چین نے بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری کو دبوچ لیا ؟ عمران ریاض خان کا تجزیہ

 

اینکر عمران ریاض خان نے اپنی نئی ویڈیو میں امریکا اور بھارت کے چین کیخلاف ناپاک عزائم پاک کردیئے,انہوں نے بتایا کہ اپنا آخری حربہ استعمال کرتےہوئےمریکی سینیٹر اسکارٹ پیری نے ایک بل متعارف کروایاجس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ تبت کو ایک آزاد ملک تسلیم کریں,تبت کا انیس سو اکیاون میں چین سے الحاق ہوا تھا جس کے بعد ایک تحریک شروع ہوئی,چودہویں دلائی لاما جو اس وقت بھارت میں جلا وطن ہیں وہ تبت میں آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں چینی وہاں آتے جاتے ہیں ان کے حقوق محفوظ ہیں لیکن تبت میں وہ تحریک اتنی مقبول نہیں ہے لیکن بھارت اور امریکا دلائی لاما کو سپورٹ کررہے ہیں,تاکہ اسے چین کے خلاف استعمال کرسکیں

عمران خان نے بتایا کہ تبت میں اس وقت کوئی تحریک نہیں چل رہی وہاں چین کا کنٹرول ہے چینی فوج موجود ہے لیکن امریکا میں جو بل پیش کیا گیا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار دیا جارہاہے کہ تبت کو آزاد ملک تسلیم کرے,چین وہاں سے نکلے,لیکن اگر چین نے تبت نہیں چھوڑا دلائی لاما کو واپس نہیں بلایا تو دنیا چین کے خلاف کھڑی ہو مشکلات پیدا کی جائیں,تجارتی اور دیگر پابندیاں لگائی جائیں چین کو تنہا کردیا جائے

عمران ریاض خان نے بتایا کہ تبت وہ علاقہ ہے جو چین کو براہ راست لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے ملاتا ہے.اب اگر تبت آزا ملک بن جائے گا تو چین کیلئے اس لائن تک پہنچنا ناممکن ہوجائے گا,بھارت کو یہ فائدہ ہوگا چین اب کبھی یہاں آنہیں سکتا,امریکا اس لیے ایسا کررہا ہے کیونکہ اس کو پتا ہے چین اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ بھارت کی گردن چین کے ہاتھ میں ہے یعنی بھارت کا جو نقشہ ہے وہ مرغی کی طرح ہیں, پورا بھارت مرغی کے پیٹ بائیں جانب ہے جبکہ منہ میں یعنی آٹھ ریاستیں دائیں جانب ہیں.ارونچل پردیش,آسام,سکم,منی پورا,مگالے,ناگالینڈ,تری پورا اور میزورا شامل ہیں,اگر کسی نے مرغی کہ گردن پر پاوں رکھا تو یہ ریاستیں بھارت سے کٹ جائیں گی اور چین نےایسا بندوبست کرلیا ہے کہ وہ اس گردن کے بہت قریب پہنچ چکا ہے, جس سے بچنے کیلئے بھارت نے نیپال اور بھوٹان کا سہارا لیا تعلقات اچھے کئے لیکن اب نیپال میں بھارت کیخلاف احتجاج چل رہے ہیں,جبکہ چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں نیپال کو شامل کرلیا ہے اس بڑی سرمایہ کاری سے نیپال چین کے ساتھ ہوگیا اور نیپال نے روڈ تعمیر بھی شروع کردی خو بھارت نہیں چاہتا تھا لیکن نیپال نے فوج کا استعمال کرتے ہوئے پچاس کلومیٹر تعمیر کرلی اسی کلومیٹر باقی ہے,روڈ کی تعمیر کے بعد چین جب چاہے اپنی فوج لاسکتا ہے

عمران خان نے کہا کہ بھوٹان کے ساتھ چین نے بہت کوشش کی لیکن بھوٹان کے کچھ علاقے چین کے پاس ہیں,جبکہ چین کا بہت اہم چھوٹا سا علاقہ ڈوکلام اگر واپس مل جائے تو چین کو بھارت کے دو ٹکرے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا,چین اور بھوٹان کے درمیان معاہدے ہوچکے ہیں چین دو علاقے واپس کرچکا ہے اور بھوٹان سےڈوکلام مانگ رہاہے جس میں بھارت مداخلت کررہا ہے کیونکہ بھوٹان اور بھارت کے درمیان انیس سو اننچاس سے بہت بڑا معاہدہ ہے جس کے تحت بھوٹان کو سیکیورٹی بھارت دیتا ہے وہاں بھارتی فورسز ہیں اسلئے بھوٹان آزادانہ یہ نہیں کرسکتا جو چین چاہتا ہے لیکن چین پرامید ہے کہ بھوٹان علاقہ واپس کردے گا کیونکہ چینی معیشت مستحکم ہے بھارت سے کچھ نہیں ملے گا,چین نے بھارت کو ایسے ہی قابو کرلیا ہے جیسے پاکستان نے کارگل کے وقت کیا تھا کہ ایک بہترین سنہری موقع تھا ہمارے پاس کے بھارت کی سپلائی روک کر کشمیر کو آزاد کروالیتے جسے ضائع کردیا گیا,لیکن چین آنے والے وقتوں میں دنیا کو لیڈ کرسکتا ہے,یورپی ممالک بھی اب سوچ میں امریکا ساتھ دیں یا چین کا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More