ٹڈی دل کورونا وائرس سے 100 گنا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے

پاکستان اور بھارت 30 سال کے ریکارڈ بدترین ٹڈی دل کے حملے کے نشانے پر ہیں۔ ٹڈی دل سے پاکستان کے 50 سے زائد اضلاع اور بھارت کے بھی کئی شہر متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ٹڈی دل ہرے بھرے کھیتوں پر حملہ کرکے فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسان شدید پریشان ہیں۔ جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق جون کے پہلے ہفتے میں اس حملے میں مزید شدت آ سکتی ہے، جس سے فصلوں کا شدید نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

کسانوں کے مطابق اگر یہ حملے اسی طرح ہوتے رہے اور فصلیں یونہی برباد ہوتی رہیں تو ملک میں قحط سالی بھی ہو سکتی ہے۔ کسان اتحاد یونین کے عہدیداروں کے مطابق ایران، پنجاب، سندھ ، بلوچستان کے اطراف سے ٹڈی دل حملے کر رہے ہیں اور پھل کے تیار درخت کو بالکل گنجا کر دیتےہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹڈیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ کپاس کی فصل کو بھی چٹ کرنے پر تلی ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ جون کے پہلے دو میں ٹڈی دل کا بھرپور خطرہ ہے۔ وہ کہتےہیں کے ان دنوں میں ایران اور مسقط میں موجود ٹڈی دل بھی پاکستان کی جانب رخ کر لے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک سے پاکستان کی جانب راستے میں موجود صحرائی علاقوں میں جہاز متعین کیے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر جہازوں کی مدد سے سپرے کر کے فصلوں کو بچایا جا سکے۔

کسان اتحاد یونین کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ٹڈی دل کورونا وائرس سے100 گنا زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ زرعی اجناس کے بغیر ہم کسی وبا کا سامنا نہیں کر سکتے ۔ اجناس کی موجودگی میں ہم گھروں میں بیٹھ کر گندم، چاول اورسبزیاں کھا کر گزارا کر رہے تھے مگر ایف او کی رپورٹ کے مطابق ایسی صورتحال میں جب ٹڈیاں فصلیں کھا جائیں گی تو پھر قحط سالی شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے اس معاملے کی سنگینی کو سمجھے اور فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرے۔

ابھی تک کسان ٹڈی دل کو بھگانے کیلئے اپنے طور پر مختلف طریقے استعمال کررہے ہیں جن میں شور کے ذریعے یا راستے میں کھڑے ہوکر کپڑے سے اڑانا شامل ہیں۔بھارت کے ایک علاقے سے ویڈیو سامنے آئی جہاں ٹڈی دل کو بھگانے کیلئے رکشے پر سپیکر کی مدد سے شور پیدا کرکے ٹڈیوں کو بھگایا جا رہاہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی جشن کا سماں ہے مگر یہ ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More