معصوم بچے نے دل دہلا دینے والے واقعہ سے متعلق بھارتی جارحیت کی قلعی کھول دی

بھارتی ظلم کے خلاف کیا دنیا کو اس سے بھی بڑی کوئی گواہی چاہیے؟ معصوم بچے نے دل دہلا دینے والے واقعہ سے متعلق بھارتی جارحیت کی قلعی کھول دی

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی ایک نئی داستان رقم کی گئی جس میں قابض بھارتی فورسز نے ایک معمر کشمیری شہری کو شہید کر دیا، جبکہ اس کا کمسن نواسہ نانا کے سینے پر بیٹھ کر گریہ زاری کرتا رہا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اس واقعہ کو کراس فائرنگ قرار دیا ہے۔ بھارتی فورسز کے مطابق ان پر مسلح گروہ کی جانب سے حملہ کیا گیا اور جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی جانب سے بھی گولیاں برسائی گئیں جبکہ شہید ہونے والے کشمیری شہری راہ چلتے گولی کا نشانہ بنے۔

شہید کشمیری کی شناخت سری نگر مصطفیٰ کالونی ایچ ایم ٹی کے رہنے والے بشیر احمد خان ولد غلام محمد خان کے نام سے ہوئی۔

دوسری جانب شہید ہونے والے بشیر احمد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بشیر احمد ایک ٹھیکے دار تھے، وہ اپنے 3 سالہ نواسے عیاد جہانگیر کو اپنے ساتھ لے کر سوپور میں تعمیراتی سائٹ پر جارہے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق ان کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے قتل کیا ہے۔

بشیر احمد کے بیٹے نےبھی ایک بیان میں کہا کہ ان کے والد صبح چھ بجے گھر سے نکلے، ان کا سوپور میں کام چل رہا تھا۔ وہاں فائرنگ شروع ہوئی اور سی آر پی ایف نے ان کو گاڑی سے اتار کر مار ڈالا۔

سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ نے بشیر احمد کی ہلاکت پر کہا کہ میرے لئے کہنا مشکل ہے ہلاکت کیسے ہوئی اس کو کراس فائرنگ کہہ سکتے ہیں۔

جب کہ دوسری جانب شہید نانا کی لاش کے سینے پر بیٹھ کر آہ و بقا کرنے والے بچے عیاد جہانگیر کی ایک ویڈیو سامنے آ گئی ہے جس میں خاتون اس سے پوچھتی ہیں کہ بڑے پاپا صبح اس کے ساتھ تھے پھر بعد میں کیا ہوا؟

جس پر معصوم عیاد جہانگیر کہتا ہے کہ "ان کو انہوں نے مار دیا”، خاتون کے دوبارہ پوچھنے پر عیاد جہانگیر کہتا ہے کہ "بڑے پاپا کو پولیس نے ٹھاہ ٹھاہ کر کے مار دیا”۔

سوشل میڈیا پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک بچے کی تصویر وائرل ہو رہی ہے جو اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس بچے…

Posted by VOA Urdu on Wednesday, July 1, 2020

دنیا پاکستان کے موقف سے اختلاف تو کر سکتی ہے مگر اس معصوم بچے نے اپنے انداز میں جس طرح واقعہ بیان کیا ہے اس سے مکرنا بھارت کے بس کی بات نہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >