وہ پرندہ جو ٹڈی دل کو تیزی سے ختم کرتا ہے لیکن لوگ اسے کھا جاتے ہیں

وہ پرندہ جو ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے انتہائی مددگار ہے لیکن ہمارے لوگ اسکو پکڑ کر کھاجاتے ہیں جس کی وجہ سے انکی نسل نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

اینکر عمران خان نے ویڈیو بلاگ میں تلئیر نامی پرندے کی خوبیاں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تلئیر ٹڈی دل کو مارنے کے لئے بہت قدرتی پرندہ ہے۔ لیکن ہمارے لوگ اس کو پکڑ کر کھا جاتے ہیں۔ یہ بہت تیز پرندہ ہے اور نیچی پرواز کرتا ہے۔ اسے ٹڈی دل کا دشمن سمجھاجاتا ہے۔

اس پرندے سے متعلق اینکر عمران خان نے مزید بتایا کہ یہ بھی فصلوں کے اندر ٹڈی دل کی طرح گھستا ہے لیکن یہ فصلوں کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ یہ ان تمام کیڑوں کو کھاتا ہے جو فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جتنی تیزی سے یہ حشرات کو ختم کرتا ہے، اتنی تیزی سے شاید کوئی پرندہ نہیں کرتا۔ اگر 6 تلئیر ہوں تو یہ ایک ایکڑ فصل کیلئے کافی ہیں۔ وہ کسی ایسے حشرات کو نہیں چھوڑتے جو فصل کو نقصان پہنچاتےہیں۔

عمران ریاض خان کا کہنا تھا کہ ہر سال لوگ لاکھوں کی تعداد میں پکڑ کر بیچ دیتے ہیں، لوگ اسکا گوشت کھاتے ہیں کیونکہ اسکا گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے۔ یہ شام کے وقت اور صبح کے وقت بہت نیچی پرواز کرتے ہیں، تو لوگ نیٹ لگاکر ان پرندوں کو پکڑتے ہیں اور ایک ایک دن میں ہزاروں کی تعداد میں تلئیر اکٹھے کرکے بیچے جاتے ہیں، اسے زیادہ تر امیر لوگ کھاتے ہیں۔

اینکر نے مزید کہا کہ وائلڈ لائف کی بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ وہ ان تلئیر کی نسل کو بچاتے، تلئیر بہت کم ہے پاکستان میں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تلئیر کا شکار غیرقانونی ہے لیکن محکمہ وائلڈ لائف کی ملی بھگت سے اسکا شکار کیا جاتا ہے اور یہ لاکھوں کی تعداد میں ٹولنٹن مارکیٹ میں بکتے ہیں۔

اینکر عمران خان کے تجزئیے سے چین کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ یہ 1958کی بات ہے جب چین میں چڑیوں اور حشرات الارض کے خلاف ایک سرکاری مہم شروع کی گئی جسے "گریٹ سپیرو کمپین” کا نام دیا گیا، اس کمپین کو "ایک چڑیا یا چار حشرات الارض کو مارو مہم ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس مہم کا مقصد چوہے، مکھیاں، مچھر، اور خاص طور پر چڑیوں کو تلف کرنا تھا۔ جو کہ فصل کے لیے بوئے گئے بیج کو نقصان پہنچاتے تھے۔

جب سرکار کی طرف سے چڑیوں کو مارنے کے بدلے انعام مقرر کیا گیا تو عوام نے چڑیوں کو تلف کرنے میں دن رات ایک کردیا۔ جب چڑیاں اڑتی ہوئی زمین کی طرف آ آتیں تو لوگ انہیں ڈراتے اور وہ واپس آسمان کی طرف اڑجاتیں، اور یہ عمل تب تک جاری رہتا جب تک کہ وہ تھک کے زمین پر گر نہ جاتیں اور تب انھیں مار دیا جاتا تھا۔ انکے گھونسلے، انڈے اور چھوٹے بچوں کو بھی ختم کر دیا گیا۔

اس مہم کے چلتے ماحولیاتی توازن میں ایسا بگاڑ پیدا ہوا کہ لینے کے دینے پڑ گئے۔ کھیتوں میں فصلوں کو نقصان پہنچانے والے ایسے حشرات کی بہتات ہوگئی جنھیں چڑیا ں تلف کر دیتی تھیں ۔ جب چڑیاں ہی مار دی گئیں تو ان حشرات میں اضافے کی شرح بڑھ گئی اور فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس سال چین نے بہت برے قحط کا سامنا کیا اور لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے اور تب حکومت کو احساس ہوا کہ چڑیوں کو مارنے کا انکا فیصلہ کتنا غلط تھا لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔

    Minister (3k + posts)

    Has anyone ever eaten this bird Tilyar? I think some people might be hunting them with airguns but large scale netting ? has anyone seen this bird being sold in hundreds and thiusands?

    2
    1

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More