اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا رچی کی اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد کر دی

تفصیلات کے مطابق امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی نے پولیس کی جانب سے سینیٹر رحمان ملک کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج نہ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دائر کر رکھی تھی، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری کی جانب سے دائر کی گئی اندراج مقدمہ کی درخواست کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد کردی، جسٹس اطہر من اللہ کا امریکی شہری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سنتھیا ڈی رچی کی درخواست میرٹ پر دائر نہیں کی گئی، آئین کے آرٹیکل 199 کے مطابق عدالت عالیہ انکوائری یا انویسٹی گیشن کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کااپنےمحفوظ فیصلے میں لکھنا تھا کہ ایف آئی اے کو سنتھیا ڈی رچی کی درخواست پر کارروائی کا مکمل اختیار ہے اور ایف آئی اے سے توقع ہے کہ وہ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر میرٹ پر کارروائی کرے گی۔

دوسری جانب سنتھیا ڈی رچی کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا کے نمائندے کے سوال پر کہ آپ ایک لمبے عرصے سے خاموش تھیں کیا آپ کو پاکستان کہ عدالتی نظام پر یقین ہے؟ پر کہنا تھا کہ میں گزشتہ دس سال سے پاکستان میں رہ رہی ہوں اور اتنا عرصہ میرے خاموش رہنے کی وجہ یہ تھی کہ میں اس وقت کے سب سے طاقتور انسان کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی تھی کیونکہ کسی نے میرا یقین نہیں کرنا تھا۔

عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے سنتھیا ڈی رچی کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کے عدالتی نظام پر پورا بھروسہ ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے گا، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے بے نظیر کے بارے میں جو بھی باتیں کہی ہیں وہ اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے مجھے بتائی تھیں اور میں یہ واضح طور پر بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں سچ اور انصاف پر یقین رکھتی ہوں، پاکستان زندہ باد

سنتھیا ڈی رچی کے وکیل کا میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سینیٹر رحمان ملک اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں دینے کے لیے ہماری درخواست تیار ہے، اب وہ حکومت میں بھی نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہمارے خلاف ایف آئی آر پر ایف آئی آر درج کروائی جا رہی ہیں، آپ اندازہ کریں کہ اگر ہم نے یہی الزام تب لگایا ہوتا جب وہ وزیر داخلہ تھے تب ہمارا الزام کسی بھی پلیٹ فارم پر اینٹر ٹین ہو سکتا تھا۔

سنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے کہا کہ جیسے ہی ہم نے ان پر الزامات لگائے تو انہوں نے میری موکلہ کے گھر والوں تک رسائی حاصل کرکے ان کو سنگین قسم کی دھمکیاں دیں جس کی وجہ سے میری موکلہ بہت مایوس ہو چکی ہے، جب ہم نے تمام الزامات کی بنا پر یہاں پر پولیس کو درخواست دی تو پولیس نے بنا کسی تفتیش کے ہماری درخواست کو فائل کر دیا، لیکن ہمارے پاس متعلقہ فورم سے رابطہ کرنے کا استحقاق موجود ہے۔

  • یہ فیصلہ تو ٹھیک ہی کیا ہوگا مگر یہی آئین کا آرٹیکل ایک سو نناوے کہاں  اور کس کے …….  میں گھس جاتا ہے جب عدالتنیں ، یا ادوں  مجرموں ماڈل ٹاؤن کے لعنتی قاتلوں  مجرمو حرام خوروں چوروں فراڈیوں منی لا نڈروں کی انکوائری یا انوسٹی گیشن میں مداخلت کر کے انکو ناجائز ضمانت یا ریلیف دیتی ہیں 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >