سندھ:تمام مضامین میں فیل ہونے والے طلباء بھی کامیاب قرار

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی خطرناک وباء کے باعث ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، سندھ حکومت نے بھی بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کے تمام طلباء کو اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی گئی ہے جن میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو امتحانات میں تمام مضامین میں فیل تھے۔

بچوں کو اگلی کلاسوں میں ترقی دینے کا اعلان سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سندھ کے پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کے تمام طلباء کو امتحانات دیے بغیر اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جن میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو امتحانات کے دوران تمام مضامین میں فیل تھے، اگر کچھ طلباء اپنے مضامین میں بہتری کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کو اگلے سال امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

سعید غنی کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے  تعلیمی اداروں کو سکول کھولنے سے نہیں روکا بلکہ کرونا وائرس تھمنے تک تدریسی عمل کو روک رکھا ہے اور کسی بھی تعلیمی ادارے کو اپنی مرضی اور حکومت کی اجازت کے بغیر کھولنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، ہم نے یکم جون سے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، صورتحال کا جائزہ لے کر اور آئندہ کے لئے تعلیمی پالیسی کو اسٹیرنگ کمیٹی میں مرتب کرنے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ نویں سے لے کر بارہویں جماعت کے طلباء کو اگلی کلاسوں میں پرموٹ کرنے کے اعلان سے قبل ہم نے پہلی سے لے کر آٹھویں جماعت کے تمام طلباء کو اگلی کلاسوں میں پرموٹ کر دیا ہے، تاہم اس کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے ہم نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دو سے تین اجلاسوں کے دوران اپنی سفارشات مرتب کرلی ہیں جو آئندہ دو ہفتوں کے دوران اسٹیئرنگ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس کے سامنے رکھیں گے۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نویں اور گیارہویں جماعت کے طلباء کا ہمارے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اسی لئے ان کو بنا نمبر  اگلی کلاسوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا جبکہ یہ پروموٹ ہونے والےطلباء دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے کے پابند ہوں گے اور عین امتحانات کے دوران جو نمبر حاصل کریں گے ان کو بنیاد بنا کر نویں اور گیارہویں جماعت کے نمبرز کو بھی تصور کیا جائے گا، جس کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بغیر امتحانات کے نویں سے دسویں اور گیارہویں سے بارہویں جماعت میں پروموٹ ہونے والے بچوں کو نویں اور گیارہویں جماعت میں حاصل کردہ نمبروں میں تین فیصد کے حساب سے اضافی نمبر دے کر اگلی جماعتوں میں پرموٹ کر دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اگر کچھ بچے امتحانات میں تمام مضامین میں بھی فیل ہوں گے تو ان کو پاسنگ مارکس دے کر ہر صورت اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جائے گی، یہ قواعد و ضوابط سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کے لیے بھی ہیں جن پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے گا۔

    MPA (478 posts)

    سندھ  میں جیالے تیار کا کرنے کا فارمولا سعید غنی نے لیک کردیا ۔ نالائقوں کو پاس کردو پھر انکو سرکاری نوکری پر بھرتی کرلو تو جیالے تیار ہوجاتے ہیں

    Chief Minister (14k + posts)

    ملک چود پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کوئی نا کوئی طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں

    کونا کی وجہ سے بچے سارا دن گھروں میں ھوتے ہیں ان کو تو اگلی کلاس کو پڑھ لینا چاہئے۔

     

     

    ُ

    (1 posts)

    We should get rid of boards and should have a standard exam like SAT or ACT to be taken anytime one wants and use that as a standard for admission to colleges .

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More