نواز شریف کا خوف نا ان کو جینے دیتا ہے نا چین سے حکومت کرنے دیتا ہے – مریم نواز

مریم نواز کا سوشل میڈیا پر نواز شریف کی لندن کے ہوٹل میں چائے پینے کی تصویر پر تنقید کرنے والوں کو جواب

تصویر کا مقصد تشہیر نہیں تذلیل تھا جو کہ ہر بار کی طرح الٹا ہو گیا - مريم

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف جو اس وقت پاکستان میں عدالت سے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد لندن میں موجود ہیں، نواز شریف کی لندن میں عارضی رہائش اختیار کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر آئے روز لندن کے مختلف ہوٹلز میں کھانا کھانے اور چائے پینے کی تصاویر وائرل ہوتی رہتی ہیں، نواز شریف کی لندن میں سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ چائے پینے کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس پر ان کے چاہنے والے ان کی تعریف کر رہے ہیں تو دوسری جانب ان کے مخالفین کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی سوشل میڈیا پر لندن کے ایک ہوٹل میں چائے پینے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے مخالفین کی جانب سے ان پر تنقید کی جا رہی ہے جس کا ان کی صاحبزادی مریم نواز نے موثر جواب سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے دیا۔

مریم نواز کا ٹویٹر پر نواز شریف کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر پر مخالفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ” ‏تصویر کا مقصد تشہیر نہیں تذلیل تھا جو کہ ہر بار کی طرح الٹا ہو گیا۔جو لوگ زبردستی ICU میں گھس کر میری بیہوش ماں کی تصاویر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں،انکے لیے میاں صاحب کی گھر کی خواتین/بچیوں سمیت چھپ کر تصویر بنانا کیا مشکل ہے؟ اتنا ہی نیک کام تھا تو بزدلوں کی طرح چھپ کر کیوں کیا؟”

مریم نواز کا ایک اور ٹویٹ میں مخالفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ "‏انکو اصل تکلیف اس بات کی ہے کہ نواز شریف کو یہ اپنی پوری قوت اور طاقت کے اندھے استعمال کے باوجود نقصان نہیں پہنچا سکے۔ ان لوگوں نے میاں صاحب کو مارنے کی پوری کوشش کی لیکن الّلہ نے بچا لیا۔ نواز شریف کا خوف نا انکو جینے دیتا ہے نا چین سے حکومت کرنے دیتا ہے۔ یہی انکی سزا ہے”

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے مخالفین کو مؤثر جواب دیتے ہوئے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ” ‏جس طرح نواز شریف کی ایک جھلک سے انکے مخالفین کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اسی طرح اس تصویر سے جس طرح میاں صاحب کے چاہنے والے خوش ہوئے ہیں اور انکو حوصلہ ملا ہے،اس سے انکو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ایسی حرکتوں سے یہ صرف اپنا مزید نقصان اور میاں صاحب کا انجانے میں فائدہ کر جاتے ہیں”

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت سے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد اس وقت لندن میں علاج کی غرض سے مقیم ہیں، جن کی اس سے قبل بھی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ کسی ہوٹل میں موجود کھانا کھارہے تھے اور اس موقع پر ان کے بھائی شہباز شریف، دونوں صاحبزادے حسن اور حسین نواز کے علاوہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے

    Minister (4k + posts)

    The bigger question is how come this convict still out of jail? Why not release all other convicted women to be fair to every one? We still unfortunately live in two Pakistans … one is meant for us the common Pakistanis who are not rich nor connected and the other one is for the 5% elite rich and powerful who are the untouchables. Even the highest courts of the land are on their payroll.

    Senator (1k + posts)

    ‏گجراں دیاں سو سو مجاں تے فیر وی کنگلے ای کنگلے ‏لوہاراں دیاں دس مجاں تے لندن وچ بنگلے ای بنگلے

     

    (2 posts)

    الو کے پٹھے، آئے روز کونسی تصویریں آئی ہیں ۔چھ ماہ میں یہ دوسری تصویر ہے۔ اور صرف دو تصویروں نے تمہارا یہ حال کر دیا ہے۔ سوچو اگر آئے روز تصویریں آتیں تو

    (1 posts)

    سڑو ٹائیگرو سڑو، تم نے ایسے ہی سڑ سڑ کر مر جانا ہے۔ میں تو کہتا ہوں نوازشریف کو ہر روز اپنی ایک فوٹو شئیر کرنی چاہیے۔

    Minister (2k + posts)

    @Zaidi Qasim: Your poetry fits Nawaz Sharif very well. He was not even a drop before Zia’s time, became drop during Zia’s time, backstabbed Muhammad Khan Junejo and became president of Muslim League. Hamein yaad hai sab zaraa zaraa.

    In return, you can abuse IK or anyone else as much as you like. None of them is my father. I will keep exposing and condemning Army’s  involvement in politics and business, as well as wicked politics of Nawaz Sharif.

    If Army didn’t strike another deal with Nawaz ( through Shehbaz) last year, Nawaz would still have been in jail. He will still land in jail if his daughter started taking active part in politics. You never become anti-establishment by striking deals after deals with the very force you are fighting against. If he had struck deals with apartheid regime, Mandela would have never become Mandela. Was judiciary independent in apartheid South Africa? It wasn’t. But, Mandela suffered continuously for 27 years in jail. He couldn’t enjoy power except for last few years of his life. However, he became symbol of struggle all over the world and ended White supremacy in Sourh Africa once and for all.

    Chief Minister (12k + posts)

    ایک جھوٹے بزدل کرپٹ  بھگوڑے ڈیلیں کرنے والے نا اہل سے کسی کو کیاڈر ہو سکتا ہے؟ اسے اللہ سے ڈرنا چاہئے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے وہاں جہور نہیں چلے گا نہ کہ سکے گا میرے اساسے میری آمدن سے زیادہ ہے تو تمھیں اس سے کیا ؟

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More