جنسی ہراسانی کی شکار سماء ایف ایم کی پریزنٹر کو دو سال بعد انصاف مل گیا

جنسی ہراسانی کی شکار سماء ایف ایم کی پریزنٹر کو دو سال بعد انصاف مل گیا

  دو سال کی قانونی جنگ کے بعد سماء ایف ایم ریڈیو کی خاتون پریزنٹر اپنے ساتھی ورکر کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ جیت گئی ہیں۔
سماء ایف ایم کی خاتون پریزنٹر تحریم منیبہ کا کہنا تھا کہ میں اس دفتر کے تنگ نظر اور مخالف ماحول میں 5 سال سے کام کررہی تھی، میں وہ نوکری چھوڑنا افورڈ نہیں کرسکتی تھی، لیکن میں تواتر سے اپنے باس کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایات کرتی رہی تھی لیکن میرا باس بھی اس معاملے میں اتنا ہی ذمہ دار تھا جتنے مجھے ہراساں کرنے والے لوگ تھے۔

انہوں نے جیت کی خوشی میں نم آنکھیں لیے مزید کہا کہ میں نے دو سال انصاف کے حصول کیلئے جدوجہد کی ہے اور آج عدالت نے اس ادارے کے ماحول کو عورت دشمن قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری معمول کی شکایات پر آفس کا سی او او فہد ہارون کان نہیں دھرتا تھا لیکن جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تومیری شکایات کی انکوائری کے بجائے انہوں نے ایک ملزم کو بچانے کو ترجیح دی، سی او او نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی اور ان سات افراد کی سائیڈ لی جنہوں نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جن کی وجہ سے میں نے اتنا کچھ سہا ہے، اس واقعے نے میرا کیریئر برباد کردیا اور میں ستمبر 2018 سے بے روزگار ہوں۔

دو سال کی قانونی جنگ جس میں انہوں نے مالی اور ذہنی طور پر پریشانیاں برداشت کیں وہ ان دو سالوں کے بعد انصاف ملنے کے بعد خوش تھیں، انہوں نے کہا ایسے معاشرے میں جہاں مرد ایک عورت کیلئے اپنے لیے روزگار کمانے کو مشکل بنادیتے ہیں میرے لیے اس معاشرے میں آخری امید عدالتی نظام تھا اور مجھے خوشی ہے اس نے مجھے شرمندگی کی موت سے بچالیا۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام عورتوں سے کہتی ہوں کہ اپنے کام کرنے کی جگہوں پر ایسے واقعات سے ڈریں نہیں، الرٹ رہیں اور جب کبھی ایسا واقعہ پیش آئے کھڑی ہوں اور اس کے خلاف جدوجہد کریں، ہار مت مانیں اور انصاف کی تلاش کریں اور عورتوں کے حقوق کیلئے قائم کردہ محتسب اداروں سے مدد لیں۔واضح ہو کہ فہد ہارون اس وقت وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے انفارمیشن انالیٹکس کے طور پر کام کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2018 میں تحریم کو سماء ایف ایم کراچی آفس میں جنسی طور پر اس قدر ہراساں کیا گیا کہ انہیں اپنی نوکری چھوڑنا پڑی، انہوں نے سٹوڈیو کے سٹاف کے خلاف مقدمہ درج کیا اور 2 سال اس قانونی جنگ کو لڑتی رہیں اور 19مئی 2020 کو عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے سٹوڈیو سٹاف کے تمام 7 افراد کو 1 ،1 لاکھ فی کس جرمانہ عائد کردیا۔
ادارے کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کروانے کے بعد سماء ریڈیو کی جانب سے ان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا گیا اور 5 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوایا گیا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More