آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر چلنے والی من گھڑت خبروں کی تردید کر دی

بھارتی میڈیا صبح شام جھوٹی کہانیاں اور افسانے گھڑنے میں مصروف ہے۔ غیر جانبدار اور غیر ملکی مبصرین کے مطابق چین کو بھارت کی ٹھکائی کیلئے کسی غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں ہے چینی مسلح افواج بہادر اور باصلاحیت ہیں، وہ بھارتیوں کو باآسانی سبق سکھا سکتی ہیں اب وہ لداخ سے بھارت کو بے دخل کرکے ہی دم لیں گی۔

دراصل چین کے ہاتھوں بھارتی فوج مسلسل شکست خوردہ ہے اور بھارتی حکومت اپنے عوام کو حقیقت سے بے خبر رکھنا چاہتی ہے اور وہ اپنی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں مصروف عمل ہے، اس مقصد کے لئے بھارتی میڈیا اپنی حکومت کا آلہ کار بن کر رہ گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایل او سی پر پاک فوج کے مزید دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھارتی میڈیا پر چلنےوالی خبر کی تردید کر دی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں ایل او سی پر پاک فوج کی اضافی تعیناتی کی بھارتی خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔

آئی ایس پی آر کاکہنا ہے کہ بھارتی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر زیرگردش خبر غلط، غیرذمہ دارانہ اور سچائی سے کوسوں دور ہے۔ گذشتہ چند روز کے دوران بھارتی میڈیا کے ایک حصے میں اس طرح کی خبریں رپورٹ کی گئی تھیں کہ پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ گلگت بلتستان میں مزید فوج تعینات کی جا رہی ہے۔

انہی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان میں واقع سکردو ایئر پورٹ چین استعمال کر رہا ہے، جہاں وہ بھارت پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوئی نہ ہی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہم پاکستان میں چینی فوج کی موجودگی کی بھی تردید کرتے ہیں‘۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جون میں پاکستانی ہوائی اڈے پر چین کے 40 سے زائد جے 10 فائٹر طیارے دیکھے گئے ہیں۔ ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی فوج پاکستانی فضائی مرکز کو استعمال کر کے انڈیا پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

بھارتی انٹیلی جنس کی بنیاد پر دی گئی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ لیہ سے قریب ہونے کی وجہ سے چینی فوج سکردو ایئربیس کو انڈیا پر حملے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

لیہ سے 100 کلومیٹر دور واقع سکردو ایئر پورٹ کا چینی فضائی اڈوں سے موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا تھا کہ علاقے سے قریب ترین چینی ایئر بیسز کاشغر، ہوتان اور نگری گورگنسا ہیں جن کا فاصلہ سکردو کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی ایئرفورس پاکستانی ایئربیس کو استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر میں واقع لداخ اور کشمیر کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >