پاکستان سٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال کار جیو کے ڈرامے کے سین میں بھی موجود

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے میں دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی جیو ٹی وی کے ڈرامے میں نظر آگئی۔ جیو کا بھی موقف سامنے آگیا۔

کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں استعمال ہونے والی کار اتفاقاً جیو کے ڈرامے دیوانگی کے ایک سین میں نظر آ چکی ہے، جیو نے تفتیش میں تعاون کے لیے ڈرامے کی متعلقہ قسط کی مکمل ریکارڈنگ تفتیشی حکام کے حوالے کر دی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر29 جون 2020 ءکو ہونے والے دہشت گرد حملے میں نیلے رنگ کی ٹیوٹا کرولا گاڑی نمبر بی اے پی 629 استعمال کی گئی تھی، نجی ٹی وی پر دو روز قبل نشر ڈرامہ ہل پارک کی پارکنگ میں شوٹ کیا گیا تھا۔

ڈرامہ بدھ کے روز نشر ہوا ، جیو کے مطابق ریکارڈنگ 10 ماہ قبل ہوئی جس کے بعد جیو نے تفتیشی حکام کو قسط کی مکمل ریکارڈنگ اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں استعمال گاڑی دہشت گرد کے نام پر نکلی تھی، گاڑی ہل پارک کی پارکنگ میں کیا کررہی تھی، تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ڈرامے کی یکم جولائی 2020 ءکو نشر ہونے والی قسط نمبر 33 میں ڈرامے کے دو کردار گفتگو کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک کار پر یہی نمبر نظر آتا ہے۔

چند روز قبل پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے خریدی گئی کار کے شو روم پر سیکیورٹی اداروں نے چھاپہ مارا تھا، چھاپے کے دوران شو روم کے مالک سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

جیو حکام کا کہنا ہے کہ وہ سٹاک ایکسچینج دہشتگردی کی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہر قسم کے تعاون کو تیار ہیں، اس سلسلہ میں انہوں نے ڈرامے کی مکمل ریکارڈنگ اداروں کے حوالے کردی ہے÷

دوسری جانب ذرائع کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق شواہد تحویل میں لے لیے گئے تھے، شوروم کے مالک نے گاڑی کی ملکیتی دستاویزات اداروں کے حوالے کیں۔

خیال رہے کہ 29 جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور اسٹاک ایکسچینج کے 3سیکیورٹی گارڈز سمیت 7 افراد شہید ہوگئے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں دہشتگرد مارے گئے تھے۔

  • میر شکیل الرحمن اور جیو نیوز خود دہشت گردی میں ملوث ہیں اس بات کا اندازہ لگاؤ کہ حامد میر روزانہ کی بنیاد پر اپنے پروگراموں میں مسنگ پرسن کی بات کرتا تھا حالانکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جو دہشت گرد مارے گئے تھے وہ مسنگ پرسن میں شامل تھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >