اداکارہ عظمیٰ خان کیس: ایف آئی آر درج لیکن کئی سوالات اٹھ گئے

اداکارہ عظمیٰ خان اوراسکی بہن پر تشدد پر ملک ریاض کےاہلخانہ کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی لیکن عظمیٰ خان کے وکیل نے ایف آئی آر پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

حسان نیازی کے مطابق پولیس نے بہت کمزور ایف آئی آر درج کی ہے جس میں اہم مواد ، متعلقہ سیکشن نظر انداز کردئیے گئے اور یہ تک نہیں بتایا گیا کہ ایف آئی آر کا بیک گراؤنڈ کیا تھا۔۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں حسان نیازی نے کہا کہ یہ بہت کمزور ایف آئی آر ہے جس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہوا کیا تھا۔ اصل کہانی ایف آئی آر سے غائب کردی گئی، اہم سیکشن بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں کئے گئے۔ایک بار پھر ڈلیوری سسٹم فیل ہوگیا ہے۔ یہ کیس بے یارومددگار لوگوں اور بااثر لوگوں کے درمیان تھا۔

حسان نیازی نے مزید کہا کہ کمزور ایف آئی آر کے باوجود ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمیں اللہ پر یقین ہے ۔ حسان نیازی نے عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم انصاف کیلئے عدالت جائیں گے

حسان نیازی کا کہنا تھا کہ ایک کمزور اور مینیجڈ ایف آئی آر بھی کریمنل ایکٹ ہے۔ ملک ریاض کی بیٹیوں نے اپنے غنڈوں کے ذریعے دونوں یارومددگار خواتین کو ہراساں کرنے کا کہا تھا

حسان نیازی نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے میں ملک ریاض کی بیٹی اور انکے داماد زین ملک کی بیوی پشمینہ ملک بھی شریک تھیں۔ حسان نیازی نے یاددلایا کہ ملک ریاض کا داماد زین ملک بھی جعلی اکاؤنٹس کیس کا حصہ ہے۔

شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ عظمیٰ خان کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے جس پر حسان نیازی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی اس ایف آئی آر کی دفعات تو چیک کرلیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایک انتہائی طاقتور شخص کے خلاف سٹینڈ لیں اور ہم جانتے ہیں کہ آپ یہ کرسکتی ہیں۔

ایک اور ٹویٹ میں حسان نیازی نے کہا کہ ایس پی فرقان بلال نے جس حد تک ممکن ہوسکا کمزور ایف آئی آر درج کی اور ایف آئی آر میں اہم مواد نظرانداز کردیا۔یہ بہت ہی متکبر پولیس آفیسر ہے۔ پولیس سے درخواست ہے کہ تکبر کو پنجاب پولیس سے دور رکھے۔

    Chief Minister (8k + posts)

    Allah knows what the truth is but one thing is clear…Allah izzat deta hai aur zillat bhi…how He exposes people

    ya Allah have mercy on me

    hide me sins in this world and the next

    forgive me Ya Allah

    Citizen (15 posts)

    Isn’t this guy guy Hassan Niazi himself wanted in criminal cases when he was part of that lawyers gunda gardi? How come he is allowed to practice and not having to face consequences for his actions?

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More