یورپی ممالک کی پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی؟شفاء یوسف زئی نے حقائق بتا دیے

اینکر پرسن شفاء یوسف زئی کا کہنا ہے کہ یورپ کی جانب سے فلائٹ آپریشن کی معطلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت یا وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نہیں ہیں، یہ معاملہ 2016 سے جاری تھا۔

نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن اور یوٹیوب ویڈیو لاگر شفا ء یوسف زئی نے اپنی ایک ویڈیو میں بیان کیا یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی(ای اے ایس اے) نے سال 2016 میں پی آئی اے کی روٹین انسپیکشن کے بعد 6 اعتراضات پر مبنی ایک رپورٹ حکومت پاکستا ن کوبھیجی تھی۔

شفاء یوسف زئی نے مزید کہا کہ اس وقت کی حکومت نے ان 6 میں سے 5 اعتراضات کو دور کرکے ای اے ایس اے سے درخواست کی کہ ہمارے فلائٹ آپریشن کو معطل نہ کیا جائے مگر جو آخری اعتراض تھا وہ ایس ایم ایس (سیفٹی مینجمنٹ سسٹم) کے حوالے سے تھا جس میں بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

شفاء یوسف زئی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندی کا تعلق غلام سرور خان کے بیان ، کراچی حادثے یا پائلٹس کے جعلی لائسنس سے نہیں ہے، یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا تھا اور اس پر پاکستان کو 17 جون تک مہلت دی گئی تھی ، اور بد قسمتی سے اس مہلت کے ختم ہونے سے پہلے ہی کراچی میں ایک جہاز کا حادثہ پیش آگیا، اور اس کی تحقیقات کے دوران پائلٹ کی بد احتیاطی بھی نظر آگئی۔

اس حوالےسے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حادثے کے بعد اس کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی ادارے پاکستان پہنچے ، فرانس اس جہاز کو بنانے والا ملک ہے، فرانس کی کمپنی نے جو تحقیقات کیں وہ اپنے حکام کو پوری رپورٹ دی ، اس سب کے بعد وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا بیان سامنے آیا کہ ہمارے پاس بہت سے پائلٹس جعلی لائنسز پر بھرتی ہوئے ہیں۔

اس سارے معاملے کو موجودہ حکومت کے کھاتے میں ڈال دینا نا انصافی ہے، موجودہ حکومت کا قصور بس اتنا ہے کہ انہوں نے ان دو سالوں میں سول ایوی ایشن کا ڈی جی تعینات نہیں کیا جس پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔

اس ادارے کو بھی سیاسی  حکومتوں نے اپنے  مفادات کیلئے استعما ل کیا اور اس ادارے کو بھی بربادی کے دہانے پر چھوڑ دیا گیا، اب اگر اس ادارے کو دوبارہ بحالی کی طرف لانا ہے تو بالکل صفر سے کام شروع کرنا ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >