آج بھی گھر سے جلی ہوئی لاشوں کا تعفن اٹھتا ہے : پی آئی اے حادثہ پر گھر کھنڈر بن گئے

پی ائی اے کا طیارہ 22 مئی کو کراچی کے علاقے ماڈل کالونی کی جس گلی میں کریش ہوا تھا وہاں کے مکان آج بھی رہنے کے قابل نہیں یہ گھر کسی کھنڈر کا سماں پیش کرتے ہیں۔ڈیڑھ ماہ کے قریب عرصہ گزر جانے کے باوجود ان مکانوں میں بجلی، گیس یا پانی میسر نہیں کھڑکیاں، دروازے اور دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ان گھروں میں ملبہ اور کچرا پڑا ہے اور یہاں پر لاشیں جلنے سے آج بھی تعفن اٹھتا ہے۔

کراچی طیارہ حادثہ: 'آج بھی ہمارے گھر سے جلی ہوئی لاشوں کا تعفن اٹھتا ہے'

کراچی طیارہ حادثہ: 'آج بھی ہمارے گھر سے جلی ہوئی لاشوں کا تعفن اٹھتا ہے'پی آئی اے طیارہ حادثے میں تباہ ہونے والے گھر تقریباً ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے: https://www.independenturdu.com/node/40311

Posted by Independent Urdu on Wednesday, July 1, 2020

اس گلی کے رہنے والے متعدد لوگ دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں اور گلی کو ایک رکاوٹ لگا کر سیل کیا گیا ہے جہاں 4 اہلکارتعینات ہیں۔ جس میں سے دو اہلکاروں کا تعلق پی آئی اے سے ہے۔

چند روز قبل پی آئی اے نے اسی گلی کے ایک مکان کی چھت پر بری طرح دھنسے ہوئے جہاز کے 17 میٹر لمبے اور انتہائی وزنی پر کو کرین کی مدد سے اٹھوا لیا تھا جس کے بعد اب طیارے کی کوئی باقیات یہاں موجود نہیں۔ اس کے باجود گلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے ہم اسے ‘ڈیزاسٹر ٹورازم سپاٹ’ یعنی تباہ حال سیاحتی مقام نہیں بنانا چاہتے۔

اتنی احتیاط اور روک ٹوک کی وجہ سے نہ صرف تجسس پیدا ہوتا ہے بلکہ ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں کہ آخر گلی کے داخلی راستے پر رکاوٹ لگا کر دنیا سے کیا چھپایا جارہا ہے۔ گلی میں جانا کیوں ممنوع ہے، اور کیا اگلے کئی ماہ تک یہ گھر اسی حالت میں رہیں گے۔

کراچی، ماڈل کالونی، جناح گارڈن کی گلی نمبر دو کے رہائشی عبدالرافع کے گھر کے باہر پی آئی اے کا یہ طیارہ کریش ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ ان کے برآمدے میں بیٹھی گھروں میں کام کرنے والی تین لڑکیاں بری طرح جھلس گئی تھیں، ان کے گھر کی حالت اب کسی کھنڈر سے کم نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جہاز تباہ ہونے کے بعد ان کے گھر میں آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں آنا شروع ہوگیا۔ اس وقت گھر کے تمام افراد جن میں پانچ چھوٹے بچے اور ایک دادی بھی شامل تھیں فوری طور پر گھر کے پیچھے والے ایک کمرے میں جمع ہوگئے جہاں ان کے ساتھ وہ تین جھلسی ہوئی لڑکیاں بھی تھیں۔

ان کے گھر کے برآمدے کے ساتھ والے ایک بڑے کمرے میں جلی ہوئی لاشوں کو رکھا گیا تھا جہاں وہ کئی گھنٹوں تک پڑی رہیں۔ یہاں تک کہ آج بھی ان کے کچھ ٹکڑے اور کالے دھبےاس کمرے کی زمین پر موجود ہیں۔

عبدالرافع کے مطابق جب انہیں اور ان کے خاندان کو ریسکیو کرلیا گیا تو اگلے دو دن تک ان کا گھر رینجرز کی تحویل میں رہا۔ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو ان کے گھر کی دیواریں سیاہ ہو چکی تھیں اور شدید تعفن اٹھ رہا تھا، گھر کا کافی سامان غائب یا تباہ ہوگیا تھا۔

عبدالرافع کی والدہ انیلا اظہر نے جو ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ گھر کا بقیہ سامان شفٹ کرنے کے لیے روزانہ کئی چکر لگا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی مفلوج ہوگئی ہے، ہمارے رابطے ختم ہوگئے ہیں، ہمارا گھر تباہ ہوگیا ہے، ہم دربدر ہوگئے ہیں۔ اس حادثے میں جن لوگوں کا جانی نقصان ہوا تھا لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف وہی متاثر ہوئے ۔ کیا کسی کو خبر بھی ہے کہ ہم کس حالت میں ہیں؟

پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس معاملے کی اچھی طرح خبر ہے اور ہم نے متاثرین کو چھ ماہ کے کرائے کی رقم بھی فراہم کی ہے البتہ گھروں کی مرمت کے معاملے پر ہماری سروے ٹیم نے تمام متاثرہ گھروں کا سروے کیا ہے اور ہم تین سے چار ماہ میں ان گھروں کو نئے سرے سے تعمیر کروائیں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >