑیوں میں پاکستان کی نجی ایئرلائن ایئربلیو کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا اس حادثے میں عملے کے14 ارکان سمیت 152 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

20 اپریل 2012 کو سابق پاکستانی ایئرلائن بھوجا ایئر کا کراچی سے اسلام آباد جانے مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں 127 افراد جاں بحق ہوئے۔

7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کا طیارہ چترال کے علاقے حویلیاں میں گر کر تباہ ہوا اس حادثے میں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اور اب گزشتہ روز پی آئی اے کی ڈومیسٹک فلائٹ پی کے 8303 کراچی میں گر کر تباہ ہوئی جس کیلئے ریسکیو کا آپریشن جاری ہے اس پرواز میں عملے کے8 افراد سمیت91 مسافر سوار تھے جس میں سے معجزانہ طور پر2 لوگ بچ گئے ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

    (1k + posts)

    This is the 4th major plane crash in Pakistan since 2010 and compared that to Canada; It only had three fatal crashes in their history(around 5 million flights). Our aviation safety record is horrendous, to say the least! The primary reason for that is the lack of accountability. Every single time, they tell us there will be an investigation, and they only do it, just for the sake of it. You never hear anyone getting sacked or someone resigning. What else do you expect from such a system? This will keep happening until we start holding people accountable. Hoping for a better response this time around

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More